نسیم حجازی دشتِ صحافت میں
نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔
صحافت سے آغاز
نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔
وابستہ اخبارات اور جرائد
- روزنامہ حیات
- روزنامہ زمانہ
- ہفت روزہ تنظیم
- روزنامہ تعمیر
- روزنامہ کوہستان
- ہفت روزہ ملت پاک
بلاشبہ نسیم حجازی نے صحافت کے دشت میں بھی غواصی کی اورناول نگارکے طورپر بھی اپنامقام بنایا ۔ وہ صحافی تھے یاناول نگار اس بحث سے قبل اس حقیقت سے آگاہی ضروری ہے کہ ان کامطمع نظر ابلاغ تھا ایک ایساابلاغ جس کے ذریعے قوم کی رہنمائی کی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں۔اک ایسا فرض جوگمراہ قوم کواپنے اسلاف کی تعلیمات پرعملدرآمد کی دعوت دے جوانہیں بتائے کہ تمہارے آباؤاجداد کیاتھے اورتم کیاہو وہ محض مسلمان ہوکرزمانے میں معزز تھے اورتم نہ صرف ہاتھ پرہاتھ دھرے منتظر فرداہو بلکہ تارک قرآن بن کر دنیابھرمیں ذلیل وخوار ہورہے۔ افرادی قوت اوروسائل ہونے کے باوجود تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہوتی تمہیں گاجرمولی کی طرح کاٹا جارہاہے تمہارے وسائل پرقبضے کیے جارہے ہیں۔تم پرغلامی کی سیاہ رات کوطویل کرنے کیلئے تمام صلاحیتوں کااستعمال کیاجارہاہے۔ وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں جن سے وہ تمہیں نیست ونابود کرنے میں کامیاب نہ بھی ہوسکیں تو بھی ایک ایسی غلامی کاطوق تمہاری گردنوں میں ڈال دیاجائے کہ تم اس طوق سے کبھی آزادی حاصل نہ کرسکو ۔نسیم حجازی نے صحافت کے میدان کاانتخاب اس لیے کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے برسوں سے سوئی ہوئی قوم کوجگائیں ان میں آزادی کی روح پھونک سکیں۔ہندو بنیے سے نجات اورعلیحدہ مملکت کی تشکیل کیلئے اپنے حصے کاکردار اداکرسکیں ۔ اسلامی تاریخ سے انہیں شروع ہی سے گہرا لگاؤ تھا وہ لکھاری تو تھے ہی اوریہ بھی جانتے تھے کہ وہ لکھ سکتے ہیں۔ کہانیاں ان کے شعور میں جنم لیتی تھیں کیونکہ بچپن ہی سے وہ گھر میں بزرگوں سے کہانیاں سنا کرتے تھے اپنے ایک انٹرویو میں نسیم حجازی کہتے ہیں۔ ‘‘میرے گاؤں میں ایک ایساپرچون فروش تھا جس کے گرد لوگ داستانیں سننے کیلئے جمع ہوتے تھے کئی دوسرے بچوں کی طرح میں بھی اس کی زبانی کہانیاں سنا کرتا تھا یہ کہانیاں عجیب وغریب قسم کی ہوتی تھیں اوربعض اوقات مجھے ان پرہنسی آجایا کرتی تھی لیکن یہ تاثر بھی میرے ذہن میں ضرور پیدا ہوتا تھا کہ دنیا میں نیکی وبدی کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آرہی ہے اورہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ڈاکو خواہ کتناطاقتور اورظالم ہو یادیو کتنا ہی ہیبت ناک ہو اورچڑیلیں اوربھوت خواہ کتنے ہی خوفناک وبھیانک ہوں بالآخر وہ تمام کسی نیک اوربہادر انسان سے شکست کھاجاتے ہیں۔ دنیا کی بہترین داستانیں وہی ہیں جونیکی وبدی کے تصادم سے جنم لیتی ہیں میں اسکول میں داخل ہوا تو گاؤں سے سکول اورسکول سے گاؤں جاتے ہوئے وہ کہانیاں سنایا کرتا تھا جومیرے اپنے ذہن میں پیداہوا کرتی تھیں کہانیوں سے میری دلچسپی نے مجھے افسانے اورناول پڑھنے کی طرف راغب کیا اسی زمانے میں میرے ایک استاد نے مجھے‘‘الفاروق’’ پڑھنے کیلئے دی علامہ شبلی کی بدولت میرے دل میں اپنی شناخت کی تڑپ پیداہوئی اوریہ دو امنگیں یعنی ایک ناول نگار بننے کی خواہش اوراس کے ساتھ ہی اپناملی تشخص اجاگر کرنے کی تڑپ دونوں یکساں طور پرمیری زندگی پراثرانداز ہوتی رہیں اسکول کی طرح کالج کے زمانے میں بھی میں نصابی کتب کے بجائے افسانوی ادب میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا اور 1934ئ تک دنیا کے کئی مشہور ناول نگاروں کے شاہکار پڑھ چکاتھا ’’ نسیم حجازی نوجوانی کے دور میں علامہ عنایت اللہ مشرقیؒ مرحوم سے متاثر تھے بعد میں وہ مولانا مودودیؒ مرحوم سے زیادہ مرعوب ہوئے اسی دوران وہ مرے کالج سیالکوٹ کے پروفیسر صوفی محمداشرف سے ملے تو انہوں نے ایک روز پوچھا تم کیابنناچاہتے ہو ؟ نسیم حجازی نے جواب دیا میں ایک بہت بڑا ناول نگار بنناچاہتاہوں اس لیے کہ میرے اندر کہانیاں جنم لیتی ہیں صوفی صاحب نے دونشستوں میں نسیم صاحب کوسمجھایا کہ مقصد حیات کیاہوناچاہیے پروفیسر صاحب نے انہیں دنیا کی مختلف زبانوں کے زندہ جاوید ناول نگاروں کے مطالعہ کامشورہ دیا ۔چنانچہ نسیم حجازی نے ٹالسٹائی،وکٹرہیوگو،چارلس ڈکنز ،فیلڈنگ ،ٹامس ہارڈی، گالز وردی اوبہت سے دوسرے ناول نگاروں کی تصانیف کھنگال ڈالیں ۔آنسہ عارفہ عباس اپنے مضمون‘‘شجرسایہ دار ’’ میں لکھتی ہیں کہ میں نے ایک روز تیسری نسل کی نمائندہ بن کرنسیم حجازی سے یہ سوال پوچھا کہ وہ اپنی زندگی میں کس سے متاثر ہیں تو انہوں نے جواب دیا۔‘‘ بہتی ہوئی ندیوں کی قوت ودلکشی کناروں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی ۔جوموجیں ٹوٹے ہوئے کناروں سے باہر نکل جاتی ہیں انہیں جوہڑاوردلدل جذب کرلیتے ہیں اگر میں اپنے ادب کوشفاف پانی کی ایک ندی سے تشبیہہ دینے کی جسارت کرسکتاہوں تو مجھے اس حقیقت کااعتراف بھی کرنا پڑے گا کہ علامہ اقبال اورمولانا مودودی میرے وہ مضبوط کنارے تھے ۔ جنہوں نے مجھے آلودگیوں سے پاک رکھا اورمیرے بہاؤ کارخ متعین کردیا اورمولانا شبلی نعمانی نے مجھے تاریخ اسلام کی وہ دلکش جھلکیاں دکھائیں جن سے میری داستانیں ر نگین ہوئیں’’ مندرجہ بالاصورتحال سے پتہ چلتاہے کہ ان کی ادبی زندگی کی راہ متعین کرنے میں علامہ محمداقبال ،مولانامودودی، مولانا شبلی نعمانی ،علامہ عنایت اللہ المشرقی اورمولانا عبدالستار خان نیازی کابڑا ہاتھ تھا۔ ریڈیوپاکستان سے ایک انٹرویو میں نسیم حجازی کہتے ہیں۔‘‘ آج تک میں اس سوال کاصحیح جواب نہیں دے سکا کہ میرے دل میں ناول نگاربننے کاخیال کس وقت پیداہوا ؟ ایک جواب میں کسی حد تک معقول سمجھتاہوں جویہ ہے کہ شاید میرے دل میں ایک ناول نگار بننے کاخیال اس وقت پیداہوا ہوگاجب میں نے کوئی اچھاناول پڑھنے کے بعد یہ محسوس کیا تھا‘‘ کہ میں بھی اس طرح لکھ سکتاہو یاشاید اس سے بہتر لکھ سکوں گا’’ ایسے میں بجاطورپر یہ کہاجاسکتاہے کہ وہ ایک ناول نگار بننے ہی کے خواہاں تھے صحافت کاخیال ان کے دل کے کسی کونے میں جاگزیں نہیں تھا بڑے ناول نگاروں اوراسلامی تاریخ کے مطالعہ سے ان میں ایک ناول نگار بننے کاجذبہ پیداہوا چنانچہ انہوں نے ناول کی ابتدائ کیلئے ‘‘شودر’’ کے عنوان سے اپنا اولین افسانہ لکھا۔ یہ افسانہ لاہور کے ایک معروف دینی رسالے‘‘ حقیقت اسلام’’ میں شائع ہوا قارئین نے اسے پسند کیانسیم حجازی کی خوشی نصیبی یہ تھی کہ جس عمر میں غیرمسلم اوربعض مسلمان طالب علم راون اورہنومان کے قصے سنا کرتے تھے ان کے بزرگ انہیں خالد بن ولیدؓ ،محمدبن قاسم ،طارق بن زیاد اورمحمود غزنوی کی ایمان افروز داستانیں سنایا کرتے تھے اپنے پہلے افسانے‘‘شودر’’ کے بعد اس تربیت ہی کی بدولت نسیم حجازی نے ایک طویل افسانہ ‘‘مجاہد’’ کے عنوان سے لکھا وہ کہتے ہیں ان دنوں میرا بیشتر وقت کلاسیکی ادب پڑھنے میں گزرتا تھا اورمسلسل پڑھتے رہنا میری عادت ثانیہ بن گیا تھا۔ یہ اسی مطالعہ اورشوق کاثمرہ تھا کہ افسانہ مجاہد لکھنے کے بعد میں نے محسوس کیاکہ اس کہانی کے اندر ایک پورے ناول کاپلاٹ موجود ہے اسی طرح ‘‘شودر ’’ افسانے میں بھی ایک پورے ناول کاپلاٹ موجود تھا چنانچہ انہوں نے1937ئ میں داستان مجاہد’’ کے نام سے اپناپہلا ناول لکھنے کافیصلہ کیا اور1938ئ میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچادیا اسے حسن اتفاق کہیے کہ مرحوم حمید نظامی اورمولانا عبدالستار خان نیازی ان دنوں ایک ہی مکان میں نسیم حجازی کے ہمراہ مقیم تھے اورنسیم حجازی کاکہناہے کہ‘‘مولانا عبدالستار خان نیازی وہ پہلے شخص تھے جومیرے تصنیفی کام میں بے حد دلچسپی لیتے تھے اورمیری حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے‘‘ ڈاکٹر تصدق حسین راجا اپنی کتاب‘‘نسیم حجازی ایک مطالعہ’’ میں بھی اس امرکاتذکرہ کرتے ہیں۔‘‘ جسٹس انوارالحق ،مولاناعبدالستار نیازی اورمرحوم حمید نظامی ان کے ہم عصر تھے’’ اب تک کے جائزے سے یہ پتہ چلتاہے کہ نسیم حجازی کوصحافت کاکوئی شوق نہیں تھا وہ بطورناول نگار اپنی عملی زندگی کاآغاز کرنا چاہتے تھے اسی مقصد کیلئے انہوں نے ابتدائی طورپر ‘‘ شودر ’’ اور‘‘مجاہد’’ کے عنوان سے افسانے لکھے اوربعد ازاں ان افسانوں میں ایک پورے ناول کے قالب میں ڈھلنے کے احساس سے اپنا پہلا ناول ‘‘داستان مجاہد’’ لکھا۔ہوسکتاہے مرحوم حمیدنظامی کی رفاقت کے باعث ان میں صحافت کاشوق پیداہوا مگر وہ بہرحال ایک ناول نگار تھے ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بہت کم انٹرویوز اورمضامین دیکھنے میں آتے ہیں کیونکہ خودنمائی سے گریز کی عادت کے تحت انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ کھل کر گفتگو نہیں کی ‘‘تحریک پاکستان اوربلوچستان’’ نامی کتاب میں اپنے ایک مضمون ‘‘قارئین سے چندگزارشات’’ میں لکھتے ہیں۔‘‘ چالیس سال قبل کے ان واقعات کی تفصیل اگر بیان کروں جومجھے مختلف مراحل حیات میں پیش آئے تھے تو ایک اچھی خاصی کتاب وجود میں آسکتی ہے کتابوں کالکھنا میرے لیے کوئی دشوار کام نہیں بلکہ ایک مشغلہ رہاہے اب تک تقریباً15 ناول لکھ چکاہوں جوکافی ضخامت رکھتے ہیں مدتوں ایک صحافی کی حیثیت سے بلامبالغہ ہزاروں صفحات قلم برداشتہ لکھے ہیں حرّیت بلوچستان اور بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کی داستان پرمشتمل ایک کتاب لکھناچاہتا تھا لیکن ضعف پیری اور خود نمائی سے گریز کاجذبہ مانع رہا’’ ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے اپنے ایک طویل انٹرویو میں وہ اس بات کااعتراف کرتے ہیں کہ ‘‘ میں جس طرح ہمیشہ سے ایک ناولسٹ تھا اسی طرح ہمیشہ سے ایک پاکستانی تھا ۔نسیم حجازی نے صحافت کی پرخاروادی میں کیوں قدم رکھا اس کی بنیادی وجہ حالات کی نامساعدت تھی۔ دنیا کے کلاسیکی ادب کے مطالعہ سے ان میں خاصی خوداعتمادی آچکی تھی اوروہ یہ سمجھتے تھے کہ ‘‘داستان مجاہد’’ کی اشاعت سے ان کے سارے مسائل حل ہوجائیں گے لیکن اس ناول کی تکمیل کے بعد ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا کوئی بھی ناشر ان کے ناول شائع کرنے کیلئے آمادہ نہیں تھا کیونکہ وہ نام نہاد ترقی پسند ادب کادور تھا ناشر حضرات‘‘داستان مجاہد’’ کاعنوان دیکھ کرتلملا اٹھتے اور کہتے آپ کس زمانے کی بات کرتے ہیں یہ ترقی پسند ادب کادور ہے ہم صرف ترقی پسند مصنفین کی کتابیں شائع کرتے ہیں نسیم حجازی ان سے اپنے ناول کامسودہ واپس لیتے ہوئے ایک بات ضرو رکہتے۔‘‘ جناب وہ دن دور نہیں جب یہ ناول ملک بھرمیں سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہوگا اورانشائ اللہ میری آنے والی ہرنئی تصنیف پچھلی تصنیف سے کہیں زیادہ مقبولیت حاصل کرے گی اوراس دن آپ اپنی اس گفتگو پرضرور ندامت محسوس کریں گے۔ نسیم حجازی کہتے ہیں میرے ان تصورات کے باوجود ‘‘داستان مجاہد’’ کامسودہ قریباً چھ سال میرے گلے کاہار بنا رہا 1939ئ میں جنگ شروع ہوگئی تو اس کے شائع ہونے کے امکانات اور بھی معدوم ہوگئے پھرحالات مجھے کراچی لے گئے اورمیں تین ماہ کیلئے روزنامہ‘‘ حیات’’ اوربعد ازاں ‘‘زمانہ’’ کاایڈیٹر مقرر ہوا ان حالات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ انہوں نے روزنامہ‘‘حیات’’ سے عملی صحافت کے میدان میں قدم رکھا لیکن اپنے مشن اور مقصد کوفراموش نہیں کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ کوانٹرویو میں نسیم حجازی کہتے ہیں۔‘‘ویسے بھی مجھے صحافت کاشوق کبھی نہیں تھابلکہ یہ میرا مشن تھا وہ مشن جوقرطاس وقلم سے ہے اوراب دوسرے محاذ پرجاری ہے’’ ہفت روزہ ‘‘مکتب’’ اسلام آباد کوایک انٹرویو میں صحافت وناول نگاری میں سے کسی ایک کے انتخاب کے سوال کاجواب دیتے ہوئے نسیم حجازی کاکہناتھا۔‘‘ میں ٹھہرا پیدائشی طورپر ناول نگار اورناول نگار کاوطن بھی ہوتاہے اوروطن کی خدمت ہی مجھے اس میدان میں لے آئی۔ ویسے صحافت میرے لیے سراسر گھاٹے کاسوداہے کوئی منافع بخش کاروبار نہیں تھا صحافت میرے لیے ایک عبادت تھی وہ بھی نیک نیتی سے مقصد سامنے رکھ کرلکھاکرتا تھا ایک مقصد کے دائرے میں میری کھیتی پہاڑ کے دوطرف تھی۔ پہاڑ کے ایک طرف میں کام کرتا تھا تو دوسری طرف کی کھیتی خشک ہونے لگتی تھی تو پھراس طرف توجہ دیتا تھا’’ یوں بجا طور پر یہ کہاجاسکتا ہے کہ نسیم حجازی نے ایک صحافی کی حیثیت سے کم وبیش 25برس تک مختلف اخبارات میں کام کیا لیکن ان کی عملی زندگی کاآغاز ناول نگار کی حیثیت سے ہوا البتہ عملی زندگی کی ابتدائ میں صحافت ہی ان کاذریعہ آمدن بنی ۔
روزنامہ‘‘ حیات ’’کراچی
نسیم حجازی اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں اپنی زندگی کے سفر کی سمت کاتعین کرنے کی جستجو میں مصروف تھے کہ حالات انہیں کراچی لے آئے سوجان پور ضلع گورداسپور کی بہ نسبت کراچی ان کیلئے ایک نئی جگہ تھی جہاں انہیں اپنے روزگار کابندوبست کرنا تھا ۔ ملازمت کی تلاش میں وہ اس امر کے خواہاں تھے کہ انہیں ایسی جاب ملے جس سے وہ ملک وقوم کی خدمت بھی کرسکیں یہ 1941ئ کے اوائل کازمانہ تھا وہ قلم وقرطاس سے اپنے رشتے کو جوڑنے کیلئے روزنامہ ‘‘حیات ’’سے وابستہ ہوگئے ۔روزنامہ‘‘حیات’’ کے مالک حاجی نذیر الدین تھے جواپنے اخبار کے ذریعے لوگوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کرتے ہوئے ان میں یہ شعور اجاگر کررہے تھے کہ ہندو اورانگریز کی غلامی سے نجات کے بغیر نہ مسلمان ترقی کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مرضی کے آزادانہ فیصلے کرتے ہوئے اپنے مستقبل کاتعین۔ ممتاز عمر اپنے مقالے میں لکھتے ہیں۔ ‘‘بے باکی اورحق گوئی کاعلمبردار نسیم حجازی پہلے پہل اپنی اسی خوبی کی بنائ پر کراچی کے‘‘روزنامہ ‘‘حیات’’ سے منسلک ہوا۔ جوانسانی اوراخلاقی اوصاف ان کے اندر تڑپ رہے تھے اورجواختلاف انہیں حکومت وقت سے تھا جسے وہ ایک سامراجی اوراستعماری قوت ہی نہیں بلکہ ایک دھوکے باز حکومت بھی گردانتے تھے کیخلاف کھل کرسامنے آیا۔ اگر بات انگریز حکمرانوں کی حد تک ہوجنہیں بالآخر ہندوستان چھوڑ کرجاناتھا تو بھی قابل برداشت ہوسکتی تھی مگر مسئلہ اس انگریزی حکومت کے زیرسرپرستی پروان چڑھنے والی کانگریسی حکومت کاتھا جوہندوستان پرتن تنہا حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی’’اپنے ایک انٹرویو میں نسیم حجازی کہتے ہیں۔ ‘‘میں نے کراچی شہر ہی سے باقاعدہ صحافت کاآغاز کیا ۔میں نے پہلے ‘‘روزنامہ حیات’’ کراچی میں کام کیا اورپھر‘‘روزنامہ زمانہ’’ کراچی میں ملازم ہوگیا’’ ڈاکٹر مسکین علی حجازی مرحوم فرماتے ہیں کہ جن دنوں میں روزنامہ‘‘ کوہستان’’ لاہور میں تھا نسیم حجازی سے جب بھی ان کے صحافتی سفر کے بارے میں گفتگوہوتی وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتے اور ‘‘روزنامہ حیات’’ کواپنی صحافتی زندگی کاآغاز قرار دیتے ہوئے کہتے میں نے اس اخبار سے عملی صحافت کے اسرارورموز سیکھے مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ اخبار کس طرح شائع ہوتا ہے۔ اس کے امور کس طرح انجام دیئے جاتے ہیں کاغذ کہاں سے آتاہے، چھپائی کیسے ہوتی ہے۔ خبریں کیسے لکھی جاتی ہیں اورقلم کے ہتھیار کے ذریعے عوام کے قلوب کیسے مسخر کیے جاتے ہیں۔ نسیم حجازی نے محض چند ہی روز میں وہ سب کچھ سیکھ لیا جس کیلئے اس شعبے میں آنے والوں کومہینوں بلکہ سالوں صرف کرناپڑتے ہیں۔نسیم حجازی نے روزنامہ‘‘ حیات ’’سے مختصر سے عرصے ہی میں علیحدگی اختیار کرلی مگر اس علیحدگی کی وجوہات کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا مسکین حجازی کے مطابق انہوں نے شاید ذاتی وجوہات یاپھر اخباری معاملات پراختلافات کے نتیجے میں اخبار کوخیر آباد کہہ دیاتھا۔سیدہاشم رضا ایک ریڈیائی انٹرویو میں بیان کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ جنگ عظیم دوئم کازمانہ تھاجب 1941ئ میں نسیم حجازی نے روزنامہ ‘‘حیات ’’کراچی سے صرف تین ماہ بعد ہی علیحدگی اختیار کرلی تھی اوراب وہ روزنامہ ‘‘زمانہ’’ کراچی کے ایڈیٹر تھے۔ کراچی سے یہ اردو کاپہلا اخبار تھا جس نے پاکستان کانعرہ لگایا اورمسلم لیگ کی جدوجہد آزادی کوآگے بڑھانے میں بڑا کام کیا’’
