Slide Background
نسیم حجازی: فلسفہ ادب، مقصدیتِ فن اور احیائے شعور کا پیامبر
ادب جب محض حسنِ الفاظ کی آرائش سے بلند ہو کر تعمیرِ افکار، تطہیرِ کردار اور بیداریِ اقوام کا فریضہ انجام دینے لگے تو وہ محض فن نہیں رہتا، ایک عہد آفریں تحریک بن جاتا ہے۔ نسیم حجازی کا ادبی سفر اسی نظریہ حیات و کائنات کی ترجمانی کرتا ہے۔نسیم حجازی اردو ادب کی تاریخ کا وہ ممتاز نام ہیں جن کی تخلیقی کائنات میں ادب، تاریخ اور فلسفہ حیات ایک دوسرے سے پیوست دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قلم محض جذبات کی عکاسی یا الفاظ کی مرصع کاری کا وسیلہ نہیں، بلکہ انسانی شعور کی تہذیب، قومی احساس کی بیداری اور اجتماعی زندگی کی تعمیرِ نو کا اہم ذریعہ ہے۔ ان کی ادبی فکر کا بنیادی جوہر مقصدیت، معنویت اور تعمیرِ سیرت سے عبارت ہے۔اپنے ادبی نظریے کی توضیح کرتے ہوئے نسیم حجازی رقم طراز ہیں :
‘‘ادب برائے ادب کا نعرہ بلند کرنے والے حضرات شاید میری اس کاوش پر برہم ہوں، لیکن میں ادب کو محض تضیحِ اوقات اور ذہنی انتشار کا ذریعہ بنانے کا قائل نہیں۔ نظام کائنات میں ایک غایت درجے کا توازن ہماری زندگی کے کسی فعل کو بے مقصد ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔’’
یہ الفاظ ان کے پورے ادبی منشور اور تخلیقی نصب العین کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے نزدیک ادب کی معنویت محض جمالیاتی حظ آفرینی، حسنِ بیان اور تخیل کی تسکین تک محدود نہیں، بلکہ اس کا منصب انسانی فکر کی تہذیب، اخلاقی شعور کی بالیدگی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح بھی ہے۔ جب کائنات کا پورا نظام نظم، توازن اور مقصدیت کے تابع ہے تو انسانی تخلیق کو بے مقصد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہی تصور ان کے ہاں ادب کو ایک ذمہ دارانہ تخلیقی عمل کا درجہ عطا کرتا ہے۔نسیم حجازی نے اپنے قلم کے ذریعے تاریخ کے ان ابواب کو زندہ کیا جن میں قومی خودداری، جذبہ حریت، ایثار، استقامت اور کردار کی رفعت کے نقوش ثبت ہیں۔ ان کے تاریخی ناول محض ماضی کی داستانیں نہیں، بلکہ حال کے ادراک اور مستقبل کی تعمیر کے لیے فکری محرکات ہیں۔ وہ تاریخ کو جامد واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ شعور سمجھتے ہیں جو قوموں کو اپنے عروج و زوال سے سبق سیکھنے اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ان کے فن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادب کو زندگی سے فرار کا وسیلہ بنانے کے بجائے اسے زندگی کے حقائق سے مکالمے، شعور کی بیداری اور کردار کی تعمیر کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک حسنِ فن اور مقصدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ جب تخلیقی حسن کسی بلند تر انسانی قدر کی ترجمانی کرتا ہے تو اس کی معنویت دوچند ہو جاتی ہے۔
یہ ویب سائٹ نسیم حجازی کی اسی فکری، ادبی اور تاریخی میراث کی بازیافت و اشاعت کی ایک کاوش ہے۔ اس کا مقصد ان کی تصانیف، افکار اور اسلوبِ نگارش کو محفوظ کرنا، ان کے ادبی جہان کے مختلف گوشوں کو اہلِ علم و ادب کے سامنے آشکار کرنا اور نئی نسل کو اس قلم کار سے روشناس کرانا ہے جس نے ادب کو محض اظہارِ ذات نہیں، بلکہ تعمیرِ ذات و ملت کا وسیلہ سمجھا۔نسیم حجازی کی ادبی میراث آج بھی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ زندہ ادب اپنے عہد کی سرحدوں میں محصور نہیں رہتا، بلکہ نسلوں کے شعور کو متاثر کرتا اور تاریخ سے مکالمے کے نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ ان کا نام اسی روایت کا امین ہے جس میں قلم کی حرمت، فکر کی مقصدیت اور تاریخ کا شعور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
ظفر حجازی
وفاقی ٹیکس محتسب اسلام آباد