‘‘روزنامہ زمانہ’’ کراچی
تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما مولانا محمداکرم خان نے ‘‘روزنامہ زمانہ’’ جاری کیا وہ ایک منجھے ہوئے صحافی بھی تھے۔ انہوں نے بنگالی مسلمانوں کی سیاسی بیداری کیلئے بہت کام کیا اورتحریک پاکستان کی موثر طورپر وکالت کی ان کے اخبار نے اپنی مختصر سی زندگی میں نہایت پراثر کام کیا اورمسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے کی بھرپور سعی کی۔ نسیم حجازی نے روزنامہ ‘‘ حیات ’’چھوڑنے کے بعد روزنامہ ‘‘زمانہ’’کوبحیثیت ایڈیٹر جوائن کیا۔ یہ نسیم حجازی کی اہلیت اورصلاحیت کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ انہوں نے محض تین ماہ ایک اخبار میں کام کیا اوردوسرے اخبار سے ایڈیٹر کے طورپروابستہ ہوگئے جہاں ان کی ذمہ داریوں میں اخبار کے معاملات چلانے،اس کی پالیسی کاخیال رکھنے کے علاوہ اداریہ لکھنا بھی شامل تھا ہم دیکھتے ہیں کہ اخبارات میں عموماً ان افراد کویہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے جوصحافت کے شعبے میں اپنی عمرعزیز کا خاصا حصہ صرف کرچکے ہوں اورانہیں یہ پتہ ہو کہ کس طرح پھونک پھونک کرقدم رکھناہے پھروہ ایسازمانہ تھا کہ حکومتیں اپنے خلاف کچھ بھی برداشت کرنے کوتیار نہ ہوتی تھیں صرف ایک خبر کی اشاعت پراخبار کاڈیکلیریشن منسوخ کردیاجاتا اورمالکان وایڈیٹر حضرات کوجیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کیاجاتا ۔بسااوقات پریس اوراخبار پرقبضہ کرنے سے بھی گریز نہیں کیاجاتاتھا پریس کواپنی حدود میں رکھنے کایہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہا مختلف النوع قوانین کے ذریعے پریس کاگلہ گھونٹا گیا۔ صحافیوں کو کوڑے مارے گئے،جیلیں بھر دی گئیں، اخبارات بندہوئے ان پرقبضہ کرلیاگیا۔ بہرحال نسیم حجازی نے اس شرط پراداریہ لکھنے کی حامی بھری کہ انہیں حق وسچ کاعلم بلندکرنے سے کسی مرحلے پربھی نہیں روکاجائے گا۔ بریگیڈیئر محمدشفیع اپنے مضمون‘‘ نسیم حجازی میری نظر میں’’لکھتے ہیں۔‘‘ جب میں ایم اے کرنے کے بعد کراچی آیاتو نسیم حجازی مجھ سے پہلے کراچی میں موجود تھے روزنامہ‘‘ زمانہ ’’ کی ادارت کرتے تھے جہاں سے انہیں 25 روپے ماہانہ ملتے تھے۔ نسیم حجازی خود اپنے ایک مضمون قارئین سے ‘‘چند گزارشات’’ میں رقم طراز ہیں۔ ‘‘بہرکیف میں اپنی منزل کی تلاش میں کراچی پہنچا یہاں کراچی سے نکلنے والے اردو روزنامے ‘‘زمانہ ’’سے بحیثیت ایڈیٹر وابستہ ہوا ‘‘زمانہ ’’کے مالک نہایت شریف الطبع اورسادہ لوح انسان تھے اورقومی درد بھی رکھتے تھے لیکن سندھ کی کانگریسی وزارت نے جب دیکھا کہ‘‘ زمانہ ’’کے ذریعے سندھ کے عوام میں پاکستان کی تحریک روز بروز مقبول ہوتی جا رہی ہے اورمیں پوری آزادی وبے باکی کے ساتھ تحریک پاکستان کیلئے کام کررہاہوں تو اخبار کے مالک کوغیرمحسوس طریقہ سے مالی پیشکش شروع کردی’’‘‘روزنامہ زمانہ’’ اپنی ڈگر پررواں دواں تھا نسیم حجازی اپنے اداریوں کے جوہردکھارہے تھے اخبار کی اشاعت دن بدن بڑھ رہی تھی۔ کراچی کے صحافتی حلقوں میں نسیم حجازی تیزی سے مقبول ہونے لگے ان کے اداریوں کی دھوم بنگال،آسام، مشرقی پنجاب،لاہور اورسندھ میں مچی ہوئی تھی۔ یہ نسیم حجازی کے قلم کاکمال تھا کہ ایک چھوٹا سااخبار اس دور کے بڑے بڑے اخبارات کی صف میں شمار ہونے لگا‘‘روزنامہ زمانہ’’ 30×20 کی تقطیع پرشائع ہوتاتھا۔ پاکستان سے محبت رکھنے والے صاحب حیثیت افراد اس اخبار کی مدد کررہے تھے تاکہ اس کی آواز مزید تواناہوسکے(25) اخبارکانگریسی حکومت کے اقدامات اورمسلمانوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں پرقوم کی رہنمائی کافریضہ انجام دیتے ہوئے کانگریسی حکومت کوکسی خوف کے بغیر مطعون کررہاتھا کہ حکومت نے ایسے اخبارات کواپنے حق میں کرنے کیلئے وارفنڈ کے نام پرگرانٹ دیناشروع کی۔ نسیم حجازی کوامید نہیں تھی کہ روزنامہ‘‘ زمانہ ’’کے مالک اس فنڈ کی رقم وصول کریں گے بلکہ وہ یہ امید رکھتے تھے کہ اس رشوت کوپائے حقارت سے ٹھکرا دیاجائے گا لیکن روزنامہ‘‘ زمانہ ’’کی انتظامیہ نے وار فنڈ کے نام پر کانگریسی حکومت سے10 ہزار روپے وصول کیے اوراس گرانٹ کی وصولی پرنسیم حجازی کوبھی مبارک باد پیش کی۔ نسیم حجازی کیلئے یہ بات حیران کن اورافسوسناک تھی اوروہ یہ سمجھتے تھے کہ جس اخبار کو حکومت کی طرف سے دس ہزار روپے مل چکے ہوں وہ اب اس کے خلاف کوئی بات کیسے لکھ سکتاہے ان حالات میں نسیم حجازی کواپنے قلم کی موت نظر آئی اورانہیں دکھائی دینے لگا کہ اب مالکان انہیں حکومت کے خلاف احتیاط سے کام لینے کامشورہ دیں گے چنانچہ انہوں نے اپنے قلم کوفروخت کرنے اورمالکان کے توسط سے بلواسطہ کانگریس کاآلہ کار بننے کے بجائے اخبار کی ملازمت کوخیرآباد کہنے ہی میں عافیت سمجھی ۔یہ نسیم حجازی کی ملازمت کاابتدائی دور تھا انہیں تازہ تازہ ملازمت ملی تھی مگر انہوں نے اپنے مستقبل کی پروا کیے بغیر اخبار چھوڑنے کافیصلہ کرلیا حالانکہ اس مرحلے پر یہ ان کیلئے نہایت مشکل فیصلہ ہوگا مگر انہوں نے کسی بھی نوع کے سمجھوتے سے انکارکردیا ‘‘سیارہ ڈائجسٹ ’’کواپنے ایک انٹرویو میں اس حوالے سے کہتے ہیں۔‘‘ قیام پاکستان سے قبل جب اخبارات کو وارفنڈ کے نام پرگرانٹ عطاہوئی تواس اخبار کے حصے میں بھی دس ہزار روپے آئے تھے جس پراخبار کے مالکان نے مجھے مبارک باد دی تھی دوسری صبح میں نے وار فنڈ پراداریہ لکھا جب اداریہ چھپ گیا تو اس کے ساتھ ہی میں استعفیٰ لکھ کردفتر میں چھوڑ آیا کیونکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ اس اخبار کودس پندرہ ہزار روپے کی گرانٹ مل چکی ہے لہٰذا اب کانگریسی حکومت کے خلاف کوئی بات شائع نہیں کرے گا ۔جوایک طرح سے میرے قلم کی موت تھی،مالکان کی منت سماجت کے باوجود میں نے وہ ملازمت ترک کردی کیونکہ میں یہ محسوس کررہاتھا کہ کھنکتے ہوئے سکوں کی جھنکار سن کربڑے بڑے پارسا رقص کرنے لگے تھے۔ ان دنوں اخبار کا کل خرچ ہزار ڈیڑھ ہزار روپے تھا جبکہ دس ہزار وار فنڈ سے مل رہے تھے۔ میں نے اخبار کے مالکان سے کہا اس وقت ہمارے ہزاروں نوجوان مشرق وایشیا کے میدانوں میں لڑرہے ہیں وہ اس امید پرجہاد کررہے ہیں کہ جب وہ آزاد ہوں گے تو ان کااپناایک وطن ہوگا۔ وہ کسی کے غلام نہ رہیں گے جبکہ یہاں اخبارات کووار فنڈ دیاجارہاہے جس کامقصد یہ ہے کہ تم جس کے غلام ہو اس کے وفادار رہو بعد میں ایک زمانہ آیا کہ ان کاوارفنڈ بھی بندہوگیا’’‘‘روزنامہ زمانہ’’ کب بند ہوا صحافتی تاریخ اس بارے میں خاموش ہے البتہ 1948ئ میں جیکب آباد کے قوم پرست اخبار نویس برکت علی آزاد نے کوئٹہ سے اردو ہفت روزہ‘‘زمانہ’’ جاری کیا۔ وہ کچھ دن اس کی ادارت کرتے رہے اس وقت اس کے ایڈیٹر محمود احمد بھی رہے جواس وقت کوئٹہ میں ڈیلی ‘‘ڈان’’ کے نمائندہ بھی تھے۔ برکت علی آزاد نے جن مقاصد کے تحت یہ اخبار نکالاتھا وہ حاصل نہ ہوسکے فصیح اقبال جوشروع ہی سے اخبار کے ساتھ تھے نے1953ئ میں اسے اپنی تحویل میں لے لیا1956ئ میں یہ ہفت روزہ سے روزنامہ ہوا اورپھر ہفت روزہ ہوگیاجون1960ئ میں اسے دوبارہ روزنامہ بنادیاگیا یہ اس عہد میں بلوچستان سے جاری ہونے والا پہلا روزنامہ تھا روزنامہ‘‘زمانہ’’ آج بھی فصیح اقبال کی سرکردگی میں نکل رہاہے اوراسے بلوچستان کی صحافت میں نمایاں مقام حاصل ہے۔۔
‘‘ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ’’
کراچی کے روزنامہ‘‘زمانہ’’ سے علیحدگی کے بعد نسیم حجازی ایک بارپھرتلاش روزگار کیلئے سرگرداں ہوگئے اس دوران ان کی ملاقات یوپی کے مخلص انسان شیخ مقبول سے ہوئی جوخاکسار تحریک پردل وجان سے فداتھے ان کے مشورے پروہ جالندھر کے رہنے والے اسرارمحمدخان سے ملے جنہوں نے بلوچستان کے میرجعفرخان جمالی سے ان کاتذکرہ کیا یوں میرجعفر خان جمالی نے اسرار احمدخان کونسیم حجازی کوکراچی سے بلوچستان لانے کیلئے کہا اس طرح نسیم حجازی انگریزی کے استاد کی حیثیت سے بلوچستان چلے گئے جہاں انہوں نے انگریزی کے حوالے سے جعفرخان جمالی کی مدد کرنے کے ساتھ ان کے بچوں کی تدریس کے فرائض بھی ادا کیے۔ نسیم حجازی کاکہناہے۔‘‘اس کے بعد میں بلوچستان چلا گیا وہاں پرجعفر خان جمالی کی سرپرستی میں ہفت روزہ‘‘تنظیم’’کا اجرائ ہوا میں سمجھتاہوں بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کاسبب‘‘ ہفت روزہ تنظیم’’ کوئٹہ تھا اوراس کاسارا کریڈٹ میر جعفر خان جمالی کوجاتاہے جن کی مالی سرپرستی اورسیاسی بصیرت نے یہ تاریخی فیصلہ کروایاتھا’’ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید ‘‘صحافت پاک وہند’’ میں لکھتے ہیں۔ ‘‘ تحریک پاکستان کے آخری سالوں کااہم ترین ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ تھا اس کے مالک میرجعفر خان جمالی تھے اورایڈیٹر نسیم حجازی، جوبعد میں‘‘تعمیر’’راولپنڈی اورپھر ‘‘کوہستان’’ کے مدیر بنے اس اخبار نے جوش وخروش سے مسلم لیگ کی حمایت کی’’اخبار‘‘تنظیم ’’ کے بارے میں نسیم حجازی فرماتے ہیں مجھے جعفر خان جمالی نے بے حد اصرار کے تحت اس بات پر آمادہ کیاکہ تحریک پاکستان کیلئے کام کرنے کی غرض سے مجھے کوئٹہ کوبطو مرکز کے انتخاب کرناچاہئے یہاں کسی حد تک مجھے گروہی اورمحلاتی سازشوں سے پالاپڑا اورمیں نے اس دور میں غالباً1943ئ میں ایک ادارتی مقالے کے ذریعے یہ پیش گوئی کی تھی کہ بلوچستان کافیصلہ صرف قبائل اورشاہی جرگہ کی مرضی اورمشوروں سے عمل میں لایاجائے گا جوکہ بعد ازاں ظہور پاکستان کے وقت ہرلحاظ سے حرف بہ حرف پوری ہوئی ‘‘تحریک پاکستان اورنسیم حجازی’’ کے باب میں یہ لکھاجاچکاہے کہ اخبا رکی اشاعت کے سلسلہ میں سارے اخراجات جعفر خان جمالی برداشت کرتے تھے اوربلوچستان کے پانچ سو اہم اورسرکردہ اشخاص کویہ بغیر کسی چندہ کے بھجوایا جاتا تھا۔ مسلم لیگ بلوچستان گو کہ بلوچستان میں تنظیمی اعتبار سے بہت فعال جماعت تھی مگر اس کے باوجود مسلم لیگ میں اندونی طور پردوگروپ تھے ،قاضی عیسیٰ سرداری نظام کے مخالف تھے جبکہ دوسرا وہ جومیرجعفر خان جمالی کے زیراثر تھا وہ سرداری نظام کی حمایت کیاکرتاتھا۔ میرجعفر خان جمالی کواحساس ہوا کہ قاضی عیسیٰ کااخبار‘‘الاسلام’’ ان کے نکتہ نظر کی بھرپور ترجمانی نہیں کررہا اس لیے انہوں نے مسلم لیگ ہی کے پلیٹ فارم سے ایک اوراخبار ‘‘تنظیم’’ کے اجرائ کافیصلہ کیا جو ان کی براہ راست نگرانی میں کام کیاکرتا تھا اورنسیم حجازی کواس کامدیر مقرر کیا جو اس دور میں بلوچستان میں میرجعفر خان جمالی کے معتمد خاص کی حیثیت اختیارکرگئے تھے۔ نوابزادہ جہانگیرشاہ جوگیزئی اپنے مضمون‘‘نسیم حجازی اوربلوچستان’’ میں لکھتے ہیں کہ۔ ‘‘ آج کے لوگ اس بات پرحیران ہوتے ہیں کہ40سال قبل ایک اجنبی شخص قبائلی سوسائٹی میں کس طرح گھل مل گیاتھا؟ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ نسیم حجازی میرجعفر خان جمالی کے رفیق کار کی حیثیت سے متعارف ہوئے تھے اوردوسری وجہ ان کی ذاتی خوبیاں تھیں ۔بلوچستان میں نسیم حجازی کااس قدر احترام کیاجاتا تھا کہ 1945ئ میں جب نواب اسداللہ خان رئیسانی کونسل آف سٹیٹ کے ممبرنامزد ہوئے تو انہوں نے پہلے اجلاس میں شمولیت کے ساتھ ہی نسیم حجازی کی رفاقت کواپنی اہم ترین ضرورت قرار دیا اوربڑے اصرار کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ دلی لے گئے ۔‘‘تنظیم’’ اگرچہ مسلم لیگ کاحمایتی اخبار تھا لیکن قاضی عیسیٰ جومسلم لیگ کے صدر تھے ان کی پالیسیوں کی مخالفت میں لکھتا تھا ۔‘‘تنظیم ’’اپنے اداریوں اورمضامین کے ذریعے کانگریس کے پروپیگنڈے کاجواب دیتا رہا اورکبھی کس دھونس دباؤ میں نہیں آیا اس اخبارکے بارے میں معاصر‘‘پاسبان’’ کوئٹہ نے لکھا۔‘‘میرجعفر خان جمالی کواخبار نکالنے کی منظوری مل گئی ہے چنانچہ میرصاحب نے ڈیکلریشن داخل کردیاہے، اخبار کانام‘‘تنظیم’’ ہوگا مسٹر حجازی بی اے اس اخبار کے ایڈیٹر ہوں گے ‘‘تنظیم’’ ہفتہ وار ہوگا اورجیساکہ پاسبان میں پہلے خبر دی گئی تھی بلوچستان پریس سے شائع ہوگا،دفتر کاانتظام کیاجارہاہے پہلاپرچہ غالباً عید کے بعد شائع ہوگا’’۔ہفت روزہ‘‘تنظیم’’ کوبوقت ضرورت روزنامہ بنادیاجاتاتھا‘‘تنظیم’’ کے بارے میں اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ اخبار کے اجرائ نے مسلم لیگ کی تحریک کومزید تقویت پہنچائی اورصحافتی محاذ پرایک اہم دفاعی مورچہ قائم کردیا اس سے قبل کانگریس کااخبار‘‘استقلال’’ اوربعض دوسرے اخبارات عرصہ دراز سے کانگریسی مفادات کیلئے فضا ہموار کرنے اورتحریک پاکستان کونقصان پہنچانے میں مصروف تھے۔ پروفیسرڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر نے اپنی تصنیف ‘‘بلوچستان میں ابلاغ عامہ’’ میں ہفت روزہ تنظیم کے اجرائ کی تاریخ1946ئ لکھی ہے جودرست نہیں ہوسکتا ہے ایسا پروف کی کسی غلطی کے نتیجے میں ہواہو اوربعد ازاں اس پرتوجہ نہ دی جاسکی ہو کیونکہ ‘‘پاسبان’’ کوئٹہ نے‘‘تنظیم’’ کے نکالے جانے کی جوخبردی وہ 4اکتوبر1943ئ کے شمارے میں شائع ہوئی اورنسیم حجازی کے صادق زاہد کے توسط سے ملنے والے مضمون‘‘ بلوچستان میں تحریک پاکستان نسیم حجازی کی نظر میں’’ بھی یہ تذکرہ کیا گیاہے کہ غالباً1943ئ کے ایک ادارتی مقالے میں انہوں نے بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کوقبائل اورشاہی جرگے کی حمایت سے مشروط کیاتھا لہٰذا اس کی روشنی میں یہ کہاجاسکتاہے کہ ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ نومبر1943ئ کے اوائل یااواخر میں منظر عام پرآیا۔اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر منیراحمد سلیچ کی کتاب ‘‘ وفیات اہل قلم’’ جس میں15اگست1947ئ تا14اگست 2007ئ تک رخصت ہوجانے والے پاکستانی اہل قلم کے کوائف اورتواریخ وفات درج کی گئی ہیں۔ میں بھی ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ کے اجرائ کی تاریخ غلط طور پر 1946ئ لکھی گئی ہے البتہ ممتاز عمر جامعہ کراچی نے اپنے مقالے The critical and explorative analysis of Nasim Hijazi’s historical novel writing۔ میں‘‘تنظیم’’ کے اجرائ کی درست تاریخ لکھی ہے لکھتے ہیں نسیم حجازی ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ کوئٹہ سے(1943تا1948) تک منسلک رہے اور وہ ہفت روزہ‘‘تنظیم’’ کے ذریعے تحریک پاکستان میں بلوچستان کی شمولیت کوایک حقیقت کاروپ دینے میں کامیاب ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر نے اپنی بیان کردہ تصنیف میں اخبارات کی اشاعت کی تواریخ کے حوالے سے چند اورغلطیاں بھی کی ہیں مثلاً وہ لکھتی ہی کہ‘‘1947ئ میں نسیم حجازی نے لاہور سے اپنا اخبار‘‘کوہستان’’ نکالا اوران کی غیرموجودگی میں برکت علی آزاد اس کے (تنظیم) مدیر بنے حالانکہ روزنامہ‘‘ کوہستان’’ کے اجرائ کی تاریخ1953ئ ہے او ر ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ کے حوالے سے لکھتے ہوئے اپنی کتاب کے اسی صفحے پریہ بھی لکھ رہی ہیں کہ نسیم حجازی کاقیام بلوچستان میں1941 سے1949ئ تک رہا۔ اس کے باوجود انہو ں نے ‘‘کوہستان’’ کے اجرائ کی تاریخ 1947ئ لکھ دی بہرحال ان کاکہنا ہے رشیدبھٹی نے بھی کچھ عرصہ تنظیم کی ادارت کی1948 میں محمدحسن نظامی مرحوم جومیرجعفر خان جمالی کے دیرینہ رفیق تھے اس کے مدیرہوئے1950ئ تک وہ بحیثیت مدیر اسے نکالتے رہے 1950ئ میں جعفر خان جمالی نے اس اخبار کونظامی صاحب کی ذاتی ملکیت میں دے دیا ۔محمد حسن نظامی بلوچستان میں آزادی کی تحریک کے ایک نمایاں کردار تھے انہوں نے آزادی کے بعد اس اخبار کے ذریعے بلوچستان کی بہت خدمت کی اوریہ اخبار عوام وخواص میں بہت مقبول ہوا ۔محمدحسن نظامی اپنی باقی زندگی اسی اخبار کے ساتھ وابستہ رہے(39) 3مئی 1983 کوان کے انتقال کے بعد اس کاڈیکلریشن اپریل1984ئ میں ان کے بیٹے ظہورالحسن کے نام منتقل ہوگیا حسن نظامی کی زندگی میں اخبار کارویہ مرکز مخالف تھا اورنیپ کی حمایت کیاکرتا تھا بہرحال اخبار اب بھی موجود ہے لیکن سیاسی وقعت ختم ہوگئی ہے۔
‘‘روزنامہ تعمیر راولپنڈی’’
جب بلوچستان میں تحریک پاکستان کی سرگرمیوں کومنظم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی تو نسیم حجازی نے کوئٹہ کواپنامرکز بنایا اورایک ہند وکے مکان میں کرایہ پررہنے لگے مگر جب بھارت سے مسلمانوں کی آمد کاسلسلہ شروع ہواتو نسیم حجازی نے ایک مسلمان کامکان کرایہ پرلے لیا۔ اس دوران انہوں نے تحریک پاکستان میں‘‘تنظیم’’ کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو کانگریس کے مذموم عزائم سے آگاہ کیا اوربلوچستان کے پاکستان سے الحاق تک انہوں نے دن کاچین اور رات کی نیند خود پرحرام کیے رکھی۔ جب بلوچستان کی تمام ریاستیں پاکستان میں شامل ہوگئیں تو انہوں نے فیصلہ کیاکہ ان کاکام بلوچستان میں ختم ہوگیاہے لہٰذا انہیں کسی ایسی جگہ بیٹھ کرلکھنے کی ضرورت ہے جہاں انہیں کوئی نہ جانتا ہونسیم حجازی صحافت سے کنارہ کش ہوناچاہتے تھے لیکن انہیں جعفر خان جمالی کویہ کہنے کی ہمت نہیں تھی کہ وہ بلوچستان چھوڑ کرجارہے ہیں انہوں نے اس بارے میں میرجعفر خان جمالی کے ایک دوست سے بات کی چنانچہ حکیم ظہیر الحسن میرصاحب سے ملاقات کیلئے کراچی گئے انہوں نے علیحدگی میں گفتگو شروع کی تو میرصاحب نے نسیم حجازی کوبلایااورنہایت مغموم لہجے میں کہا‘‘حکیم صاحب کوتکلیف دینے کی ضرورت نہ تھی تمہارے دل کی باتیں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اگلے دن انہوں نے نمناک آنکھوں سے نسیم حجازی کورخصت کردیا ۔بلوچستان سے نکلنے کے بعد نسیم حجازی ملتان اورلاہور سے ہوتے ہوئے راولپنڈی پہنچے مگر ابھی انہیں مزید سفر کرناتھا چنانچہ وہ ایبٹ آباد چلے گئے تاکہ سکون سے بیٹھ کرناول لکھ سکیں لیکن دوستوں نے ملک کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظرر اولپنڈی سے ایک روزنامہ نکالنے پراصرار کیا۔ عنایت اللہ مرحوم قومی کتب خانہ لاہور والے ،شیخ محمداحسن کی طرف سے پیغام لے کرآئے کہ‘‘ اگر میں حامی بھرلوں تو وہ اخراجات برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں احباب کایہ کہہ دینا ہی کافی تھا کہ جہاد کشمیر میں تمہارے قلم کی از حد ضروت ہے نسیم حجازی نے اس شرط پرحامی بھر لی کہ وہ اخبا رکے اعزازی نگران کے طورپرتعاون کریں گے اوراس کام کاجو ملک وقوم کی بہتری سے تعلق رکھتاہے کوئی معاوضہ نہیں لیں گے۔ نسیم حجازی دوسال تک اس اخبار سے منسلک رہے نسیم حجازی اس حوالے سے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں۔ ‘‘بہرکیف جب میراکام بلوچستان میں ختم ہوگیا یعنی بلوچستان پاکستان میں شامل ہوگیاتو میں بمشکل میرجعفر خان جمالی کی محبتوں کوچھوڑ کر آنسوؤں کی برسات میں پنجاب آگیا یہاں تقریباً دوسال تک روزنامہ ‘‘تعمیر ’’راولپنڈی کی ادارت کی اورپھر مجھے عنایت اللہ مرحوم روزنامہ ‘‘کوہستان ’’کیلئے اپنے ساتھ لے گئے ۔ ڈاکٹر افضل اعزاز کاکہناہے‘‘نسیم حجازی پہلی مرتبہ راولپنڈی کے ایک روزنامہ‘‘تعمیر’’ کے چیف ایڈیٹر کے طوپر دوسال تک بلامعاوضہ کام کرتے رہے اور نہایت مختصر سی مدت میں اسے پاکستان کاباوقار اخبار بنادیا’’ محمداسلم ڈوگر اپنی کتاب‘‘ علم صحافت’’ میں لکھتے ہیں قیام پاکستان کے وقت لاہور اورکراچی دوبڑے اخباری مرکز تھے قیام پاکستان کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے بھی اخبارات شائع ہونے لگے راولپنڈی سے ‘‘تعمیر’’ نے آغاز کیاتوپشاور سے ‘‘شہباز’’ نے سفر کاآغاز کیا۔ مہدی حسن اپنی کتاب ‘‘جدیدابلاغ عام’’ میں رقم طراز ہیں میں راولپنڈی سے‘‘تعمیر’’ کے نام سے ایک روزنامہ کااجرائ ہوا جوکافی عرصہ تک راولپنڈی کااہم اخبار رہا۔ جب حکومت کے خلاف عوامی تحریک نے زو پکڑا اورعوام کے مختلف طبقے اس میں شامل ہوگئے تو صوبہ سرحد سے ولی خان اورمشرقی پاکستان سے مولانا بھاشانی کواخبارات نے اپنی مہم کانشانہ بنایاتاہم حکومت کیخلاف تحریک زور پکڑتی گئی حزب اختلاف کی جماعتوں نے جمہوری مجلس عمل (ڈی اے سی) کے نام سے ایک مجلس عمل قائم کی جس کے بیانات و احتجاج کواخبارات نے نظر انداز کیا البتہ دو آزاد اخبارات ‘‘نوائے وقت ’’لاہور ،راولپنڈی اور‘‘تعمیر’’ راولپنڈی نے حزب اختلاف اور اس تحریک کی خبروں کی اشاعت بڑی جرأت کے ساتھ کی جس کے نتیجے میں اس کے اشتہارات بند کردیئے گئے’’ ‘‘روزنامہ مشرق لاہور’’ کے چیف ایڈیٹر اقبال زبیری لکھتے ہیں۔ ‘‘تعمیر’’ کے اجرائ سے عنایت اللہ نے پہلے موقرعلاقائی اخبار کانقش قائم کیا اوریہ ثابت کردیا کہ روزنامہ اخبار لاہور اورکراچی کے علمی وثقافتی مراکز سے ہٹ کر راولپنڈی جیسے چھوٹے شہرسے بھی نکالا جاسکتاہے۔روزنامہ‘‘تعمیر’’کونکالنے میں اگرچہ عنایت اللہ کی کاوشیں شامل تھیں لیکن وہ نسیم حجازی کی اعانت کے بغیر اس کے اجرائ کوکسی طرح ممکن نہ بناسکتے تھے ۔ عنایت اللہ مرحوم نے اپنے صحافتی سفر کاآغاز بچوں کے مقبول پندرہ روزہ رسالے‘‘ ہدایت’’ سے کیا وہ اس رسالے میں مضامین بھجواتے تھے قومی کتب خانے نے ‘‘ہدایت’’ میں شائع شدہ ان کے یہ مضامین کتابی شکل میں چھاپے عنایت اللہ اس وقت اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کرہے تھے۔ قومی کتب خانہ ان دنوں چوٹی کے مصنفین کی کتب شائع کرتا تھاجن میں مولانا ابوالکلام آزاد، چوہدری فضل حق، عبدالمجید سالک، رشید اخترندوی اورنسیم حجازی کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ان اہل قلم کی تخلیقات کی پروف ریڈنگ عنایت اللہ کرتے تھے۔ قومی کتب خانے سے چند قدم کے فاصلے پر ‘‘عرب ہوٹل’’تھا جسے لاہور کی ادبی تاریخ میں اہم حیثیت ہمیشہ حاصل رہے گی رات گئے تک یہاں نامور ادیبوں ،شاعروں اور صحافیوں کااٹھنا بیٹھنا رہتا تھا۔ چراغ حسن حسرت کی محفل آرائی زوروں پرتھی ۔ مولانا چراغ حسن حسرت منفرد مزاحیہ کالم نگار،بلند پایہ صحافی، شاعر اورادیب تھے۔ روزنامہ ‘‘امروز’’ کااجرائ انہی کی زیرادارت ہوا۔ عرب ہوٹل کی نشستوں میں وہ اکثر‘‘امروز’’ کو زیادہ سے زیادہ بنانے اور سنوارنے کے بارے میں اپنے آئندہ خیالات کااظہار کرتے رہتے تھے اسی سلسلہ میں ایک مرتبہ گفتگو کے دوران ان کی زبان سے نکلا اب تو اردو کاوہ اخبار بکے گا جوباتصویرہوگا۔ عنایت اللہ نے یہ بات سنی تو ان کے دل میں اتر گئی اپنے کمرے کی تنہائیوں میں واپس پہنچ کر انہوں نے سوچا‘‘یہ انقلاب ہوتو بڑا انقلاب ہو’’۔ عنایت اللہ کوصحافتی انقلاب کی تحریک مولانا چراغ حسن حسرت کی صحبت میں بیٹھنے ہی سے ہوئی پھر انہوں نے ایک بہت بڑا تصور قائم کیا۔ ایک باتصویر اخبار کاتصور انہوں نے اسے حقیقت میں بدلنے کے عزم بالجزم کومقصد حیات بنالیا ۔ حفیظ سرور جوروزنامہ ‘‘تعمیر’’ اور روزنامہ ‘‘کوہستان’’ کے کارٹونسٹ اورباکمال آرٹسٹ تھے لکھتے ہیں عنایت اللہ نے قومی کتب خانے میں پروف ریڈر کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اوربچوں کاایک رسالہ نکالنے کاپروگرام بنایا گھروالوں کی ناراضگی کے ڈر سے انہوں نے شہر چھوڑ دیا۔‘‘ یہ اوائل 1944ئ کاذکر ہے میرے نام عنایت اللہ کامکتوب کلکتہ سے موصول ہوا طمانیت سے بھرپور تحریر میں مجھے اطلاع دی گئی کہ ‘‘ بچوں کی دنیا’’ کے ڈیکلریشن کی درخواست دے دی گئی ہے تم پہلی فرصت میں کلکتہ روانہ ہونے کی کوشش کرو۔ میری اور تمہاری گمشدگی کاکسی کوپتہ نہیں چلناچاہیے۔ باتصویر رسالے کی خواہش نے عنایت اللہ کے ‘‘بچوں کی دنیا’’ رسالے کے خواب کوعملی شکل دی کلکتہ میں اردو طریق طباعت لیتھو تھا مگر پلیٹ کی جگہ پتھر استعمال ہوتے جس سے چھپائی مزید بہتر ہوجاتی ‘‘بچوں کی دنیا’’ کے تمام شمارے صوری اور معنوی لحاظ سے بڑے جاذب توجہ اور دلکش تھے عنایت اللہ کومارکیٹنگ کاکوئی تجربہ نہیں تھا لہٰذا ان کایہ مشن ناکام ہوا اور‘‘بچوں کی دنیا’’ بند ہوگیا جبکہ عنایت اللہ نے انگلش پروف ریڈنگ کاکام پھرشروع کردیا ۔ قومی کتب خانہ لاہور کے منتظم اعلیٰ محمداحسن سال میں ایک بار اپنی مطبوعات لے کرہندوستان کے بڑے شہروں کے پبلشرز کے پاس جاتے تھے 1945ئ کی آخری سہہ ماہی میں کلکتہ میں اچانک ان کی ملاقات عنایت اللہ سے ہوگئی۔ عنایت اللہ نے انہیں اپنے رسالے کے شمارے دکھائے اور ناکامی کی داستان بھی سنائی کلکتہ میں انہوں نے ریگ مال بنانے کاہنرسیکھ لیاتھا احسن صاحب سے اس بزنس کے آغاز کی بات کی گئی تاکہ وہ اس کی کامیابی پرپھرسے ایک ر وزنامہ نکالنے کی راہ ہموار کرسکیں مگر شکست ان کی راہ دیکھ رہی تھی تجارت پرہندوؤں کے قبضے کے باعث یہ بزنس ناکام ہوگیا اورقومی کتب خانے کے مالک محمد احسن کاخاصا پیسہ برباد ہوگیا(51) اس کے باوجود انہوں نے بچوں کے رسالے‘‘ہدایت’’ کے ایڈیٹر عبداللہ بٹ کی جگہ عنایت اللہ کوایڈیٹر مقرر کردیا عنایت اللہ اس رسالے کوبچوں کامثالی پرچہ بناناچاہتے تھے اس رسالے میں اسلم اخگر ،سعادت خیالی،منصور قیصر، لطیف فاروقی، ابوالحسن نغمی، مستنصر حسین تارڑ، ہارون پاشا، اطہر شاہ خان، حنیف اطہر اور بہت سے دوسرے باقاعدگی سے کہانیاں بھیجتے تھے عنایت اللہ اداریہ لکھتے اور مضامین ایڈٹ کرتے ‘‘ہدایت’’ ان کیلئے تجربہ گاہ بھی تھا اورتربیت گاہ بھی۔ عنایت اللہ نے ‘‘ہدایت’’ کو دو،دو،تین ،تین رنگوں میں چھاپنا شروع کیا جس سے اس کی اشاعت چندہفتوں میں چار گنا ہوگئی عنایت اللہ ‘‘ہدایت’’ کے سلسلہ میں قومی کتب خانہ کے مالکان پرکم سے کم مالی بوجھ ڈالناچاہتے تھے ‘‘ہدایت’’ کوباقاعدگی سے اشتہار ملناشروع ہوگئے پرنٹ آرڈر پورا کرنامشکل ہوگیا آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہوا اورقومی کتب خانہ مالی لحاظ سے صف اول کا ادارہ بن گیا یوں عنایت اللہ نے ریگ مال کے بزنس میں قومی کتب خانے کے نقصان کاازالہ کردیا اب وہ سمجھنے لگے کہ قومی کتب خانہ ایک روزنامہ کے اجرائ کی پوزیشن میں ہے اس خواب کی تکمیل کیلئے وہ احسن صاحب کواس ضمن میں تجویز پیش کرنے کے موقع کی تلاش میں رہنے لگے مگر انہیں اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب محمد احسن نے قومی کتب خانہ کی تین منزلہ عمارت خرید لی عنایت اللہ کو اخبار کااجرائ مشکل نظر آنے لگا کیونکہ سرمایہ عمارت کی خریداری پرصرف ہوگیاتھا ۔ انہی دنوں نسیم حجازی ایبٹ آباد سے لاہور Èئے تو عنایت اللہ کواداس دیکھ کر تبدیلی آب وہوا کیلئے اپنے ساتھ وادی کاغان لے گئے اوروہاں صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔ نسیم حجازی نے کہا۔‘‘ مجھے یقین ہے کہ احسن صاحب کے پاس اب بھی اس قدر سرمایہ ضرور ہوگا جس سے اخبارنکالا جاسکے اورکچھ کمی محسوس ہوئی تو اس کابندوبست میں اپنے سر لے سکتا ہوں قوم کادرد رکھنے والے بہت سے اہل ثروت لوگ میرے حلقہ اثر میں ہیں’’ نسیم حجازی کی باتوں سے عنایت اللہ کوکچھ امید بندھی اورانہوں نے نسیم حجازی ہی کو احسن صاحب سے اخبار کے اجرائ کیلئے بات کرنے کی ذمہ داری سونپی یہ وہ زمانہ تھا جب نسیم حجازی کی شہرت اسلامی ناول نگار کی حیثیت سے پورے پاکستان میں عروج پرتھی چنانچہ عنایت اللہ جیسے معتمد خاص کی موجودگی میں اس تجویز کاپرجوش خیرمقدم کیاگیا بلکہ احسن صاحب نے یہاں تک کہا کہ‘‘آپ اخبار کہتے ہیں، اخبار چھاپنے کیلئے پریس بھی ہمارا اپناہوگا’’ یوں اخبار کے اجرائ کی عنایت اللہ کی خواہش پوری ہونے کی سبیل پیداہوئی مگر اس کے اجرائ کیلئے مناسب جگہ کی تلاش پرغوروخوض کیاجانے لگا۔ ‘‘ آزادکشمیر،سرحد اورپنجاب کے اضلاع راولپنڈی، جہلم اورگجرات وغیرہ میں کوئی ایسا اخبار نہ تھا جوان علاقوں کے باشندوں کوملکی وغیرملکی خبریں بروقت پہنچا سکتا۔ لاہور کے اخبار عموماً سولہ،سترہ گھنٹے بعد پہنچتے تھے عنایت اللہ کی دور رس نگاہوں نے راولپنڈی کومنتخب کیا اور1949ئ میں‘‘تعمیر’’ کے نام سے اس کااجرائ عمل میں لایاگیا’’ اخبار کے اجرائ کاکام اپنے عروج پرتھا ‘‘تعمیر’’پرنٹنگ پریس لگادیاگیا نسیم حجازی کی مشاورت سے ‘‘تعمیر’’کی پالیسی کی بنیاد اسلامی اقدار کے فروغ کے اصولوں پررکھی گئی تاکہ اس کے ذریعے پاکستانی معاشرے کونہ صرف اس ملک کے قیام کے اسباب ومحرکات سے آگاہ کیاجائے بلکہ اس بات پربھی آمادہ کیاجائے کہ آزادی حاصل ہوجانے کے بعد اس عہد کوپس پشت نہ ڈال دیاجائے جوتحریک پاکستان کے لیڈروں نے عوام کے ساتھ کیاتھا۔نسیم حجازی بھی اسی فکر کے حامل تھے انہوں نے اپنے ولولہ انگیز اداریوں اورخصوصی مضامین میں اپنازور قلم صرف کیاوہ کبھی ‘‘تعمیر’’ کے دفتر آکر اداریہ لکھتے اور اکثر اوقات ایبٹ آباد ہی سے لکھوا دیتے ۔عنایت اللہ نے ‘‘تعمیر’’ میں سیرت وکردار کے عنوان سے ایک نئے کالم کاآغاز کیا جس میں تاریخ اسلام کی مقتدر ہستیوں اورسپہ سالاروں کے کارناموں کاتذکرہ ہوتا۔ اخبار کی پبلسٹی کیلئے بھی نئے اورانوکھے طریقے اپنائے گئے ٹیلی پرنٹر جوعوام کیلئے کسی عجوبے سے کم نہ تھا دفتر کے باہر رکھوا دیاگیا لوگ اسے دیکھنے کیلئے ٹوٹ پڑتے ٹیلی پرنٹر کے ساتھ ہی ایک بلیک بورڈ نصب کردیاگیا جس پرچاک سے وقفوں وقفوں سے تازہ خبریں لکھ دی جاتیں جس سے‘‘تعمیر’’ کی ریڈرشپ میں اضافہ ہوا۔ ہاکروں کی ٹریننگ کاسلسلہ بھی شروع کیاگیا ہاکروں کو اخبار کی لیڈ(سرخی) زبانی یاد کرائی جاتی جواونچی آواز میں پکارتے ہوئے سائیکل دوڑاتے جاتے۔ نسیم حجازی کے اداریوں کی مقبولیت کایہ عالم تھا کہ قاری اخبار خریدتے ہی سب سے پہلے اداریے پرنگاہ دوڑاتے ‘‘تعمیر’’اپنی چھپائی، گیٹ اپ اور لے آؤٹ کے اعتبار سے دوسرے اخباروں پرفوقیت رکھتا تھا حفیظ سرور لکھتے ہیں۔ ‘‘ تعمیر کے قارئین نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ کسی روزنامے کی کتابت اورطباعت میں نفاست بھی جھلک سکتی ہے،خبروں کی ترتیب میں ان کی اہمیت کومدنظر کھاگیاہے۔ اس وقت کے دوسرے اخبارات آپس کی لاگ،ڈانٹ اور پارٹی بازی کی وجہ سے خبروں کوایسے رنگ میں پیش کرنے کے عادی تھے کہ اخباربینوں کوان کی تحریروں سے ملی کردار کی تربیت کاعشر عشیر بھی حاصل نہ ہوتا تھا پھرانگریزی اخبارات کی طرح اردو اخبارات خبریں حاصل کرنے کامعقول انتظام بھی نہ کرتے تھے’’‘‘تعمیر’’آٹھ صفحات پرمشتمل اخبار تھا جس کی قیمت دو پیسے تھی صفحہ پانچ پر اداریہ اورکالم شائع ہوتے خصوصی دنوں کی مناسبت سے مضامین بھی دیئے جاتے بین الاقوامی خبروں کی اشاعت کاخاص طور پراہتمام کیاجاتا۔ اداریہ کبھی سنگل کالم کی صورت میں شائع کیاجاتا اورکبھی دواورتین کالموں میں۔