نسیم حجازی کی شخصیت و خاندانی پس منظر

نسیم حجازی کی، ہمارے خاندان کی ایک تاریخ ہے جس کا کچھ احاطہ ان کے ناول ”خاک اور خون” میں ملتا ہے۔ اس ناول میں ایک مقام پر سلیم کا کردار افسانوی ہو جاتا ہے کیونکہ نسیم حجازی تقسیم کے وقت کوئٹہ مقیم تھے۔ باقی کردار زیادہ تر حقیقی ہیں۔ میرے دادا کے گیارہ قریبی عزیز اور چھ قدرے دور کے عزیز تقسیم کے فسادات میں اور دورانِ ہجرت شہید ہو گئے تھے۔نسیم حجازی کے اجداد کی تاریخ کا ڈاکٹر اشرف گل نے اپنے تھیسز میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ہمارے اجداد اٹھارویں صدی کے آغاز میں مشرقی پنجاب میں دریائے بیاس کے کنارے ایک گاؤں ٹاہلی میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ اولین اشخاص جن کا کہیں ذکر ملتا ہے ان کے نام حسن علی خان اور رحمت اللہ خان تھے۔ وہ کہاں سے آئے تھے اس کا کوئی تحریری ذکر یا سراغ نہیں ملتا۔ گمان یہی ہے کہ چونکہ اس وقت ہندوستان میں فرنگی کے خلاف بہت سارے علاقوں میں مزاحمت جاری تھی، یہ خاندان بھی کہیں لڑتے بھڑتے بچ کر اور مایوس ہو کر ایک کم آباد علاقے میں گمنامی کی زندگی گزارنے کے لیے آیا ہوگا۔ (اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ 1831 میں سید احمد شاہ بریلوی، سید اسماعیل شہید اور بہرام خان ارباب چند دیگر مجاہدین کے ساتھ انتالیس روز تک ہمارے مذکورہ بالا اجداد کے مہمان رہے تھے )۔
1857 کی جنگِ آزادی کے بعد اس خاندان کو ایک بار پھر گوشہ گمنامی میں جانے کے لیے ہجرت کرنا پڑی اور رحمت اللہ خان کے ہوتے ہوئے، نسیم حجازی کے پڑدادا محمد عارف نے گورداس پور کے ایک گاؤں سجان پور کو مسکن بنایا۔ محمد عارف سجان پور میں اپنی پچھلی شناخت کو چھپانے کے لیے اپنے نام کے ساتھ چوہدری لکھتے تھے۔
نوٹ :نسیم حجازی کا اصل نام محمد شریف تھا۔ انہوں نے نسیم حجازی کے قلمی نام سے لکھا۔ کچھ لوگ قلمی نام کے حوالے سے سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارے خاندان کا تعلق عرب سے ہے۔ میں یہ بات درست نہیں سمجھتا۔ نسیم حجازی نے قلمی نام علامہ اقبال کے شعر نسیمے از حجاز، آید کہ ناید سے متاثر ہو کر اپنایا تھا۔
ٹاہلی گاؤں میں بسنے والے خاندان کے ایک فرد کا سجان پور آ کر اپنے نام کے ساتھ چوہدری لکھنا اور ان کی ہجرت کے اوقات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خاندان فرنگی تسلط کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیتا رہا اور ٹوٹتا، بکھرتا اور بھٹکتا رہا اور سجان پور میں آخر کار کاشتکاری کا پیشہ اختیار کیا۔
چوہدری محمد عارف کی اکلوتی اولاد رحمت اللہ تھے۔ رحمت اللہ کے تین بیٹے تھے جن میں سے نور محمد نسیم حجازی کے دادا یعنی والد محمد ابراہیم کے والد تھے۔ محمد ابراہیم نے میٹرک کے بعد کاشتکاری کی بجائے سرکاری نوکری اختیار کی۔ وہ تحصیلدار تھے اور جب انگریز نے فشریز کا محکمہ قائم کیا تو وہ فشریز میں انسپکٹر مقرر ہو گئے۔ دوران ملازمت وہ وزیرآباد میں بھی مقیم رہے۔ میری دادی کی وفات وزیرآباد میں ہوئی اور وہیں دفن ہو گئے۔ تقسیم کے وقت ہجرت کرکے فیصل آباد کے ایک گاؤں صاحب چک آئے اور وہیں فوت ہو گئے۔ نسیم حجازی 1948 میں کوئٹہ سے ایبٹ آباد منتقل ہو گئے اور بعد ازاں راولپنڈی منتقل ہوئے، جہاں 1996 میں وفات پا گئے