نسیم حجازی ‘‘تعمیر’’ کے ایڈیٹر تھے مگر چونکہ انہوں نے اعزازی طورپر اخبار کے نگران کافریضہ انجام دینے کی حامی بھری تھی اور وہ اس ادارت کاکوئی معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے تھے لہٰذا وہ اخبار کے دفتر کم کم ہی بیٹھتے اورصبح صبح ہی اداریہ لکھوادیتے جبکہ عنایت اللہ دیگر دفتری امور کی دیکھ بھال میں مصروف رہتے عنایت اللہ کیلئے دفتر میں شاندار کمرہ تعمیر کیاگیاتھا مگر وہ اکثر شعبہ کتابت، ایڈیٹوریل سٹاف اور ہیڈ کاتب کے پاس بیٹھے ہوتے کیونکہ وہ دفتر کے ماحول کودوستانہ رکھنے کے قائل تھے قومی کتب خانہ میں بھی اپنے اسی طرز عمل کی بدولت وہ گھنٹوں کاکام بہت کم وقت میں کرالیتے تھے اکثر ایسا ہوتا کہ جب نسیم حجازی راولپنڈی تشریف لاتے تو ناشتے کی میز پرنسیم حجازی، احسن صاحب اور نسیم حجازی کے برادر نسبتی حافظ مظہر الدین عنایت اللہ کے منتظر ہوتے جوان کے پاس بیٹھنے کے بجائے کسی نہ کسی شعبے کے لوگوں کوہدایات دے رہے ہوتے احسن صاحب کوعنایت اللہ کی یہ روش پسند نہ تھی وہ انتظامی طورپر ایساکرنے کیخلاف تھے مگر عنایت اللہ باز نہ آتے اورمحمداحسن اپنے دل کاغبار نسیم حجازی کے سامنے نکالتے البتہ عنایت اللہ کوکچھ نہ کہہ سکتے انہوں نے ایک دوبار عنایت اللہ کودفتر میں بیٹھنے اورعملے کوہدایات دینے کیلئے وہیں بلوانے کاکہا لیکن عنایت اللہ کی روش تبدیل نہ ہوئی کیونکہ وہ اپنائیت پیدا کرنے کے حق میں تھے ان کاکہناتھا۔ ‘‘ میں کمرے میں بندہوکربیٹھ جاؤں گا تو میری حیثیت اس پنڈت کی سی ہوگی جودوسروں کو اچھوت سمجھتا ہو،یوں سراسر نقصان ہے جگہ جگہ عملہ غلطیاں کرے گا اوران کے ازالے کیلئے جووقت ضائع ہوگا وہ روزنامہ کیلئے سم قاتل سے کم نہیں’’درحقیقت محمداحسن یہ چاہتے تھے کہ کمرے میں بیٹھ کرعنایت اللہ کوآرام کا موقع ملے مگر عنایت اللہ کام کرنے کے عادی تھے وہ نسیم حجازی کی ہدایات کے تحت ہرکارکن کی عزت نفس کاخیال رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ‘‘تعمیر’’ کاعملہ ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکرزیادہ دل لگاکرکام کرتا۔‘‘تعمیر’’ اپنے پاؤں پرکھڑا ہوچکاتھا آمدن بڑھنے لگی دراصل عنایت اللہ اورنسیم حجازی نے ‘‘تعمیر’’ کوپروان چڑھانے کیلئے ڈھونڈ ڈھونڈ کرایسے جوہرتلاش کیے جواپنے فن میں یکتا تھے کام کی زیادتی کے باعث عنایت اللہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوکر ساملی سینی ٹوریم میں داخل ہوگئے۔ انہیں کبھی راولپنڈی ،پشاور اورلاہور کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا اس لیے نسیم حجازی کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں انہوں نے زیادہ وقت دفتر میں دیناشروع کیا تاکہ اخبار کی کارکردگی میں کوئی فرق نہ پڑے۔ تاہم ان کی توجہ ناول نگاری کی طرف بھی مرکوز رہتی وہ اس کیلئے مختلف شہروں کاسفر کرتے خاص طور پر پنجاب پبلک لائبریری جاناتو ان کامعمول تھا ۔عنایت اللہ کی عدم موجودگی میں اخبار کے مالکان نے روایتی طریقے اپنانے شروع کردیئے جب عنایت اللہ واپس آئے تو انہیں پتہ چلا کہ۔‘‘ اخبار کی اشاعت دیگر اردو اخبارات کے مقابلے میں تو زیادہ ہے مگر اپنی سطح پرمنجمد ہوچکی ہے اس کی وجہ صاف ظاہر تھی دفتری نظام اپنالیاگیاتھا ہرشخص اپنی متعین حدود میں رہ کرکام کرکے گھر کی راہ لیتا عنایت اللہ کو‘‘تعمیر’’ کی اشاعت میں ٹھہراؤ کھٹکنے لگا تب انہوں نے سوچی سمجھی تجویز یں مالکان کے سامنے رکھنا چاہیں مگر وہ لوگ اخبار کی ساکھ، اشتہاروں کی تعداد اورمعقول پرنٹ آرڈر سے قطعی طور پرمطمئن تھے عنایت اللہ کی باتوں پراب انہوں نے توجہ دیناتضیح اوقات جانا’’ مالکان کے رویے سے عنایت اللہ کوشدید دھچکا پہنچا انہیں افسوس اس بات کاتھا کہ جس ادارے کوانہوں نے اپنے خون سے سینچا تھا اب اس کی حیثیت فالتو چیز سے زیادہ نہیں انہوں نے ایک ہی رات میں فیصلہ کیااوراگلے روز 1952ئ کے اواخر میں‘‘تعمیر’’ کے ادارے سے الگ ہوگئے۔ان کے ساتھ ہی نسیم حجازی نے بھی ‘‘تعمیر’’چھوڑ دیا اورپھرسے زیادہ انہماک کے ساتھ ناول لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ انہیں اس امر کاافسوس تھا کہ جس اخبار کومحض دوسال کی مدت میں ملک کانامور اخبار بنادیاگیا مالکان نے اسے اپنے ہاتھوں تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی اور عنایت اللہ و نسیم حجازی کی دن رات کی محنت پرپانی پھیردیا۔قومی کتب خانے کے احسن صاحب سے بھی ان کے تعلقات میں بگاڑ پیداہوگیا نسیم حجازی ایک انٹرویو میں کہتے ہیں۔‘‘ مجھے اس بات کاافسوس نہیں کہ روزنامہ‘‘تعمیر’’ سے وابستگی کے بعد میں نے روزنامہ ‘‘کوہستان’’ نکال کرچودہ سال اورقربان کردیئے لیکن میری ادبی زندگی کاسب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ بعض ہوشیار ساتھی میرا اوراحسن صاحب کاراستہ الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ میرا یہ فیصلہ دراصل اس وعدے کی خلاف ورزی تھی جومیں نے بلوچستان چھوڑتے وقت خود سے کیاتھا۔ ناول نگار کی حیثیت سے سوچنے پریہ میری غلطی تھی البتہ پاکستانی کی حیثیت سے اگر مجھے قدرت دوبارہ زندگی کاموقع دے تو میں وہی کروں گا جومیں نے اس وقت کیا میں نے اپنی زندگی کے چند ماہ یازیادہ سے زیادہ ایک سال رضاکارانہ خدمت کیلئے وقف کیاتھا مگر کام بڑھتا رہا’’ روزنامہ‘‘تعمیر’’ سے نسیم حجازی کی علیحدگی عنایت اللہ کی بدولت تھی اس طرح انہیں ایک نقصان یہ برداشت کرنا پڑا کہ اب ان کی تصانیف قومی کتب خانے سے نہیں چھپتی تھیں نسیم حجازی کے بعض ہم عصر دوستوں اورروزنامہ ‘‘کوہستان ’’میں کام کرنے والے ساتھیوں کاکہناہے کہ عنایت اللہ ہی اس کی بڑی وجہ تھے ڈاکٹر تصدق حسین راجا لکھتے ہیں۔‘‘ روزنامہ ‘‘تعمیر’’ راولپنڈی کی ادارت سے علیحدگی کی داستان میں عنایت اللہ مرحوم کابڑا ہاتھ تھا یہ شخص نسیم حجازی کے پاس پروف ریڈر کی حیثیت سے ملازم ہواتھا اورآہستہ آہستہ ترقی کرکے منیجر کے عہدے تک جاپہنچا مرحوم عنایت اللہ نے حجازی صاحب سے کہا آپ غلط لوگوں میں پھنس گئے ہیں اپنا اخبار نکالیے۔انہیں ڈیکلریشن کے حصول کیلئے کراچی بھیجا جہاں سے بڑی مشکل سے یہ ڈیکلریشن لے کرآئے اوریوں روزنامہ‘‘کوہستان’’ راولپنڈی کی اشاعت کاآغاز ہوا
روزنامہ‘‘کوہستان راولپنڈی
نسیم حجازی کی صحافتی زندگی میں ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ بلوچستان اورروزنامہ‘‘کوہستان’’ راولپنڈی ایسے اخبار ہیں جن میں انہوں نے اپنی عمر عزیز کے19سال صرف کیے جبکہ روزنامہ ‘‘حیات’’ اور‘‘زمانہ’’ کراچی کے علاوہ روزنامہ‘‘تعمیر’’ میں انہوں نے نہایت مختصر سے عرصے کیلئے کام کیا۔ نسیم حجازی نے عنایت اللہ کے ساتھ ہی روزنامہ‘‘تعمیر’’ کوخیرباد کہہ دیاتھا حفیظ سرور‘‘احوال دوست’’ میں لکھتے ہیں۔ ‘‘تعمیر’’ کے دفتر سے باہر آکر ان(عنایت اللہ) کی نظر سڑک کے کنارے لگے ہوئے ٹریفک کے بورڈ پر پڑی جس پرلکھاتھا‘‘چلتے رہیے’’ عنایت اللہ کے قدموں میں تیزی آگئی۔ جہدمسلسل کااگلا پڑاؤ پھران کے سامنے تھا، ادارہ‘‘تعمیر’’ سے زمانہ علالت کی تنخواہ کے طورپر عنایت اللہ کوسات ہزار روپے وصول ہوئے تھے۔ اس حقیر پونجی سے1953ئ میں روزنامہ‘‘کوہستان’’ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ بعض لوگوں کاخیال ہے روزنامہ‘‘کوہستان’’کااجرائ‘‘تعمیر’’ سے مسابقت کی غرض سے عمل میں آیا یہ درست نہیں عنایت اللہ کوکسی پلیٹ فارم کی ضرورت تھی جہاں وہ ایک مثالی اخبار کیلئے کسی مداخلت کے بغیر پوری ذہنی آزادی سے اپنی نئی سوچوں کے تجربے کرسکیں اس کڑے وقت میں چندمخلص رفیق کار میسر آگئے ان میں اقبال زبیری (مشرق کے چیف ایگزیکٹو) اورابوصالح اصلاحی کے نام سرفہرست ہیں’’‘۔۔۔ کچھ عرصہ بعد نسیم حجازی بھی اس مہم جوئی میں آشامل ہوئے۔ حجازی صاحب نے اپنے وسیع حلقہ اثر کی بدولت قومی درد رکھنے والے صاحب ثروت دوستوں کوبورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کرکے روزنامہ‘‘کوہستان’’ کیلئے مضبوط مالی بنیادی فراہم کی موصوف کایہ کارنامہ روزنامہ‘‘کوہستان’’ کی تاریخ میں یاد رہے گا’’ حفیظ سرور نے لکھاہے کہ عنایت اللہ نے سرپھوڑنے کیلئے اپنے اخبار کانام‘‘کوہستان’’ تجویز کیا اوردیکھنے والوں نے دیکھا کہ اسی کوہستان کے پتھر’ پیٹ پرباندھ کرانہوں نے ناقابل فراموش عزم واستقلال کامظاہرہ کیاجبکہ روزنامہ‘‘تعمیر’’ اورروزنامہ‘‘کوہستان’’ کے سب ایڈیٹر حافظ بشیر احمد اعوان کہتے ہیں نسیم حجازی چونکہ پہاڑوں کوپسندکرتے تھے اسی لیے انہوں نے ایبٹ آباد کورہائش کیلئے پسند کیا پہاڑوں کی اسی پسندیدگی کی بدولت انہوں نے اپنے اخبار کانام ‘‘کوہستان’’ رکھا اورخود ہی کراچی جاکراس کاڈیکلریشن بھی حاصل کیا نسیم حجازی نے ‘‘سیارہ ڈائجسٹ’’ لاہور کے جلیس سلاسل کو جو انٹرویو دیااس میں ان کاکہناہے۔ ‘‘روزنامہ‘‘کوہستان’’ کاڈیکلریشن میں نے خود کراچی جاکربڑی مشکل سے حاصل کیاتھا جو بیک وقت پنڈی،لاہور اورملتان سے شائع ہوا کرتا تھا’’ ‘‘کوہستان’’ کاڈیکلریشن چونکہ نسیم حجازی کے نام تھا اس لیے بنیادی طورپر یہ نسیم حجازی ہی کااخبار تھا اس ضمن میں راقم کے پاس روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے ڈیکلریشن کی کاپی موجود ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ ڈیکلریشن نسیم حجازی کے نام تھا اوروہی اس کے مالک تھے جس میں ان کے ہم سفر عنایت اللہ مرحوم تھے لہٰذا کہاجاسکتاہے کہ یہ اخبار نسیم حجازی اورعنایت اللہ کے امتزاج کاایک بہترین نمونہ تھاالبتہ انہوں نے یہ اخبار دوسروں کے زیراثر کام کرنے کے بجائے اپناکام کرنے کی نیت کے تحت نکالا ممتاز عمر اپنے مقالے میں لکھتے ہیں۔ ‘‘جب کوئی مدیر محسوس کرتاہے کہ اس کے فرائض میں بے جامداخلت کی جارہی ہے اوروہ اپنی ذمہ داریاں صلاحیت کے عین مطابق ادا کرنے سے قاصر ہے تو اس کیلئے علیحدگی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا اوراگر معاشی حالات اجازت دیں تو اپنی خواہشات کی تکمیل اورآزادی صحافت کے پرچم کوبلندرکھنے کیلئے خود میدان میں آجائے اوریہی کچھ نسیم حجازی کے ساتھ ہوا کہ وہ ہفت روزہ‘‘تنظیم’’ میں اپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دے کر کوئٹہ سے رخصت اورتعمیرراولپنڈی سے وابستہ ہوئے لیکن بہت جلد دوسروں کے زیراثرکام کرنے کوترک کیا اورراولپنڈی سے روزنامہ‘‘کوہستان’’ جاری کیا’’روزنامہ‘‘کوہستان’’ میں اس دور کے بڑے بڑے نام کام کررہے تھے عنایت اللہ اورنسیم حجازی کے علاوہ اقبال زبیری ،ابوصالح اصلاحی، منہاج الدین اصلاحی، نصراللہ غلزئی، ضیائ الاسلام انصاری، عالی رضوی، سعادت خیالی، ریاض بٹالوی ،قیوم قریشی، امین راحت چغتائی، ناصر بخاری وغیرہ جیسے بڑے نام شامل تھے۔ ابوصالح اصلاحی روزنامہ‘‘کوہستان’’ راولپنڈی کے پہلے ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے اخبار14اگست1953ئ کوراولپنڈی کے علاقے جامع مسجد روڈ سے منظر عام پرآیا اس کی اردو میں لکھی جانے والی پیشانی پراقبال کایہ شعر جگمگا رہاتھا ۔ فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی جبکہ اخبار کی پشت پرجوپیشانی دی جاتی تھی وہ انگلش اوربنگالی دونوں زبانوں میں لکھی ہوئی تھی۔ ‘‘کوہستان’’ کونئے خطوط پراستوار کیاگیا جس سے اشاعت میں اضافہ ہوا لیتھو کی طباعت کی بہتری کیلئے اخبار کاتمام عملہ اپناکردار اداکررہاتھا رنگدار پرنٹنگ کیلئے ‘‘کوہستان’’کاہیڈآفس لاہور میں بنایاگیا کیونکہ وہاں طباعت کی بہترین سہولتیں موجود تھیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے اردو صحافت میں تکنیکی ترقی کی جوراہ کھولی تھی پاکستان کی اردو صحافت اس راہ کواپنا کر آج انتہائی جدید دور میں پہنچ چکی ہے۔ ‘‘کوہستان’’ نے اردو صحافت میں آفسٹ پرطباعت کی ابتدا کے ساتھ تصویروں کی اشاعت اوربچوں کیلئے ہفتہ وار ضمیمے کے علاوہ اتوار کے روز میگزین کی ابتدائ بھی کی اخبار کی طباعت اوراشاعت کی ساری ذمہ داریاں عنایت اللہ کے سپرد تھیں جبکہ ادارتی معاملات نسیم حجازی دیکھ رہے تھے۔ عنایت اللہ نے روزنامہ‘‘کوہستان’’ کیلئے بھی رنگین چھپائی کی وہی تکنیک استعمال کی جو وہ ‘‘ہدایت’’ کیلئے استعمال کرتے تھے تاہم اس سے وقت کاضیاع ہوتا تھا ‘‘ہدایت’’ پندرہ روزہ تھا جبکہ روزنامے میں وقت کاضیاع برداشت نہیں کیاجاسکتا تھا چنانچہ1960ئ میں عنایت اللہ جدید مشینری کے حصول کیلئے انگلستان گئے۔1960ئ میں اس کی اپنی مشینیں دو ایک مرتبہ اور چار دوسری مرتبہ لائی گئیں1959ئ تک روزنامہ‘‘کوہستان’’ لیتھو پرچھپتا رہا پھر لیتھو کے بوسیدہ طریقہ کار کوخیرآباد کہہ کرآفسٹ مشینوں پر ونڈائک سسٹم اپنایاگیا جس سے اردو صحافت کے ارتقائ کے نئے راستے کھل گئے ڈاکٹر اے آر خالد لکھتے ہیں۔ Imroz, Lahore and Millat , Lahore were the first Urdu newspapers to make use of the offset and vandike mode of composing, later Kohistan imported the latest offset machinery from Japan۔روزنامہ‘‘کوہستان’’ پہلا اخبار تھا جس نے مصور صحافت کومتعارف کرایا۔ متن کے ساتھ ایک رنگی اورسہ رنگی شفاف تصاویر لیے روزنامہ‘‘کوہستان’’ جب لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچا تو ہرطرف تہلکہ مچ گیا اخبار کی اشاعت میں اس تیزی سے اضافہ ہوا کہ دیگر قومی سطح کے اخبارات حیران رہ گئے۔ حفیظ سرور کے مطابق ۔روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے صفحہ اول پررنگین تصویری فیچر جب میں نے پہلی بار دیکھاتو مجھے کلکتہ میں قیام کی ایک سہہ پہر یاد آگئی میں اورعنایت اللہ دریائے ہگلی پرواقع ڈولتے ہوئے کشتیوں کے پل پرکھڑے تھے۔ یہ جگہ غروب آفتاب کے نظارے سے لطف اندوز ہونے کیلئے بہترین تھی ہم ہفتہ میں ایک بار یہاں ضرور آتے تھے۔ عنایت اللہ نے اپنے ہاتھ میں اس دور کامقبول ترین انگریزی اخبار ماہنامہ‘‘ٹروسٹوری’’ پکڑ رکھاتھا اس کے ہرصفحہ پرمتن کے ساتھ سہہ رنگی تصویر دیکھ کراس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے حسرت سے کہا‘‘ٹروسٹوری’’ جیساپرچہ نکالناچاہیے۔ اب حقیقت ٹھوس شکل میں اس کے سامنے تھی غیرمعمولی قبول عام کے باعث کثیرالاشاعت اخبارات روزنامہ‘‘کوہستان’’ سے بہت پیچھے رہ گئے۔ اخبارکی مقبولیت کودیکھتے ہوئے قرارداد پاکستان کی منظوری کے تاریخی دن 23 مارچ1956 کوشاہ عالم مارکیٹ لاہور سے ‘‘کوہستان’’ کاپہلا ایڈیشن شائع ہوا جس کاٹائٹل چاررنگ کاتھا اورتین سال بعد21اپریل1959ئ کو‘‘کوہستان’’ کی ملتان سے اشاعت کاآغاز بھی کردیاگیا۔ محمداسلم ڈوگر نے اپنی کتاب علم صحافت میں ملتان سے اشاعت کی تاریخ21اپریل1957ئ لکھی ہے ۔ یوں روزنامہ‘‘کوہستان’’ واحد اردو روزنامہ تھا جوبیک وقت تین شہروں راولپنڈی، لاہور اور ملتان سے شائع ہورہاتھا ،ڈاکٹر مہدی حسن لکھتے ہیں۔‘‘1953ئ میں راولپنڈی سے نسیم حجازی کی زیرادارت روزنامہ‘‘کوہستان’’ شائع ہوناشروع ہوا جوبعد میں لاہور اور پھرملتان سے بھی شائع ہونے لگا’’جبکہ اسلم ڈوگر بیان کرتے ہیں۔روزنامہ‘‘کوہستان’’ 14اگست1953ئ کوراولپنڈی سے جاری ہوا ابتدا ہی سے اس نے صحافت میں نئے تجربات شروع کردیئے یہ تجربے طباعتی میدانوں میں بھی تھے اوراشاعتی میدانوں میں بھی روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے خبروں اورفیچروں کوزیادہ سے زیادہ تصاویرسے مزین کرکے شائع کرناشروع کیا۔ اس وقت اردو اخبارات لیتھو طریق طباعت پرچھتپے تھے صفحات کی تعداد چھ ہوتی تھی روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے نئے تجربے ضرور کیے مگر ابتدائ میں یہ علاقائی نوعیت کااخبار تھا۔ کوہستان نے آفسٹ پرنٹنگ کاطریقہ اختیار کیا اس سے اخبار کی صورت بہت بہتر ہوگئی اتوار کی اشاعت کے علاوہ روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے ‘‘اشاعت ملی’’ اور‘‘بچوں کے اخبار’’ کے نام سے دو خصوصی اشاعتیں شروع کیں اس کی تقلید بعد میں دوسرے اردو اخبارات نے بھی کی’’ تصویری صحافت کے حوالے سے ڈاکٹر مہدی حسن اپنی تصنیف ‘‘تصویری صحافت’’ میں رقم طراز ہیں۔‘‘1957ئ میں پاکستان میں ایک ایسااہم اورالمناک واقعہ رونما ہوا جس نے اردو اخبارات میں تصویری صحافت کورائج کرنے میں اہم کردارادا کیا یہ واقعہ ساہیوال اوراوکاڑہ کے درمیان گیمبر کے مقام(اب اوکاڑہ چھاؤنی) پرہونے والاکراچی ایکسپریس کاوہ حادثہ تھا جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اورزخمی ہوگئے تھے۔ روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے جواس وقت تک ابھی باقی اخبارات کی طرح لیتھو پرہی شائع ہوتاتھا بلاک پرنٹنگ کے ذریعے اس حادثے کی مکمل تصویری رپورٹ شائع کی جس کی وجہ سے ہلاک اور زخمی ہونے والے لواحقین کو اطلاعات میں بہت مدد ملی اور روزنامہ‘‘کوہستان’’ کایہ ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ لیاگیا اورکئی روز بعد تک لوگ روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے دفتر آتے رہے۔ اس واقعہ نے تصویری صحافت کی اہمیت اورکشش کوواضح کیا اورقارئین کارحجان تصویری صحافت کی طرف ہوگیا۔ 1960ئ میں روزنامہ‘‘کوہستان’’ لاہور نے اپنی طباعت کیلئے مکمل طورپر آفسٹ طباعت کاطریقہ اپنا کر اردو صحافت کے جدید دور کا آغاز کیاروزنامہ‘‘کوہستان’’ کایہ اقدام اردو کی تصویری صحافت میں ایک انقلابی قدم ثابت ہوا’’ تین شہروں سے اخبار کی اشاعت کے بعد نسیم حجازی کی مصروفیت بڑھ گئی انہیں راولپنڈی کے ساتھ ساتھ ملتان اورلاہور بھی جاناپڑتا وہ ملک کی سیاسی صورتحال پربھی گہری نگاہ رکھے ہوئے تھے انہوں نے دفتر میں صفائی کے نظام پرزور دیا۔ سینئرصحافی سعود ساحر جوان دنوں روزنامہ‘‘کوہستان’’ راولپنڈی میں پروف ریڈر کی حیثیت سے کام کررہے تھے اوراب اسلام آباد میں روزنامہ امت، ہفت روزہ تکبیر، ہفت روزہ غازی اور اردو نیوز جدہ کے بیوروچیف ہیں نے ایک ملاقات میں بتایا ‘‘نسیم حجازی نے لباس کے سلسلے میں عملے کوخصوصی ہدایات جاری کیں،کاتبوں کولکڑی کے بنچوں سے اٹھا کرمیز اورکرسی پر بٹھایا روزنامہ‘‘کوہستان’’ پہلا اخبار تھا جواپنے کارکنوں کوویج بورڈ ایوارڈ کے تحت تنخواہیں دیتا تھا، کارکنوں کوکام کابہتر ماحول فراہم کرنے کے علاوہ ان کی مالی حالت بھی بہتر کی گئی ہرکارکن کوباقاعدہ تقررنامہ دیاجاتا مجھے اس دور میں مینجنگ ایڈیٹر ‘‘کوہستان’’ میرمراد خان جمالی کے دستخطوں سے پروف ریڈر کاتقرر نامہ دیاگیا جس پرمیری تنخواہ130 روپے ماہوار درج تھی جس سے کارکنوں کی اس دور میں بہتر تنخواہوں کااندازہ لگایاجاسکتاہے اوریہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ چونکہ عنایت اللہ اورنسیم حجازی مالی لحاظ سے اتنے مستحکم نہیں تھے لہٰذا روزنامہ‘‘کوہستان’’ کی مالی سرپرستی بھی ہفت روزہ ‘‘تنظیم’’ بلوچستان کی طرح جمالی خاندان ہی کرتا رہا۔ نسیم حجازی نے کارکنوں کی فلاح وبہبود کیلئے بھی خصوصی اہتمام کیاتھا ادارے کے تمام کارکن، کسی بھی ساتھی کی شادی اور گھر کے کسی فرد کی وفات کے موقع پر کسی کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ایک معقول رقم اسے دیتے جس میں ادارہ کاحصہ بھی شامل ہوتا۔ ادا کی گئی یہ رقم کارکنوں کی تنخواہ کی شرح سے کاٹ لی جاتی مجھے بھی میری شادی کے موقع پر2400روپے دیئے گئے حالانکہ1964ئ میں میرے ولیمے پرصرف 900 روپے صرف ہوئے’’ اردو ڈائجسٹ کے مدیر اورممتاز کالم نگار الطاف حسن قریشی بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جمالی خاندان اخبار کاسرپرست تھا۔ ‘‘جناب نسیم حجازی کی صحافت کے دوسرے مرحلے میں روزنامہ‘‘کوہستان’’ جلوہ گرہوا جعفر جمالی جن کاتعلق اسلامی حمیّت کے محافظ بلوچی قبیلے سے تھا انہوں نے مالیات کی ذمہ داریاں اٹھائی تھیں’’ 1957ئ میں ایڈیٹوریل بورڈ کے سربراہ کی تنخواہ250 اورممبر کی تنخواہ150روپے ماہوار تھی سربراہ کو یہ تنخواہ پانچ اقساط میں ملاکرتی تھی جب مالی حالات اچھے ہوئے تو 1953ئ میں150روپے تنخواہ لینے والاملازم1963ئ میں1200روپے ماہوار لے رہاتھا 1962-63ئ میں مالی صورتحال یہ تھی کہ اکاؤنٹنٹ 15تاریخ کوہی سٹاف کویہ کہتا کہ جسے ایڈوانس لینا ہے وہ شوق سے لے لے۔ کوہستان میں کارکنوں کے پراویڈنٹ فنڈ کی باقاعدگی سے کٹوتی ہوتی۔روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے خوش نویسوں کوبہت زیادہ معاوضے پرملازم رکھا جواپنی محنت سے روز افزوں اخبار کی ترقی میں اضافے کاسبب بنتے رہے1954ئ میں نیاپریس کمیشن قائم ہوا 58 ئ میں صدر ایوب نے کارکن صحافیوں کیلئے اجرت بورڈ قائم کیا۔اجرت بورڈ کی سفارشات پریکم جنوری1967ئ سے عملدرآمدہوا۔خوش نویسوں کی کم ازکم تنخواہ مقرر ہوگئی اورکتابت کامعیار بھی بلندہوا شریف گلزار جو ابتدائ سے آخر تک روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے آرٹ ایڈیٹر رہے نے اخبار کے میک اپ کوبہتر بنانے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کیں۔ شہرین فاروقی اپنے مقالے‘‘ کوہستان کاتاریخی وتنقیدی جائزہ’’ میں بیان کرتی ہیں۔‘‘ اس کیلئے انہوں نے پشاور کے حافظ صفدر صاحب اورمراد جمالی کے خاندان سے روپیہ اپنے ذاتی اثرورسوخ سے حاصل کیا۔ روپیہ کابندوبست کرنے کے بعد انہوں نے سال یاچھ ماہ میں اس کولمیٹڈ کمپنی کی صورت دی۔ یہ سرمایہ تقریباً50000 ہزار روپے کے قریب تھا’’ ڈاکٹر تصدق حسین راجا لکھتے ہیں۔ ‘‘کوہستان’’ جب تک زندہ رہا نسیم حجازی اپنے ملازمین کوتمام معاصر پرچوں سے زیادہ تنخواہ دیتے تھے اوران کامنصوبہ یہ تھا کہ ان سب کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کرائے جائیں گے جس کیلئے ان کی تنخواہوں میں سے یہ رقم آسان اقساط میں کاٹ لی جائے گی اوران مکانوں کے مالکانہ حقوق انہیں دے دیئے جائیں گے اس سلسلے میں انہوں نے ایک مطالعاتی دورہ امریکہ کابھی کیاتھا اوروہاں کے کسی اخبار کااسی نقطہ نظر سے پورا پورا جائزہ بھی لیاتھا مگراس کی نوبت ہی نہ آئی کہ حکومت نے یہ اخبار ان سے لے لیاتھا’’ روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے منتظم اعلیٰ عنایت اللہ مرحوم بھی نسیم حجازی کی طرح صفائی پرزور دیتے رہے ان کی تمام تردلچسپی اخبار کومعیاری، خوبصورت اوردیدہ زیب بنانے پرمرکوز رہی۔وہ مالیات کوثانوی درجہ دیتے اور کہتے کہ اچھی اورخوبصورت چیز ہی بکتی ہے۔ اخبار بیچنا چاہتے ہوتو اسے پڑھنے والوں کیلئے قابل قبول بناؤ اور اس پرمحنت کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی لگاؤ۔ وہ اپنے اورساتھیوں کے مابین حد ادب قائم رکھتے اورہرشخص کیلئے الگ الگ مقام کاتعین کردیتے تھے تاکہ ان کاشخصی وقار قائم رہے وہ اخبار پر اپناحق تو نہیں جتاتے تھے مگر یہ برداشت کرنے کیلئے تیار نہ تھے کہ ان کے ساتھی ان کے دائرہ محبت سے باہر نکل جائیں اپنی انا کووہ کسی صورت بھی ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے روزنامہ ‘‘تعمیر’’ کواس لیے چھوڑ دیاتھا کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو وہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں بڑے فخر سے کہتے ‘‘یہ سب میرے ہیں’’روزنامہ‘‘کوہستان’’ کیلئے ان کی محنت کایہ عالم تھا کہ جب انہیں روزنامہ‘‘کوہستان’’ لاہور کے دفتر میں اپنی والدہ کی وفات کا ٹیلی گرام ملاتو انہوں نے اسے پڑھ کرلاپرواہی سے ایک طرف رکھ دیااوراپنے کام میں جتے رہے۔‘‘مشرق’’ لندن اور روزنامہ‘‘کوہستان’’ بجا طورپر منفعت بخش اخبار بن چکے تھے عنایت اللہ نے ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کومنافع کی رقم جیبوں میں ڈالنے کی بجائے مزیدترقیاتی طور طریقوں پرصرف کرنے کامشورہ دیا لیکن انہیں ایک بار پھراسی سردمہری سے واسطہ پڑا جوچندسال پیشتر‘‘تعمیر’’ کوخیرآباد کہنے کاموجب بنی تھی۔ عنایت اللہ جب جدید مشینری کے حصول کیلئے انگلستان گئے تو وہاں اپنے پرانے دوست محمود ہاشمی کے تعاون سے اردو ہفت روزہ‘‘مشرق’’ نکالا نسیم حجازی کی بیماری اور ایبٹ آباد میں قیام کے باعث روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے معاملات پران کی گرفت نہ رہی تو انہوں نے1963ئ روزنامہ‘‘کوہستان’’ سے علیحدگی اختیار کرلی اور‘‘مشرق’’ لندن کوبھی چھوڑ کرلاہور سے روزنامہ‘‘مشرق’’ جبکہ لندن سے ہفت روزہ ‘‘اخبار وطن’’ کااجرائ کیا۔‘‘مشرق’’ نکلاتو روزنامہ‘‘کوہستان’’ کاآدھا عملہ ‘‘مشرق’’ چلاگیا۔ عنایت اللہ کی خواہش تھی کہ روزنامہ‘‘کوہستان’’پنجاب کے ہرڈویژن سے جاری ہومگران کی یہ خواہش بعض اندرونی اختلافات کی بنائ پرپوری نہ ہوسکی۔ اگرچہ 1962ئ ہی سے نسیم حجازی اورعنایت اللہ میں اختلافات کاآغاز ہوگیاتھا اختلافات کوہوادینے والے بھی بے شمارتھے سازشی عناصر بھی موقع سے فائدہ اٹھارہے تھے۔ نسیم حجازی کازیادہ وقت چونکہ ایبٹ آباد میں گزرتا اورعنایت اللہ زیادہ وقت دفتر میں گزارتے تھے اس لیے بعض کارکنوں کوان سے اختلاف تھا لہٰذا دفتر میں عنایت اللہ اورنسیم حجازی کی حمایت ومخالفت کے گروپ بن چکے تھے جوجلتی پرتیل ڈالنے میں پیش پیش تھے نسیم حجازی کے بیٹوں اور عنایت اللہ مرحوم کے بھانجوں میں چپقلش تھی جس سے نسیم حجازی صاحب اورعنایت اللہ مرحوم صاحب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ چنانچہ عنایت اللہ جوپبلشراورمینجنگ ڈائریکٹر تھے مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے مستعفی ہوکر ڈائریکٹرہوگئے اور1963ئ میں ادارے سے الگ ہوگئے۔ عنایت اللہ کی جانب سے روزنامہ مشرق نکالنے کے سبب بھی روزنامہ‘‘کوہستان’’ کی سرکولیشن متاثرہوئی۔ روزنامہ‘‘کوہستان’’ میں‘‘میرصاحب’’ کے عنوان سے ایک مستقل کارٹون چھپتا تھا جس سے اس کی اشاعت میں اضافہ ہوگیاتھا مگر‘‘مشرق’’ نے بھی ‘‘میرصاحب’’ کے عنوان سے کارٹون شائع کرنا شروع کردیا ان اخبارات کاجھگڑا چلتا رہا اوریہ طے پایا کہ اصلی میرصاحب‘‘مشرق’’ میں ہے چنانچہ روزنامہ‘‘کوہستان’’ نے‘‘قاضی جی’’ کے عنوان کے تحت کارٹون دیناشروع کردیا جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ اخبار ایک دوسرے کے رقیب تھے ویسے تو ہراخبار دوسرے کارقیب ہوتاہے مگر چونکہ ‘‘مشرق’’ کوجناب عنایت اللہ صاحب کی سرپرستی حاصل تھی لہٰذا وہ روزنامہ‘‘کوہستان’’ کی خامیوں کوجانتے تھے انہوں نے وہ خامیاں‘‘مشرق’’ میں دور کردیں جس سے اس کی اشاعت بڑھتی گئی عبدالقدیر رشک کے مطابق۔‘‘کوہستان’’ کے عین عروج پرنسیم حجازی اور چوہدری عنایت اللہ کے درمیان اختلافات پیداہوگئے میں اورمحمدحنیف رامے نے ان بزرگوں میں افہام وتفہیم کرانے کی بہت کوشش کی لیکن یہ کوشش ناکام رہی کہ دونوں کامالی اوراخباری نقطہ نظر مختلف تھا’’ عنایت اللہ اورنسیم حجازی کی بدولت اخباروں میں جرأت پیداہوئی۔ اخبارات میں بعض نئے کالم داخل ہوئے جوآہستہ آہستہ تمام اخبارات نے اپنالیے۔ ورکنگ جرنلسٹوں کے مشاہرہ میں اضافہ انہی کے دم سے ہوا کیونکہ کسی جرنلسٹ سے کم تنخواہ پرکام لینا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ اخبارات کوانہوں نے اس قدر عوامی مزاج کابنادیا کہ ایک عام آدمی بھی یہ محسوس کرنے لگا گویا وہ بھی ان کے مشن میں شریک ہے۔ روزناموں میں پہلی بار خبری تصویروں کو جگہ ملی اورمضمون نگاروں کی تصویر ہرمکالمے کالازمہ ہوگئی۔ قومی مسائل اورمفاد کوفوقیت دی گئی۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید ‘‘کوہستان’’ کی خوبیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کوہستان نے ‘‘(۱) صفحات کی تعداد بارہ کردی ۔ پہلے اخبار چھ یاآٹھ صفحوں پرنکلتے تھے اس طرح زیادہ مواد دینا ممکن ہوگیا۔ (۲) آف سیٹ طباعت کاطریقہ اپنالیا اس سے ایک تو اخبار کاظاہری حسن دوآتشہ ہوگیا دوسرے اس میں تصاویر کادینا آسان ہوگیا۔ (۳) دینی کالم،طبی کالم وغیرہ دیئے جانے لگے۔ (۴) سنڈے ایڈیشن کے علاوہ ہر جمعۃ المبارک کو‘‘اشاعت ملی’’ کااہتمام کیاگیا جس میں دینی مسائل کے علاوہ دنیا ئے اسلام اوراسلامی تاریخ پرمقالات بھی چھپنے لگے۔ (۵) بڑی شخصیتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی شخصیتوں ،سیاسی کارکنوں، معاشرتی کارکنوں اوربڑی جماعتوں کے پہلو بہ پہلو چھوٹی جماعتوں اوراداروں کے خیالات ،تاثرات اورسرگرمیاں بھی مضامین اورخبروں کاموضوع بنائی گئیں۔ (۶) میک اپ یعنی خبروں کی ترتیب وتزئین میں ایک نیارنگ پیداکیاگیا جوقاہرہ اوربیروت کے عربی اخبارات سے ملتا جلتا تھا اوریہاں کی عام روش سے ہٹ کرتھا۔ (۷) جنس وجرم کی خبروں کوزیادہ تفصیل کے ساتھ چھاپاگیا اورانسانی دلچسپی کادوسرا مواد بھی پیش کیاگیا’’ ‘‘کوہستان’’ میں حافظ مظہر الدین جونسیم حجاز ی کے برادرنسبتی تھے دوکالم لکھتے تھے ان کاایک فکاہیہ کالم‘‘ نشیب فراز’’ کے عنوان سے چھپتاتھا ‘‘ حرف وحکایت’’ کے عنوان سے بھی کالم شائع ہوتا اوردوسرا مذہبی کالم‘‘نشان راہ’’ کے عنوان سے شائع ہوتا۔ ایڈیٹر ابوصالح اصلاحی‘‘ آج کی باتیں’’ کے عنوان سے کالم لکھتے جبکہ عالی رضوی جونسیم حجازی کی عدم موجودگی میں اداریہ لکھتے تھے کامقالہ خصوصی بھی شائع ہوتا ‘‘کوہستان’’ اپنے مخصوص کالم نگاروں کے ساتھ ساتھ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بہترین مضامین کاانتخاب کرکے بھی شائع کرتا۔ نسیم حجازی کارکنوں کی حفاظت اوران کے احترام کافریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ سعود ساحر کے مطابق اس وقت یزدانی ملک راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر اور نسیم حجازی کے بہترین دوست تھے ‘‘کوہستان’’کے ایک رپورٹر نے نسیم حجازی سے یزدانی ملک کی اس کے ساتھ روارکھی جانے والی زیادتی کاتذکرہ کیا تونسیم حجازی نے یزدانی ملک کودفتر سے اعزازی طورپر بھجوایا جانے والا اخبار یہ کہہ کربندکردیا یہ اخبار انہیں اخباری کارکنوں سے تعاون کے باعث بھجوایاجاتا تھا اب تعاون ختم تو اخبار بھی بند تاہم چونکہ تم میرے ذاتی دوست ہو اس لیے اخبار بازار سے خریدو بل میں ادا کروں گا’’۔ روزنامہ‘‘تعمیر’’ اورروزنامہ ‘‘کوہستان’’ میں صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران انہیں وزیراعظم لیاقت علی خان’ گورنرجنرل وصدرپاکستان میجر جنرل سکندر مرزا، فیلڈ مارشل ایوب خان، گورنرجنرل خواجہ ناظم الدین، گورنرجنرل غلام محمد، ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان، وزیراعظم خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمدعلی بوگرا، حسین شہید سہروردی، اسماعیل ابراہیم چندریگر اورملک فیروز خان نون کے علاوہ مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں سے واسطہ پڑا انہوں نے ان ادوار کا بغور مشاہدہ کیا اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سازشوں کونہ صرف دیکھا بلکہ نہایت جرأت کے ساتھ بے نقاب بھی کیا اوراپنی تحریروں کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل پیداکرتے رہے۔ انہوں نے جس طرح بلوچستان میں سرداروں اورجرگے کے اراکین سے راتوں کوملاقاتیں کرکے بلوچستان کاپاکستان کے ساتھ الحاق ممکن بنایا اسی طرح انہوں نے قیام پاکستان کے بعد بھی پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں اورحکومت کے ناروااقدامات کواخبار میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عوام اورملک کوان کے بداثرات سے بچانے کیلئے بھی سرگرم کردارادا کیا۔ حکمرانوں کو ان کے اقدامات کے مابعد اثرات سے آگاہ کیااوراپنے تعلقات کااستعمال کرتے ہوئے حکمرانوں کوملک دشمن فیصلوں سے باز رکھنے کی سعی کی۔ صدر سکندر مرزا کی سازشوں کے خاتمے کیلئے انہوں نے جوڑتوڑ بھی کیے۔ سکندر مرزا کی سازشوں سے قوم کوباخبر رکھنے کیلئے انہوں نے علالت کے باوجود دوسبق آموز تصانیف‘‘معظم علی’’ اور‘‘ اورتلوار ٹوٹ گئی’’ لکھیں اورصحت مند ہوتے ہی ‘‘سفیدجزیرہ’’ لکھی جس میں سکندر مرزا پربراہ راست حملہ کیاگیاتھا جب وہ یہ کتاب اپنے سیکرٹری کواملاکرا رہے تھے تو انہیں بار بار یہ سننے کوملتا کہ وہ خواہ مخواہ کسی مصیبت میں پھنس جائیں گے اوراس دور میں اس کی اشاعت کامطلب یہ ہوگا کہ قوم اپنے ایک بہت بڑے ناول نگار اورصحافی سے محروم ہوجائے گی حکومت وقت نے ان کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کے لوگ لگائے مگر ان کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی1954 میں انہوں نے ‘‘کوہستان’’ میں ون یونٹ کے قیام کیلئے سلسلہ وار مضامین کا آغاز کیا اوراس خدشے سے آگاہ کرتے رہے کہ ون یونٹ نہ بناتو آئین نہ بن سکے گا اورمغربی ومشرقی پاکستان میں برابری قائم نہ ہوسکے گی جس سے متعدد برائیاں جنم لیں گی ۔انہوں نے ون یونٹ اسمبلی کے بلواسطہ انتخاب کے ذریعے انتخاب کی بھی مخالفت کی اورلکھا کہ اس طرح پاکستان کی نظریاتی بنیادیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔6اکتوبر1955کوسکندر مرزا نے گورنر جنرل غلام محمد کی جگہ گورنر جنرل کے عہدے کاحلف اٹھایا وہ ملک کے چوتھے گورنر جنرل تھے23 مارچ 1956ئ کوگورنر جنرل سکندر مرزا نے پاکستان کے پہلے آئینی صدر کی حیثیت سے حلف لیا اور26مئی1956ئ کوصدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزا نے آئین کی دفعہ193 کے تحت مشرقی پاکستان میں آئین معطل کرکے ابوحسین کی سرکار کوبرخاست کردیا۔ نسیم حجازی دیکھ رہے تھے کہ ملک میں جوسیاسی حالات پیدا کیے جارہے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ سکندر مرزا اوراس کے درباری عام انتخابات نہیں ہونے دیں گے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔‘‘بلوچستان میں سکندر مرزا نے جوڈرامہ سٹیج کرایا تھا اورخان قلات کے ذریعے ملک میں ہنگامی صورتحال پیداکرائی تھی وہ اس اصل ڈرامے کاصرف آغاز تھا جوبعد میں کھیلاجاناتھا اورجس کاکچھ حصہ سٹیج بھی کیاگیا کچھ وزرائ اوراعلیٰ عہدیداروں کی زبان پرانتخابات کے بے فائدہ ہونے کی حکایت تھی عوام میں یہ خبر گردش کرتی رہتی تھی کہ عنقریب ملک میں صدر سکندر مرزا اپنی بادشاہت کااعلان کردیں گے اورہماری عظمت رفتہ کواسی طمطراق سے واپس لے آئیں گے جس طرح محمدشاہ رنگیلے کے زمانے میں بادشاہت کی شان وشوکت موجود تھی’’ یہ وہ وقت تھا جب ہزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹا وزیر تو برملا سکندر مرزا کوشہنشاہ کہاکرتا تھا اور سکندرمرزا اس پراظہار ناراضگی کے بجائے خاموش رہنے کوترجیح دیتے جس سے ان کے عزائم کاپتہ چلتا تھا ۔سکندر مرزا کی شاہانہ مزاجی اورعیش وعشرت کی داستانیں زبان زدعام تھیں یہ اطلاعات بھی تھیں کہ صدر نے مرکزی وزارت کے ارکان کے علاوہ ایک مشاورتی کونسل بھی قائم کررکھی تھی جوبادشاہت کے اعلان کوحتمی شکل دینے میں مصروف تھی۔ ناہید سکندر مرزا کیلئے تاج کی تیاری کاآرڈر بھی ایک غیرملکی فرم کودیاجاچکاتھا جس کیلئے سوناپاکستان سے بھجوایا جاچکاتھا۔ انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں۔ نسیم حجازی کونہ جانے کیوں یہ دکھائی دے رہاتھا کہ سکندر مرزا کسی صورت انتخابات نہیں ہونے دیں گے حالانکہ اس وقت خان عبدالقیوم خان کے لمبے لمبے جلوس نکل رہے تھے اوربظاہر یہی نظر آرہاتھا کہ مسلم لیگ کی کامیابی یقینی ہے نسیم حجازی اس ضمن میں خان عبدالقیوم خان اورکمانڈر انچیف جنرل محمدایوب خان سے بھی ملے خان صاحب نے نسیم حجازی سے کہا۔ ‘‘ تم چوہدری محمدعلی کواپنی علیحدہ جماعت بنانے کے بجائے مسلم لیگ کے ساتھ الحاق کامشورہ کیوں نہیں دیتے۔ کیاملک کوسکندر مرزا کی محلاتی سازشوں سے بچانے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ تمام جماعتیں جواس ملک کوجمہوریت کے راستے پرڈالناچاہتی ہیں متحد ہوکرانتخاب لڑیں اورملک کوری پبلکن پارٹی سے نجات دلائیں۔ میں (نسیم حجازی) نے کہاخان صاحب آپ کواس بات کایقین ہے کہ سکندر مرزا کے مشیرانتخابات ہونے دیں گے خان صاحب کچھ دیرسوچتے رہے اور پھربولے‘‘تو تمہارا کیاخیال ہے’’ میں نے جواب دیا خان صاحب یہ میرا خیال ہی نہیں بلکہ مجھے اس بات پریقین ہے کہ سکندر مرزا انتخابات نہیں ہونے دیں گے آپ کوتیس بتیس میل لمبے جلوسوں سے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوناچاہیے سکندر مرزا اس ملک پردائمی اقتدار چاہتے ہیں اوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ آزادانہ انتخابات ان کے اقتدار کیلئے ہوا کاآخری جھونکاثابت ہوں گے’’ ذوق اختر سواتی بتاتے ہیں کہ نسیم حجازی نے خان صاحب کوکہا جمہوریت پسند جماعتوں کے تمام لیڈروں کواس معاملے پرسرجوڑ کربیٹھنا چاہیے کیونکہ 1951ئ کے انتخابات میں جمہوری اصولوں کوروند ڈالاگیا ۔مسلم لیگ نے بھی بدعنوان لوگوں کواقتدار تک پہنچایا اورشریف ودیانتدار لوگوں کوٹکٹ نہ دیئے اگر تمام جماعتوں کومستقبل کے خطرات سے آگاہ کیاجائے اورجمہوریت کے تحفظ کے حق میں لاہور میں مشترکہ اجلاس بلائیں تو لاکھوں لوگ جمع ہوسکتے ہیں سکندر مرزا کوعوامی احتساب کا خوف ہی شہنشاہ بننے سے روک سکتاہے۔ نسیم حجازی نے خان عبدالقیوم خان کومشورہ دیا کہ وہ چوہدری محمدعلی اورمولانا مودودیؒ سے ملاقات کریں کیونکہ انہیں خطرات کاپورا پورا احساس ہے اوروہ آپ کاساتھ بھی دیں گے نسیم حجازی کے مشورے پر خان عبدالقیوم، مولانا مودودی اورچوہدری محمدعلی کی ملاقات ہوئی اس سے قبل نسیم حجازی چوہدری محمدعلی سے لاہور آکر ملاقات کرچکے تھے مذکورہ میٹنگ میں تینوں رہنماؤں نے سکندر مرزا کی سازشوں کامقابلہ کرنے کیلئے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیارکیا۔ اس میٹنگ سے قبل نسیم حجازی کوسکندر مرزا نے نتھیاگلی میں ملاقات کیلئے بلایا ان سے ملاقات کے بعد ان کامزاج قدرے بگڑا ہواتھا ۔وہ مغربی پاکستان کے وزیرصحت خداداد خان سے ملاقات کیلئے بے چین تھے۔ خداد ادخان ذوق اختر سواتی کے رشتے میں ماموں تھے مانسہرہ ڈاک بنگلہ سے دور ایک نالے کے قریب دونوں کی ملاقات ہوئی ۔نسیم حجازی نے خداداد خان سے کہا دیکھو اگر چندسال بعد دنیا نے مٹ جانا ہے تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اچھائیاں برائیاں ختم ہوجائیں گی لیکن اگرپاکستان نے قائم رہنا ہے تو جوکچھ تم آنے والی نسلوں کیلئے کررہے ہو اس کے نتیجے میں تمہاری اپنی اولادیں قبروں سے تمہاری لاشیں نکال کرانہیں پھانسی دیں گی۔ نسیم حجازی نے خداداد خان کوسکندرمرزا کی سازشوں سے آگاہ کیا اورکہا‘‘میں سکندر مرزا کی سازشوں کے خلاف ایک بیان لکھتا ہوں تم اس پردستخط کردو یہ بیان کل شہ سرخیوں کے ساتھ ‘‘کوہستان’’ میں شائع ہوگا جس سے سکندر مرزا اوراس کے ساتھیوں کے ہوش گم ہوجائیں گے ۔آپ کوصرف چند دن کیلئے وزارت چھوڑنی پڑے گی مجھے ‘‘کوہستان’’ کی بندش کی کوئی پرواہ نہیں نہ میں جیل جانے سے ڈرتاہوں۔ خداداد خان نے نسیم حجازی کوبتایا‘‘ سکندر مرزا کوکسی نجومی نے کہہ دیا ہے کہ تم بادشاہ بننے والے ہواوربعض خوشامدیوں نے اس کیلئے تاج بنوانے کاآرڈر بھی دے دیاہے اس لیے آپ سکندر مرزا کی انتقامی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش کریں وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتاہے۔ آپ کی ہرقربانی رائیگاں جائے گی موجودہ حالات میں سکندرمرزا سے ٹکر لینے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا۔ ری پبلکن پارٹی اورملک کے سرمایہ داروں کاگٹھ جوڑ ہوچکاہے۔ خداداد خان نے نسیم حجازی کویہ مشورہ بھی دیا کہ وہ ان باتوں کاتذکرہ کسی اورسے نہ کریں لیکن نسیم حجازی اس بات پرمصر تھے کہ سکندر مرزا اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ادھر مولانا مودودی ،خان عبدالقیوم خان اورچوہدری محمدعلی نے جومسودہ تیار کیا وہ اگلے دن ‘‘کوہستان’’ میں شائع ہوناتھا لیکن رات بارہ بجے نسیم حجازی کودفتر ‘‘کوہستان’’ سے فون آیا کہ سکندر مرزا نے مارشل لائ نافذ کردیاہے اورآئین معطل ہوگیاہے ۔وہی آئین جس کے تحت انتخابات ہونے والے تھے جس کی وفاداری کاحلف سکندر مرزا اورجنرل ایوب نے اٹھایاتھا۔اگر نسیم حجازی کے مشورے کے تحت مذکورہ تینوں رہنماؤں کی میٹنگ تین چارروز قبل ہوجاتی اوران کی طرف سے ڈرافٹ کردہ مسودہ‘‘کوہستان’’میں شائع ہوجاتا تو شاید قوم اس دوسرے مارشل لائ سے بچ جاتی۔ جو7اکتوبر1956ئ کوصدرپاکستان ،میجر جنرل سکندر مرزا نے رات گیارہ بجے لگاتے ہوئے23مارچ 1956ئ کے نافذ آئین کومنسوخ قرار دے کرتمام قومی وصوبائی اسمبلیاں توڑ دیں اوربری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کوچیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر تعینات کردیا۔ یہ وہی سکندر مرزا ہے جس کے بارے میں کہا جاتاہے کہ ‘‘وہ عیاش،سازشی اوراقتدار کابھوکا شخص تھا ،سکندر مرزا میرجعفر(جوبنگال کے سراج الدولہ کے عہد میں تھا اوراس نے سراج الدولہ کے خلاف سازش کرکے اسلامی حکومت کے خاتمے میں انگریزوں کی مدد کی تھی) کی اولاد میں سے تھا’’۔ نسیم حجازی اس مارشل لائ کے بارے میں اپنے ایک اداریے میں لکھتے ہیں۔ ‘‘1956ئ کے آئین کے تحت پاکستان کے پہلے عام انتخابات ہونے والے تھے اورعوام تازہ عزائم اور ولولوں کے ساتھ اپنے مستقبل کے افق پرایک نئی صبح کے آثار دیکھ رہے تھے۔ پھر7اکتوبر1958ئ کی رات آئین کے محافظوں نے اچانک شب خون مارا اورمستقبل کے افق کی یہ دھندلی روشنی نئے اندھیروں میں گم ہوکر رہ گئی اس کے بعد پورے دس سال قوم کی سیاسی ،اخلاقی اورذہنی قدوقامت ایک فرد واحد کی خواہشات اور اغراض کے سانچوں میں ڈھلتی رہی۔ مارشل لائ عائد کیے جانے کے بعد نسیم حجازی کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ‘‘سفیدجزیرہ’’ کی اشاعت موخرکردیں مگر انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے اس کی کتابت پر کام کرنے کی ہدایت کی تاہم پبلشر کوکسی مصیبت کاشکار ہونے سے بچانے کیلئے نسیم حجازی نے کتاب شائع کرنے سے روک دیا اورسکندر مرزا نے ایوب خان کے خلاف سازشوں میں ناکامی پر27 اکتوبر 1956ئ کواپنے عہدے سے مستعفی ہوکراقتدار چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان کے حوالے کردیا۔یوں شہنشاہیت کاخواب دیکھنے والاسکندرمرزا محض20 دنوں میں ہی اقتدار چھوڑنے کے علاوہ ملک چھوڑنے پربھی مجبور ہوگیا اقتدار کی اسی بے ثباتی کے بارے میں نسیم حجازی بعد میں آنے والے حکمرانوں کوبھی مطلع کرتے رہے سکندر مرزا کے بعد نسیم حجازی کویہ امیدتھی شاید اب ماضی کی غلطیوں کاازالہ کیاجائے گا اورایوب خان حالات کی بہتری کیلئے اپناکردارادا کریں گے محلاتی سازشیں ختم ہوجائیں گی مگر ان کی ساری امیدوں پرپانی پھر گیا۔ لکھتے ہیں ‘‘میں ان خوش فہم افراد میں سے تھا جوجنرل ایوب کوقوم کی جانب سے شکریہ کامستحق سمجھتے تھے کہ انہوں نے قوم کوسکندر مرزا کی بادشاہت کی لعنت سے بچا لیاتھا اورمیری دعا یہی تھی کہ اللہ انہیں صراط مستقیم پرچلنے کی توفیق دے اوروہ قوم کے مستقبل کوماضی کے اندھیروں سے بچاسکیں لیکن اس وقت یہ کون کہہ سکتا تھا کہ سکندر مرزا کا17دن کااقتدار صرف ‘‘سفیدجزیرہ’’ کی داستان کانتیجہ تھا اس بھیانک خواب کی حقیقی تعبیر تو ایوب خان کے دور صدارت کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور میں نے روشنی کی جس ہلکی سی کرن کوطلوع سحر کاپیش خیمہ سمجھاتھا وہ ایک فریب نظر کے سواکچھ نہ تھی’’ روزنامہ ‘‘کوہستان’’ میں نسیم حجازی لکھتے رہے کہ سکندر مرزا سازشوں سے اپنا اقتدار محفوظ کرنے کی جوکوششیں کررہے ہیں اس سے ملک میں ایک فوجی آمریت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جنرل ایوب کے اقتدار میں آنے سے ان کاخدشہ حقیقت کاروپ دھار گیا اورایوب خان ایک عشرے تک بلاشرکت غیرے ملک پرحکومت کرتے رہے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے نسیم حجازی ایوب خان کوبھی اصلاح احوال کے مشورے دیتے رہے صدر ایوب سے ان کے اچھے تعلقات بھی رہے لیکن انہوں نے حق وسچ کادامن نہ چھوڑا۔ ایوب خان نے بعض معاملات پرجوخالصتاً قومی مفادات سے تعلق رکھتے تھے نسیم حجازی کے مشوروں کوقبول کیا مگر یہ ایوب خان ہی تھے جونسیم حجازی کواپنے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے ۔روزنامہ ‘‘کوہستان’’ میں نسیم حجازی نے نظام تعلیم،ثقافت، سماجی ناہمواریوں، بیوروکریسی، ملکی سیاست، آمریت ،رسم الخط، ون یونٹ،اسلامی نظام کی ضرورت واہمیت ،قومی نظریات اورمفادات کے تحفظ کیلئے آواز بلند کی اوران معاملات پر کسی نوع کاسمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کردیا وہ پاکستان کے نظام تعلیم کے حوالے سے اپنی تحریروں میں خدشات کااظہار کرتے ہوئے اس کی اصلاح کیلئے آواز بلندکرتے رہے۔ ‘‘میں سمجھتاہوں پاکستان کے نظام تعلیم، اس کے ذرائع ابلاغ اوراس کے علم وادب کوایک نظریاتی ریاست کی ضرورت کے مطابق ڈھالنا ہمارے لیے پسندیاناپسند کامسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے لیے موت وحیات کامسئلہ ہے یہ ہمارے ،حکمرانوں ،دانشوروں ادیبوں اورمفکروں کی وہ اخلاقی ذمہ داری ہے جس سے فرار کاراستہ ہلاکت وتباہی کی طرف جاتاہے’’ نسیم حجازی نظام تعلیم کی بہتری اورتعلیم کی اہمیت کااحساس دلاتے ہوئے قوم کویہ بتاتے رہے کہ جس طرح سقوط غرناطہ کے بعد اسپین میں مسلمانوں کوجبراً عیسائی بنانے کی تحریک شروع ہوئی تھی اسی طرح متحدہ ہندوستان میں شدھی کی تحریک کاآغاز کیاگیا ہے ۔ہندو راج کے علمبرداروں کو یہ امید تھی کہ وہ انگریز کے جانے کے بعد برسراقتدار آکریہاں سپین کی تاریخ دہراسکیں گے کانگریسی وزارتوں کے قیام کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا یہ بھیانک چہرہ دکھانے کاآغاز کردیاتھا ان کی اولین کوشش واردھیا کے نام سے ایک ایسانظام تعلیم رائج کرناتھا جومسلمانوں کوذہنی طورپر ہندوبناسکتا تھا۔ لارڈ میکالے کی بھی یہی خواہش اورکوشش رہی کہ مسلمان صرف نام کے مسلمان رہیں اپنے مضمون‘‘ پاکستان ایک نظریاتی ریاست اوراس کی ذمہ داریاں’’ میں لکھتے ہیں۔ ‘‘ہماری اولین ضرورت ایک ایسا نصاب تعلیم تھا جوقوم کے بچوں اورجوانوں کواسلامی نظریات کے سانچے میں ڈھال سکتا یہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہ تھا اگر1948ئ میں ہی پہلی جماعت سے لے کر دسویں تک کانصاب تعلیم ہماری ملی ضرورت کے تابع ہوتا تو چندسال کے اندر اندر قوم کاہرجوان اقبال کاشاہین نظر آتا اوریہاں پاکستان کے مخالفین اوربیرونی نظریات کے تاجروں کی منڈیاں قائم نہ ہوتیں۔ ہم ایک بیدار اورمتحرک قافلہ ہوتے اورہماری گزرگاہ پران سیاسی شعبدہ بازوں اورمداریوں کواکھاڑے جمانے کاموقع نہ ملتا جن کے ضابطہ اخلاق میں قوم اور وطن کاکوئی رشتہ مقدس نہیں ہوتا۔ اپنے نظام تعلیم کو کسی تاخیرکے بغیر اپنے نظریہ حیات کے سانچے میں ڈھالنا اس لیے ضروری تھا کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں اسلام کے خلاف ایک سیاسی ونظریاتی جارحیت کاسیلاب تیزی سے اٹھ رہاتھا اوربیرونی نظریات کے تاجروں کے ایجنٹ یاان کے ایجنٹوں کے ایجنٹ مختلف ریاستوں سے پاکستان کے نظریاتی قلعے میں نقب لگا رہے تھے۔ لیکن ہمارا نظام تعلیم وہی رہا جوانگریز ہمارے لیے چھوڑ گیاتھا اس غفلت کانتیجہ یہ ہوا کہ ہماری درسگاہیں بیرونی نظریات کے ایجنٹوں کی کمین گاہیں بن گئیں اوروہ نظریہ حیات جس کاتحفظ ہمارے لیے زندگی موت کامسئلہ تھا آہستہ آہستہ موضوع بحث بننے لگا’’ نظریہ پاکستان اوردو قومی نظریہ نسیم حجازی کے ‘‘کوہستان’’ کے اہم موضوعات تھے انہوں نے اپنے ناولوں کے ساتھ ساتھ اخبارات کے ذریعے بھی اس نظریے کواجاگر کرنے کی مقدور بھر سعی کی۔