ظفر حجازی

ان کے قلمی نام کے بارے میں دستیاب سوانحی روایات کے مطابق ان کے عربی کے استاد غلام مصطفیٰ نے انہیں "نسیم حجازی” کا نام اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ بعد میں یہی نام اردو ادب میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔

بلاشبہ نسیم حجازی نے صحافت کے دشت میں بھی غواصی کی اورناول نگارکے طورپر بھی اپنامقام بنایا ۔ وہ صحافی تھے یاناول نگار اس بحث سے قبل اس حقیقت سے آگاہی ضروری ہے کہ ان کامطمع نظر ابلاغ تھا ایک ایساابلاغ جس کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں۔اک ایسا فرض جوگمراہ قوم کواپنے اسلاف کی تعلیمات پرعملدرآمد کی دعوت دے جوانہیں بتائے کہ تمہارے آباؤاجداد کیاتھے اورتم کیاہو وہ محض مسلمان ہوکرزمانے میں معزز تھے اورتم نہ صرف ہاتھ پرہاتھ دھرے منتظر فرداہو بلکہ تارک قرآن بن کر دنیابھرمیں ذلیل وخوار ہورہے۔ افرادی قوت اوروسائل ہونے کے باوجود تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہوتی تمہیں گاجرمولی کی طرح کاٹا جارہاہے تمہارے وسائل پرقبضے کیے جارہے ہیں۔تم پرغلامی کی سیاہ رات کوطویل کرنے کیلئے تمام صلاحیتوں کااستعمال کیاجارہاہے۔ وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں جن سے وہ تمہیں نیست ونابود کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوسکیں تو بھی ایک ایسی غلامی کاطوق تمہاری گردنوں میں ڈال دیاجائے کہ تم اس طوق سے کبھی آزادی حاصل نہ کرسکو ۔نسیم حجازی نے صحافت کے میدان کاانتخاب اس لیے کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے برسوں سے سوئی ہوئی قوم کوجگائیں ان میں آزادی کی روح پھونک سکیں۔ہندو بنیے سے نجات اورعلیحدہ مملکت کی تشکیل کیلئے اپنے حصے کاکردار اداکرسکیں۔ اسلامی تاریخ سے انہیں شروع ہی سے گہرا لگاؤ تھا وہ لکھاری تو تھے ہی اوریہ بھی جانتے تھے کہ وہ لکھ سکتے ہیں۔ کہانیاں ان کے شعور میں جنم لیتی تھیں کیونکہ بچپن ہی سے وہ گھر میں بزرگوں سے کہانیاں سنا کرتے تھے اپنے ایک انٹرویو میں نسیم حجازی کہتے ہیں۔
‘‘میرے گاؤں میں ایک ایساپرچون فروش تھا جس کے گرد لوگ داستانیں سننے کیلئے جمع ہوتے تھے کئی دوسرے بچوں کی طرح میں بھی اس کی زبانی کہانیاں سنا کرتا تھا یہ کہانیاں عجیب وغریب قسم کی ہوتی تھیں اوربعض اوقات مجھے ان پرہنسی آجایا کرتی تھی لیکن یہ تاثر بھی میرے ذہن میں ضرور پیدا ہوتا تھا کہ دنیا میں نیکی وبدی کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اورہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاکو خواہ کتناطاقتور اورظالم ہو یادیو کتنا ہی ہیبت ناک ہو اورچڑیلیں اوربھوت خواہ کتنے ہی خوفناک وبھیانک ہوں بالآخر وہ تمام کسی نیک اوربہادر انسان سے شکست کھاجاتے ہیں۔ دنیا کی بہترین داستانیں وہی ہیں جونیکی وبدی کے تصادم سے جنم لیتی ہیں میں اسکول میں داخل ہوا تو گاؤں سے سکول اورسکول سے گاؤں جاتے ہوئے وہ کہانیاں سنایا کرتا تھا جومیرے اپنے ذہن میں پیداہوا کرتی تھیں کہانیوں سے میری دلچسپی نے مجھے افسانے اورناول پڑھنے کی طرف راغب کیا