‘‘ تنظیم’’ اور‘‘کوہستان’’ کواس حوالے سے انہوں نے ایک اہم ذریعے کی طور پراستعمال کیا پروفیسر مرزا منور لکھتے ہیں۔‘‘انہوں(نسیم حجازی) نے قوم کے سیاسی امور میں بھرپور دلچسپی لی اورمسلمانان برصغیر کے دلوں میں کلام اقبال کی روح پھونکنے قائداعظم کا پیغام عام کرنے کیلئے بڑی جدوجہد کی پاکستان بن جانے کے باوجود ان کی یہ جدوجہد جاری رہی۔ وہ ناول بھی لکھتے رہے۔ انہوں نے اخبار ‘‘تعمیر’’ بھی نکالا اورپنڈی ہی سے ‘‘کوہستان’’ اخبار جاری کیا جسے لے کرپھر لاہور آگئے اورایک وقت ایسابھی آیا کہ ‘‘کوہستان’’ پاکستان کاسب سے بڑا کثیرالاشاعت روزنامہ بن گیا۔ اس اخبار کے ذریعے بھی نسیم حجازی نے نظریہ پاکستان کو تقویت دینے کیلئے اورقومی وملی استحکام کی خاطر جوبس میں تھا کیا’’ نسیم حجازی کسی بھی قوم کی بقا میں نظریے کاعمل دخل ضروری سمجھتے تھے ان کاموقف تھا دنیا میں اگر کوئی قوم ایک نظریہ چھوڑ کردوسرا نظریہ اپنالیتی ہے تومسئلہ زیربحث یہی رہ جائے گا کہ اس کاپہلا مسلک بہتر تھا یا دوسرا یعنی نظریات کی تبدیلی کے ساتھ کسی ملک کی جغرافیائی حدود یااس میں بسنے والوں کے قومی تشخص میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا مثلاً جن قوموں کی تشکیل میں تاریخی،نسلی، جغرافیائی اورلسانی عوامل کارفرماہوتے ہیں انہیں کوئی حادثہ اپنے قومی تشخص سے محروم نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کے حریف اپنی نظریاتی جنگ کوملک کی سرحدوں سے سینکڑوں میل دور جاکرلڑتے ہیں ان کے ابلاغ کے تمام وسائل اپنے نظریات پھیلانے میں مصروف ہیں اوران کے نظام تعلیم میں بنیادی نظریے کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہاجاسکتا حالانکہ کوئی نظریہ ان کیلئے زندگی اور موت کامسئلہ نہیں لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم پاکستان کے خلاف غیروں کی نظریاتی جنگ کوصرف اپنی سرحدوں کے اندر ہی نہیں سکولوں اورکالجوں کے اندر لے آئے ہیں جوقومی سرمائے سے چلتے ہیں اس سلسلے میں اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔ ‘‘ پاکستان ایک نظریے کامرہون احسان ہے اورنظریہ یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ ایک نظریاتی اورخالصتاً نظریاتی ریاست ہونے کی حیثیت سے پاکستان دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے’’۔‘‘ نظریاتی ریاستیں اپنے جہدوعمل، اپنی ہمہ وقت بیداری اوراپنے عمل وحرکت کے باعث زندہ رہتی ہیں اپنی نظریاتی اساس کے بارے میں ان کارویہ مدافعانہ نہیں ہوتا وہ یاتو اپنے عمل وحرکت کی بدولت بڑھتی یاپھولتی ہیں اور یااپنی بے راہ روی اوربے حسی کے باعث نابود ہوجاتی ہیں’’۔‘‘ قومی یانسلی ریاستوں کے محافظ اگر کسی ایک محاذ سے پسپا ہوجائیں تو وہ کسی دوسرے محاذ پر فتح کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن نظریاتی ریاستوں کیلئے پسپائی کے بعد کوئی جگہ نہیں ہوتی نظریاتی ریاست کی مثال ایک دریا کی سی ہے جوپہاڑوں کی بلندیوں سے نکلتاہے اورراستے کی آبشاروں ،ندیوں نالوں اور جھیلوں یہاں تک کے جوہڑوں کاپانی سمیٹتا ہوا چلا جاتاہے قدرت نے اس کے بہاؤ میں یہ خوبی رکھی ہے کہ غلاظت سمٹ کراس کے کناروں پرجمع ہوجاتی ہے اوراس کاپانی پاک ہوتا رہتاہے۔ جب نظریاتی ریاست میں حرکت وعمل کی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں اورعوام کی نگاہوں سے اجتماعی نصب العین اوجھل ہوجاتاہے تو دریا کسی ریگستان میں پہنچ کر متعفن دلدلوں،جھیلوں اورجوہڑوں میں تقسیم ہوجاتاہے 1947ئ میں پاکستان کے قیام کامطلب یہ نہیں تھاکہ ہم اندرونی اوربیرونی خطرات سے محفوظ ہوگئے تھے ،ہمیں وطن مل گیا تھا ،بلکہ قوم کی تعمیر کاکام باقی تھا اورقوم کی صحیح تعمیراسی نظریاتی اساس پرہوسکتی تھی جوپاکستان کے قیام کاباعث تھی’’ روزنامہ ‘‘کوہستان’’ میں نسیم حجازی نے جوضروری سمجھا وہ کسی خوف کے بغیر لکھ ڈالا اورجن امور پر گفت وشنید کی ضرورت محسوس ہوئی ان پرملاقاتوں اور بات چیت کے ذریعے کوئی قابل قبول حل نکالنے کی راہ ہموار کی قومی مفادات کے ضمن میں انہوں نے کہیں خاموشی بھی اختیار کی مقصد صرف اورصرف یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح مسائل کاسدھار ممکن ہو جب ‘‘شہاب نامہ’’ کے خالق ایوب خان کے سیکرٹری اطلاعات قدرت اللہ شہاب نے نسیم حجازی کواردو کیلئے رومن رسم الخط رائج کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیااورانہیں اس ضمن میں فیلڈمارشل ایوب خان سے ملاقات کیلئے کہاتو نسیم حجازی فوراً رضامندہوگئے قدرت اللہ شہاب نے نسیم حجازی کی ایوب خان سے ملاقات کااہتمام بھی کرایا اورانہیں بتایا کہ صدر صاحب اس معاملے میں خاصے سنجیدہ ہیں کیونکہ ان کے پیچھے بعض عناصر کارفرماہیں۔ نسیم حجازی اس سازش کوبخوبی سمجھتے تھے وہ ترکی کارسم الخط تبدیل کیے جانے کے نتائج سے بھی باخبر تھے ۔قیام پاکستان سے کئی سال پہلے ہندو ٗ بنگالی زبان کے عربی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط رائج کرانے میں کامیاب ہوچکے تھے نسیم حجازی جانتے تھے کہ اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں ہر اس بات سے خدا واسطے کابیر تھا جواسلام اورمسلمانوں سے تعلق رکھتی ہو۔ انہی لوگوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کورومن رسم الخط کی تجویز پیش کرتے وقت ترکی کی مثال دی اورانڈونیشیا کاذکر بھی کیاجہاں سینکڑوں مقامی زبانیں تھیں جنہیں متحد کرنے کیلئے سوئیکارنو نے رومن رسم الخط رائج کردیاتھا ۔یہ لوگ اپنے دلائل کوتقویت دینے کیلئے کہتے تھے کہ اس سے پشتو پنجابی اورسندھی کاجھگڑا ختم ہوجائے گا دراصل وہ درپردہ یہ چاہتے تھے کہ عربی سے ہمارا رشتہ کمزور ہووہ یہ دلیل بھی دیتے کہ رومن رسم الخط رائج ہوگیاتو بنگالی اردو کاجھگڑا بھی ختم ہوجائے گا ان وجوہ کی بنائ پرایوب خان رسم الخط کی تبدیلی کے قائل ہوگئے تھے نسیم حجازی ایوب خان سے اپنی ملاقات کاحال بیان یوں کرتے ہیں۔ ‘‘ہماری گفتگو شروع ہوئی اورفیلڈمارشل محمدایوب خان خدا انہیں غریق رحمت فرمائے۔ تقریباً دو گھنٹے تک اطمینان سے میری باتیں سنتے رہے۔دوران گفتگو مجھے کبھی کبھی اس بات پرتعجب محسوس ہوتا تھا کہ وہ میری گفتگو کوکس طرح برداشت کررہے ہیں۔ جب میں خاموش ہوا تو فیلڈ مارشل صاحب چند ثانیے میری طرف غور سے دیکھتے رہے پھرانہوں نے فرمایا‘‘ نسیم صاحب آپ اس اطمینان کے ساتھ نتھیاگلی کی سیرکرتے ہوئے واپس جاسکتے ہیں کہ میں رسم الخط تبدیل نہیں کروں گا’’ ثقافت کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہے اوراسی کی بدولت وہ دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے تاریخ عالم شاہد ہے کہ جب بھی کسی بیرونی قوت اور جارح نے کسی ملک پرقبضہ کیاتو سب سے پہلے اس کی ثقافت کوختم کرنے کی کوشش کی زیادہ دور نہ بھی جائیں تو ماضی قریب میں جب انگریزوں نے برصغیر پرقبضہ کیاتو سب سے پہلے مسلمانوں کی ثقافت مٹانے کی سعی کی یہاں رائج دفتری زبان فارسی کاخاتمہ کردیا۔ اسی طرح ہندواپنے رسوم ورواج کاسایہ مسلمانوں پرڈالتے رہے۔ پاکستان بھرمیں دیکھی جانے والی انڈین فلموں اورگانوں کی بدولت اطالوی نژاد سونیا گاندھی یہ کہنے پرمجبور ہوئیں کہ ہم نے پاکستانیوں کواپنی ثقافت کے رنگ میں رنگ لیاہے ثقافت کی اسی اہمیت ہی کے پیش نظر نسیم حجازی اپنی پہچان کی طرف لوٹنے کی دعوت فکر دیتے رہے انہیں امید تھی کہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پرا لحاد اورفاشزم کی یلغار کاخطرہ قوم کی ساری فعال قوتوں کوبیدار کردے گا۔ وہ جماعتیں جواسلام اورجمہوریت کے ساتھ وفاداری کادم بھرتی ہیں اس خطرہ عظیم کاسامنا کرنے کیلئے متحد ہوجائیں گی لیکن ان کی یہ توقعات پوری نہ ہوئیں ‘‘ثقافت کی تلاش’’ اسی مقصد کیلئے ہی لکھی گئی ۔ نسیم حجازی ریڈیواورٹی وی کے غلط استعمال کے تباہ کن اثرات کامشاہدہ1951ئ میں امریکہ کی سیاحت کے دوران کرچکے تھے اسی لیے انہوں نے ایوب خان کویہ مشورہ دیاکہ جب تک ایسے لوگ تیار نہیں کیے جاتے جوٹی وی سے پاکستان کی نظریاتی اساس مضبوط کرنے اور جدید ادب کے چوردروازوں سے پاکستان کی سالمیت پرحملہ کرنے والے عناصر کوشکست دے سکیں ٹی وی کے غلط استعمال کونہیں روکاجاسکتا۔ کیونکہ دور حاضر میں جدید ذرائع ابلاغ بڑی اہمیت رکھتے ہیں یہ عوام کے ذہن بدلنے اورانہیں اچھائی یابرائی کی طرف مائل کرنے کاموثر ترین ذریعہ ہیں اس لیے ان کے درست استعمال کااہتمام بنیادی ضرورت ہے لکھتے ہیں۔ ‘‘ہمارے ریڈیو کاسب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے پاکستان کے بچوں کونہ صرف پاکستان بلکہ پورے ہندوستان کے فلمی گانے حفظ کرادیے پھر ٹیلی وژن کی باری آئی اوراس نے رہی سہی کسرپوری کردی آپ نے دیکھا ہوگا چندسال تک اسلام کی حالت ایک ملزم کی سی تھی ٹیلی ویژن کے وکلائ اورجج صاحب اس انداز سے جرح کرتے تھے جیسے کوئی عجیب چیز باہر سے نازل ہوئی ہے اوراس کاحدود اربعہ ناپاجا رہاہے یاکسی بیمار کومیز پرلگادیاگیا ہے اورٹیلی وژن کے ترقی پسندڈاکٹر صاحبان اس پرعمل جراحی فرمارہے ہیں’’ اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں۔‘‘مشرقی پاکستان میں بلبل اکیڈمی سے ثقافت کی ابتدائ ہوئی دردمندان قوم اس بات پر پھولے نہیں سماتے تھے کہ وہ غیرملکی سیاحوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کریہ کہہ سکتے ہیں کہ اب تم ہمیں رجعت پسندیاپسماندہ نہیں کہہ سکتے اگر کسی اورمیدان میں نہیں توکم ازکم ثقافتی سرگرمیوں میں ہم کسی سے پیچھے رہناپسند نہیں کریں گے پھردانشمندوں نے مغربی بنگال کے اس لٹریچر کیلئے اپنے کالجوں اورسکولوں کے دروازے کھول دیئے جس کامقصد اسلامی اخوت کے رشتے توڑنے کیلئے بنگالیوں کی نسلی عصبیت بیدارکرناتھا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان ہندوستان کی ثقافت اورادب وآرٹ کے سمندرکاایک جزیرہ بن گیا مغربی پاکستان میں بھی جدت پسندی اورثقافت کے نام پر جن فتنوں کی ابتدائ ہوئی وہ اپنی انتہا کوپہنچ چکے تھے علاقائی قومیتوں میں ملک کے اس حصے کی تقسیم ہماری آزادی و بقا کے دشمن کو اپنے مقاصد کے حصول کا بہترین ذریعہ نظر آئی چنانچہ ثقافت ٹرائے کاوہ گھوڑا تھا جس کے اندر ہماری آزادی و بقا کے دشمن چھپے ہوئے تھے۔نوکر شاہی نے پاکستان کی تباہی و بردبادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نسیم حجازی نے بھی نوکر شاہی کے خلاف اسقدر لکھا کہ شاید ہی کسی صحافی کو اس طرح نوکر شاہی کے خلاف صفحات سیاہ کرنے کی توفیق ہوئی ہو۔وہ نوکر شاہی میں کچھ لوگوں سے متاثر بھی تھے اور انہیں نوکر شاہی کی تاریک رات میں روشنی کا استعارہ سمجھتے تھے۔سید ہاشم رضا، قدرت اللہ شہاب اور ڈائریکٹر انٹر سروسز کموڈور مقبول حسین کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چمکتے ستارے سمجھتے تھے جنہوں نے پاکستان کے قیام اور استحکام کیلئے عظیم خدمات انجام دیں۔جبکہ دوسری جانب ان کیلئے یہ ناقابل فہم تھا کہ ہر ڈویژن کے کمشنر صاحبان اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر صاحبان نے علاقائی ثقافت کی تشہیر کیلئے ثقافتی شو منعقد کرنا اہم ترین فریضہ سمجھ لیا تھا وہ ملک کے قیمتی سرمایے سے ملک کی بنیادیں کھو کھلی کررہے تھے اور انہیں اس امر کا احساس تک نہ تھا۔ ‘‘دو قومی مقاصد سے بے اعتنائی اور بے حسی کی اس سے زیادہ شرمناک مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ آٹھ نو سال قبل ایک ضلع کے صدر مقام میں ایک شاندار ثقافتی شو منعقد ہوا اور ضلع کے معززین نے اس بات پر احتجاج کیا کہ ہمارے علاقے کی ثقافت کے نام پر بازاری عورتوں کے ناچ دکھائے گئے تھے ڈپٹی کمشنر صاحب نے انتہائی معصومیت کے ساتھ اپنی صفائی میں یہ بیان دیا کہ اس شو میں بازاری عورتوں کی شمولیت کا الزام قطعاً غلط ہے یہاں جن خواتین نے رقص و موسیقی کے فن کا مظاہرہ کیا تھا وہ شریف گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ نسیم حجازی کہتے ہیں میرے خیال میں ایک سابق فوجی صدر جنرل یحییٰ خان کا دور حکومت جرنلسٹوں کیلئے انتہائی شرمناک تھا۔اس طرح سیاستدانوں کیلئے بھی سابق حکمرانوں کے دور کو قابل ستائش قرار نہیں دیا جاسکتا دراصل جرنیلوں کی سیاست بھی ان کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ یہاں ایک خاص قسم کا پودا اگتا ہے جیسے بیوروکریسی کہتے ہیں باہر سے جو بھی آتا ہے یہ اسی کے ہوجاتے ہیں۔یونانی مغل اور راجپوت جو بھی یہاں حکمران آئے یہ انہی کے ساتھ مل گئے اسلامی شعور کو انہوں نے بیدار ہی نہ ہونے دیا ۔یہ لوگ تو سمرقند و بخارا کو تاراج کرکے یہاں تک پہنچے ہیں اگرآپ کو یقین نہ آئے تو ان بیوروکریٹس کا شجرہ نسب دیکھ لیجئے۔یہاں جو بھی جرنیل آتے رہے ان کی اپنی خوبیاں اور صلاحیتیں بہت جلد غائب ہوجاتی تھیں۔ یہ بیورکریٹ انہیں گھیر کر ان کے آنکھ ،کان اور دماغ بن جاتے ہیں میں اس سلسلے میں ایوب خان کے بارے میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ ابتدا میں تلخ سے تلخ واقعات بھی برداشت کرلیتے تھے لیکن بیوروکریسی نے بعد میں ان کا جو حشر کیا اس پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ ملکی و قومی ثقافت کے تحفظ اور مغربی ثقافت کی غلاظتوں کے خلاف لکھنے ہی کی پاداش میں نسیم حجازی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا۔جب نسیم حجازی اس ضمن میں صدر ایوب سے ملے تو ڈائریکٹر صاحبان اور ان کے نائبین کی جواب طلبی ہوئی اور نسیم صاحب سے مصالحت کی کوشش کی گئی۔ریڈیو پر اعلان کیا گیا کہ روزنامہ‘‘ کوہستان ’’کے خلاف حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔اے پی پی کو بھی ایسا ہی ایک نوٹ جاری کیا گیا۔نسیم حجازی نے فیلڈ مارشل ایوب خان سے کہا کہ آپ جن لوگوں کو اپنی آنکھ اور کان بنائے ہوئے ہیں ان میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی آپ کے ہاتھ میں ملک کی قسمت ہے یہ محض اتفاق ہے کہ آپ مجھے جانتے تھے ورنہ میں اپنی تمام خوبیوں کے باوجود آپ کے ان نااہل مشیروں کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ اس واقعہ کے حوالے سے نسیم حجازی ‘‘سیارہ ڈائجسٹ ’’ کو ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں۔ ‘‘میں نے ایک گورنر سے کہا تھا اگر پاکستان نہ بنتا تو شاید تم گورنر نہ ہوتے بلکہ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر ہوتے۔لیکن اگر پاکستان نہ بنتا تو نسیم حجازی نسیم حجازی نہ ہوتا۔میں نے اس سے کہا تم ثقافت کے نام پر پاکستانی قوم پر جس چیز کو تھوپ رہے ہو وہ ثقافت نہیں ہے بلکہ ثقافت تو وہ ہے جس کیلئے ہم نے پاکستان بنایا تھا۔دراصل معاملہ یوں ہوا تھا کہ ڈائریکٹر ون یونٹ نے قائداعظم کے یوم پیدائش پر ایک رنگا رنگ جشن منانے کا پروگرام بنایا تھا جس میں ملکہ ترنم نور جہاں’ رخشی (رقاصہ) اور کئی دوسرے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے تھے ۔میں نے کراچی میں قیام کے دوران ‘‘پاکستان ٹائمز ’’میں جب اس پروگرام کی تفصیلات پڑھیں تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے آنے والے کل یہ پروگرام تعلیمی اداروں سے نکل کر مساجد میں پیش کئے جانے والے ہوں میں نے کموڈور مقبول حسین (ڈائریکٹر انٹر سروسز) کو فون کیا اور پھر اخبار‘‘کوہستان’’ ہی میں اس کے خلاف اداریہ لکھا تو میری حمایت میں عوام کے خطوط آنا شروع ہوگئے۔ ہماری بیوروکریسی کو بھلا یہ سب کہاں برداشت تھا چنانچہ میرے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کردیا گیا۔