Disclaimer

نسیم حجازی کے ادبی ورثے کی امانت:ایک ضروری وضاحت

نسیم حجازی اردو ادب کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں، جن کے تاریخی ناولوں نے کئی نسلوں کے اذہان و قلوب پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ ان کی غیر معمولی مقبولیت اور قارئین میں ان کے نام سے وابستہ ادبی کشش کے باعث ہندوستان میں بعض ایسے ناول بھی شائع کیے گئے، جنہیں نسیم حجازی سے منسوب کیا گیا، حالاں کہ وہ ان کی تحریریں نہیں ہیں۔بظاہر ان ناولوں کے مصنفین نے نسیم حجازی کی شہرت اور مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کا نام استعمال کیا، تاکہ قارئین کی توجہ حاصل کی جا سکے اور ان کتابوں کی فروخت میں اضافہ ہو۔ تاہم، کسی تحریر کو محض کسی ممتازادیب کے نام سے منسوب کر دینے سے وہ اس کی تخلیق نہیں بن جاتی، اور نہ ہی ادبی دیانت اس نسبت کو قبول کرنے کی اجازت دیتی ہے جس کی تصدیق نہ ہو۔نسیم حجازی خود کہا کرتے تھے ”مجھے اپنے ناولوں کی رائلٹی ملتی ہے اور بہت ملتی ہے لیکن میرے لیے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ میرے نام سے وہ ناول بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو میں نے نہیں لکھے”۔
نسیم حجازی کی شخصیت، فن اور ادبی ورثے کے تحفظ کے پیشِ نظر اس ویب سائٹ پر ان کے مستند ادبی کام اور ان سے منسوب غیر مصدقہ تحریروں کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ ذیل میں درج ناولوں کو نسیم حجازی کی تصانیف شمار نہ کیا جائے، کیونکہ یہ ناول ان کے قلم سے تحریر نہیں ہوئے۔اس وضاحت کا مقصد کسی فرد یا ناشر کی کردارکشی نہیں، بلکہ ادبی تاریخ کی صحت، مصنف کی حقیقی شناخت اور قارئین کے علمی و ادبی حق کا تحفظ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ”ریختہ” جیسی مستند ادبی ویب سائٹ نے بھی یہ جعلی ناول بغیر تحقیق کے اپ لوڈ کر دیے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نسیم حجازی کا نام صرف انہی تخلیقات کے ساتھ وابستہ رہے جو حقیقتا ان کے قلم سے وجود میں آئیں، تاکہ ان کے عظیم ادبی ورثے کی شناخت آنے والی نسلوں تک درست صورت میں منتقل ہو سکے۔نسیم حجازی کے نام سے منسوب، مگر ان کی تصانیف نہ ہونے والے ناولوں کی فہرست درج ذیل ہے۔ یہ فہرست قارئین کی رہنمائی اور نسیم حجازی کے مستند ادبی ورثے کی حفاظت کے لیے مرتب کی گئی ہے۔
الفتح
بغاوت
زخمی عقاب
صلاح الدین یوسف
یلغار
خونِ مسلم
مسلمانوں کا قتلِ عام
جنگِ اسرائیل