مقدمہ بغاوت قائم کرنے والوں میں ایک میجر صاحب اور چند سیکرٹری صاحبان شامل تھے لیکن یہ لوگ اس حیثیت سے ناواقف تھے کہ میرے فیلڈ مارشل ایوب خان سے مراسم ہیں اور میں ان تک باآسانی پہنچ سکتا ہوں۔چونکہ میں کراچی میں تھا اس لئے ان میجر صاحب نے روزنامہ ‘‘کوہستان’’ کے مالک مرحوم عنایت اللہ کو دھمکیاں دیں۔ان سے اس بارے میں نہ صرف تحریری بیان لینا چاہا بلکہ انہیں باقاعدہ طور پر ایک سرکلر بھی جاری کردیا گیا جس میں لکھا تھا۔‘‘کوہستان’’ ایک ناپسندیدہ اخبار ہے حکومت اس کے ایڈیٹر سے سخت ناراض ہے جسے آئندہ کسی تقریب میں نہیں بلایا جائے گا۔میں نے فون پر عنایت اللہ مرحوم کو تاکید کی کہ وہ کوئی بیان نہ دیں اور میری واپسی کا انتظار کریں ادھر کموڈور مقبول حسین نے فون پر مجھ سے کہا بھائی یہ کیسی پبلک ریلشننگ ہے کہ دوست کے بجائے دشمن بنائے جارہے ہیں۔پھر انہوں نے ہی مجھے مشورہ دیا کہ آپ رسالپور میں فیلڈ مارشل ایوب خان سے ملیں جو پاک فضائیہ اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں شرکت کیلئے تشریف لارہے ہیں چنانچہ جب میجر قاسم کے ہمراہ میں اس پریڈ میں پہنچا تو فیلڈ مارشل نے میرے دراز قد کی وجہ سے مجھے دورہی سے دیکھ لیا۔وہ بڑے پرتپاک طریقے سے مجھے ملے۔میں نے جب ان سے اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں نے قریب کھڑے جنرل موسیٰ سے کہا ‘‘مسٹر موسیٰ ہم نسیم صاحب کو پریشان نہیں دیکھ سکتے’’ میں نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سے کہا‘‘جناب اگر میرے اخبار کی ضرورت نہیں تو بند کردیتا ہوں۔آپ کے مارشل لائ نے تو میرے اوپر ایک نئی ثقافت سوار کردی ہے جسے میں اتار پھینکنا چاہتا ہوں اس کے ساتھ ہی میں نے فیلڈ مارشل کو اس تقریب کی تصاویر پیش کیں جس میں ملکہ ترنم نور جہاں اور دوسری رقاصاؤں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔میں نے ایوب خان سے سوال کیا۔جناب کیا رقص و موسیقی کے خلاف بات کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے میرے سوال پر ایوب خان نے یہ معاملہ جنرل موسیٰ کی موجودگی میں حل کردیا اور مجھے گورنر اختر حسین صاحب سے ملاقات کیلئے کہا گیا۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے گورنر اختر حسین سے کہا تھا۔جناب میرے خاندن کے گیارہ افراد نے پاکستان کیلئے جان دی ہے میں اس کے عوض آپ سے وہی کچھ مانگتا ہوں جس کیلئے پاکستان قائم کیا گیا تھا۔‘‘گورنر صاحب نے میرے جذبات کی بہت قدر کی’’۔غیر ملکی ثقافت کی تباہ کاریوں کے بارے میں نسیم حجازی نے نہ صرف متعدد مضامین لکھے بلکہ اپنے اداریوں کے ذریعے بھی حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی دعوت دیتے رہے۔ اپنے ایک اداریے میں لکھتے ہیں۔ ‘‘رقص و سرود اور عشق و ہوس کی ثقافت کبھی کسی قوم کیلئے سرمایہ نہیں بنی ہے دور جانے کی ضرورت نہیں مسلمان اپنی تاریخ میں اس ثقافت کی لائی ہوئی بربادیوں اور تباہ کاریوں کی داستانیں پڑھ سکتے ہیں ہماری بڑی بڑی سلطنتیں فسق و فجور کے ہاتھوں ڈوبیں اور اسی برصغیر میں ہماری عزت و آبرو کا جنازہ انہی مشاغل کے کندھوں پر نکلا۔ ‘‘کوہستان’’ نسیم حجازی کی سرپرستی میں عوامی مقبولیت کی منازل تیزی سے طے کررہا تھا تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح ‘‘کوہستان’’ کی بنیادی پالیسی تھی ہر اچھے کام کی تعریف اور غلطی و کوتاہی پر محاسبے نے ‘‘کوہستان ’’کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جس سے دیگر اخبارات نے بھی یہی چلن اختیار کیا عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں۔ ‘‘کوہستان ’’پاپولر جرنلزم کا ایک نمونہ ہے اور اس کی دیکھا دیکھی دوسرے اخباروں نے بھی یہی رنگ اختیار کرلیا ہے۔نسیم حجازی ناسازی طبیعت کے باعث ایبٹ آباد میں مقیم ہونے کے باوجود اداریہ ابوصالح اصلاحی یا عالی رضوی کو املاکر ادیتے مراسلات کے جواب اور فکاہی کالم بھی فون ہی پر لکھوا دیتے اخباری مصروفیات کے باوجود وہ ناول نگاری کے کام پر بھی توجہ نہیں دے پارہے تھے۔ ان کی محنت شاقہ کی بدولت اخبار کی اشاعت اس دور کے دیگر اخبارات سے کہیں زیادہ ہوگئی ابتدائ میں ‘‘کوہستان ’’کی اشاعت چار پانچ ہزار تک محدود تھی لیکن اس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور یہ 76 ہزار تک جاپہنچی لاہور اور ملتان سے اشاعت کے بعد اس کی مجموعی اشاعت کو تین جگہوں سے اس طرح تقسیم کیا جاسکتا ہے راولپنڈی سے 6 ہزار ملتان سے 5 ہزار اور باقی ساری اشاعت لاہور سے تھی گویا ساری اشاعت کا بڑا حصہ لاہور سے تھا۔ یعنی 1953ئ میں انتہائی مخدوش حالات میں نکلنے والے اخبار نے پانچ سال کے مختصر سے عرصے میں تین مقامات سے اشاعت کا آغاز کیا اور اس کی سرکولیشن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ممتاز عمر کے مطابق۔اس اخبار کا سنہری دور 1961ئ سے 1963ئ تک کا ہے جب اس کی اشاعت تقریباً 75 ہزار تک جاپہنچی جو اس زمانے کے اعتبار سے روزنامہ ‘‘جنگ’’ کے علاوہ کسی اور اخبار کو حاصل نہ تھی۔ نسیم حجازی کی عدم موجودگی میں عالی رضوی کوہستان کا اداریہ لکھتے 1963ئ میں حکومت مختلف صحافیوں کو مصر لے گئی لیکن مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پی آئی اے کی پرواز کو حادثے کے نتیجے میں طیارے میں موجود مختلف اخبارات کے تمام اخبار نویس جاں بحق ہوگئے ان میں ‘‘کوہستان ’’کے ایڈیٹر ابوصالح اصلاحی بھی شامل تھے ان کی وفات کے بعد راولپنڈی میں امین راحت چغتائی جو‘‘ کوہستان ’’کے نیوز ایڈیٹر تھے ایڈیٹر بنائے گئے انکے بعدچیف رپورٹر راولپنڈی قیوم قریشی ایڈیٹر بنے بعدازاں ناصر بخاری یہ ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔منہاج الدین اصلاحی بھی ایڈیٹر رہے جب پہلا انسان چاند پر پہنچا تو امین راحت چغتائی نے اخبار میں یہ مضحکہ خیز سرخی جمائی۔ ‘‘کرہ ارض سے زمین کے درمیان رابطہ قائم ہوگیا’’ اسی طرح عوامی لیگ سے مستعفی ہوکر اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی تشکیل دینے والے مولانا عبدالحمید خان بھاشانی کو عوام نے راولپنڈی میں جلسہ نہ کرنے دیا تو ‘‘کوہستان ’’نے اس کی خبر یوں شائع کی۔ ‘‘کوہستان کے شہر میں بھاشانی کو جلسہ نہ کرنے دیا گیا’’اگر چہ نسیم حجازی ایک ناول نگار کی حیثیت سے کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے لیکن‘‘ کوہستان’’ کے ذریعے وہ ایک بڑے صحافی کے روپ میں سامنے آئے۔روزنامہ‘‘ حیات زمانہ اور تنظیم’’ میں ان کی صحافتی زندگی سے پاکستان کے عوام اسقدر واقفیت نہیں رکھتے تھے لیکن روزنامہ‘‘ کوہستان’’ نے انہیں بحیثیت صحافی ملک بھر میں متعارف کرایا وہ اپنے دور کے گرانڈیل صحافی تھے۔ ملک کی اہم اور مقتدر شخصیات سے تعلقات کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اپنی ذات کیلئے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور نہ ہی حکومت سے کسی قسم کی مراعات کے طالب ہوئے حالانکہ اس دور کے صحافی اپنا قلم بیچنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے معمولی مفادات کیلئے کسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے اور کسی کو محض اختلافات اور مفادات کے عدم حصول کی بنیاد پر ذلیل کردیا جاتا۔ان کے قلم چڑھتے سورج کے بچاری تھے۔اس ضمن میں نسیم حجازی کہتے ہیں ‘‘جہاں تک ہمارے ملک کا سوال ہے تو یہاں صحافی کاکام یہ ہے کہ جب کوئی اقتدار سے محروم ہوتو اس کے لیے وہ مجرم ،قابل نفرت اور قابل گردن زنی ہوتا ہے لیکن جب وہ اقتدار میں ہو یا دوبارہ اقتدار میں آجائے تو قابل احترام ہوتا ہے وہ ان تمام صفات کا مالک قرار پاتا ہے جو شاید کسی انسان میں آسانی سے نہ ملتی ہوں حتی ٰکہ وہ بیچارہ خود بھی ان بھاری بھر کم عزت افزائ الفاظ کے مفہوم سے ناآشنا ہو جو کہ اس کے لئے استعمال کیے جارہے ہیں’’۔ ‘‘کوہستان’’ کے سب ایڈیٹر حافظ بشیر احمد اعوان کہتے ہیں نسیم حجازی نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا ایک مرتبہ آرمی چیف ایوب خان نے نسیم حجازی کو وہ خبر دکھائی جس میں کہاگیاتھا کہ ایک بڑے فوجی افسر نے ملک کا سودا طے کرنے کے لیے بھارت سے تین کروڑ کا چیک وصول کیا ہے یہ خبر ملک کی بدنامی کا باعث تھی نسیم حجازی نے ایوب خان کو اس کاخبر کا جواب دینے اور اس کے نتیجے میں پھیلی ہوئی مایوسی اور اضطراب کے خاتمے کی یقین دہانی کروائی ۔اگلے روز نسیم حجازی نے ‘‘کوہستان’’ کے ایک خصوصی مقالے میں لکھا‘‘دشمن کے ایجنٹ ملک کی رعایا کو افواج پاکستان سے بدظن کرنے کے لیے غلط افواہیں پھیلاتے ہیں ایک اہم فوجی افسر جس کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے کے خلاف اسی طرح کی افواہ پھیلائی گئی ہے’’ چند روز بعد ایوب خان نے نسیم حجازی کو بلایا اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا آپ نے کمال کردیا۔ایوب خان کے ملٹری سیکرٹری نے نسیم حجازی کو ایک خطیر رقم پیش کی نسیم حجازی نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے ایوب خان سے اس حرکت کی شکایت کی تو ایوب خان نے کہا کہ آپ جو کچھ ہمارے اور ملک کے حق میں شائع کرتے ہیں یہ اسکا معاوضہ ہے نسیم حجازی نے جواب دیا کہ وہ ایسی کوئی رقم لینے کو تیار نہیں جس کا کوئی ریکارڈ نہ ہو۔ قدرت اللہ شہاب کہتے ہیں میں تین مختلف وزارتوں میں سیکرٹری رہا 9 سال تک تین Head of the State کے ساتھ کام کرتا رہا بے شمار لوگ اپنی اپنی اغراض اپنا اپنا کام لے کر آتے تھے لیکن اس سارے عرصے میں نسیم حجازی صاحب نے کبھی مجھے کوئی ذاتی کام نہیں کہا جب بھی ملے اپنی کوئی نہ کوئی کتاب مجھے عنایت کی۔نسیم حجازی کے اخبار ‘‘کوہستان ’’میں بعض ایسی خبریں بھی شائع ہوتی رہیں جن سے انہیں یہ خدشہ ہوا کہ ان کے اخبار کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھایا جاسکتا ہے لیکن ایوب خان کے سیکرٹری اطلاعات قدرت اللہ شہاب کی ذاتی دلچسپی کے باعث ان کے اخبار کو حکومت کی جانب سے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا قدرت اللہ شہاب بعض معاملات پر از خود نسیم حجازی کو بتائے بغیر ان کی حمایت میں پیش پیش رہے اسی نوع کے ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نسیم حجازی کہتے ہیں ‘‘گورنر صاحب (گورنر جنرل غلام محمد) نے بیماری کے دوران اقتدار حکومت سنبھالا تھا کوئی بھی سیکرٹری کی حیثیت سے ان کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہ تھا کہ قدرت اللہ شہاب رضا مند ہوگئے غلام محمد صاحب نے ایک روز ناراضگی میں ٹائم پیس ان پردے مارا تھا۔شہاب صاحب نے اپنے آپ کوبچالیا اوراس کے بعد بھی کام کرتے رہے۔گورنر جنرل کی بیماری میں اضافہ ہوا تو ایک روز مشتاق احمد گورمانی اورچند دوسرے وزرائ کراچی پہنچ گئے۔ نسیم حجازی نے ‘‘کوہستان ’’کے سٹاف کو محتاط رہنے کی تاکید کی اور فون پر کہا کہ خبر کو زیادہ تشویشناک نہ بنائیں لیکن ایک سینئر رپورٹر نے اخبار کے صفحہ اول پر یہ خبر لگادی کہ غلام محمد صاحب کا سانس رکا ہوا ہے اور ان کی بیماری نازک مرحلے میں پہنچ گئی ہے کسی اور اخبار نے یہ خبر نہیں چھاپی تھی۔ اگلے روز ایک معاصر نے یہ نوٹ لکھ دیا کہ یہ سوچی سمجھی شرارت تھی غلام محمد صاحب تو ٹھیک ہیں نسیم صاحب کو یقین تھا کہ ضرور ان سے اس بارے میں حکومت باز پرس کرے گی۔لیکن جب کچھ نہ ہوا تو ایک دن نسیم حجازی کو پتہ چلا کہ یہ معاملہ قدرت اللہ شہاب نے حل کرادیا تھا۔ ‘‘کوہستان’’ چونکہ پاکستان کا ایک مقبول عام اخبار بن چکا تھا اس لئے مخالفین کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی۔کچھ اپنے اخبارات کی عدم مقبولیت سے پریشان سازشوں میں مصروف تھے اور ان کی خواہش تھی کہ حکومت ‘‘کوہستان’’ کو بھی نیشنل پریس ٹرسٹ میں شامل کرلے ایوب خان کو بھی یہ تجویز پیش کی گئی مگر قدرت اللہ شہاب نے ایوب خان کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ڈاکٹر تصدق حسین راجا لکھتے ہیں روزنامہ ‘‘کوہستان’’ کے خلاف حکومتی سطح پر کارروائی شروع ہوچکی تھی اس میں بعض ایسے لوگ بھی شریک تھے جو نسیم حجازی کو نقصان پہنچا کر اپنا مستقبل روشن کرنے کے خواہشمند تھے نسیم صاحب نے 1953ئ میں‘‘ کوہستان’’ جاری کیا تھا اور اسے ملک کا ایک بڑا اخبار بنانے میں اپنی زندگی کے بہترین سال صرف کردیئے تھے ان لوگوں نے حکومت کے چند بااثر لوگوں سے مل کر اچانک چیف جسٹس منظور قادر مرحوم سے ‘‘کوہستان ’’کے خلاف حکم امتناعی حاصل کرلیا تھا۔منظور قادر صاحب کے ساتھ نسیم حجازی کے تعلقات کا پس منظر یہ تھا کہ وہ فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم کے دور میں وزیر خارجہ تھے اور نسیم صاحب ان کی پالیسیوں پر سخت نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔فیلڈ مارشل صاحب کے آئین کا اعلان جب پہلی بار اخبار نویسوں کے سامنے ہوا تو منظور قادر صاحب اس آئین کے معمار کی حیثیت سے بعض باتوں کی وضاحت کررہے تھے۔حمید نظامی روزنامہ ‘‘نوائے وقت’’ کے ایڈیٹر اللہ کو پیارے ہوچکے تھے اور بیشتر اخبار نویسوں کی نگاہیں بالخصوص مشرقی پاکستان سے آئے ہوئے اخبار نویسوں کی نگاہیں نسیم حجازی صاحب کی طرف اٹھ رہی تھیں۔کسی نے سرگوشی کی جناب آپ یہ پوچھ لیں کہ ہمیں اس آئین پر تنقید کرنے کی کس حد تک اجازت ہے۔نسیم صاحب نے اٹھ کر یہ سوال پوچھا تو منظور قادر مرحوم نے یہ جواب دیا کہ آپ کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا پڑے گا کہ مارشل لائ ابھی ختم نہیں ہوا۔اس پر تھوڑی تلخ کلامی ہوگئی۔حجازی صاحب کا اصرار تھا یہ کوئی راز کی بات نہیں۔آئین ایک ایسی دستاویز ہے جس کا قوم کے ساتھ تعلق ہے یہ کوئی احکام ربانی نہیں جو ہر تنقید سے بالاتر ہو۔منظور قادر پہلے ہی نسیم حجازی سے خوش نہیں تھے۔ ان کی لسٹ میں ایک ناپسندیدہ آدمی کا اضافہ ہوگیا ‘‘کوہستان ’’کے خلاف جب حکم امتناعی جاری ہوا اس وقت یہ اشاعت کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا اخبار تھا اور اس کی ماہانہ آمدنی و اخراجات ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ تھے۔اس وقت ‘‘کوہستان’’ کا ایک دن کیلئے بند ہوجانا بھی انتہائی نقصان دہ تھا۔حجازی صاحب اس یکطرفہ فیصلے پر رنجیدہ تھے۔ وہ سیدھے قدرت اللہ شہاب کے پاس گئے جو سیکرٹری اطلاعات تھے اور ان سے کہا میں صدر صاحب کو ملنا چاہتا ہوں مجھے فوراً لاہور پہنچنا چاہیے کل آپ کو میرے متعلق یہ اطلاع ملے گی کہ مجھے توہین عدالت کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔نسیم صاحب نے قدرت اللہ شہاب کو یاد دلایا کہ انہوں نے ‘‘کوہستان’’ میں اس بات کی مخالفت کی تھی کہ منظور قادر صاحب کو ہائیکورٹ کا جج کیوں بنایا گیا ہے؟ان کا موقف یہ تھا کہ کسی شخص کو سیاسی خدمات کے عوض عدلیہ میں کوئی عہدہ دینے کی رسم ڈالنا بڑا خطرناک ہے اگریہ رسم پڑ گئی تو جج بننے والے امیدواروں کو میدان سیاست میں بہت گندے کام کرنے پڑیں گے۔شہاب صاحب نے بڑی نرمی سے انہیں سمجھایا کہ ایسا نہ کریں بلکہ اپنے وکیل سے جواب دعویٰ لکھوا کر عدالت میں پیش کریں لاہور جاتے ہوئے جہلم کے پل پر نسیم حجازی صاحب نماز کیلئے رکے تو ان کی ملاقات مولوی مشتاق حسین سے ہوگئی جو ان دنوں لائ سیکرٹری تھے اور لاہور آرہے تھے کچھ دیر دونوں حضرات میں کچھ باتیں ہوئیں پھر نسیم صاحب لاہور پہنچے اور وکیل سے جواب دعویٰ تیار کروا کر عدالت میں داخل کرادیا۔منظور قادر صاحب کی عدالت میں صبح سب سے پہلے نسیم صاحب کو بلایا گیا ۔نسیم صاحب کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن منظور قادر صاحب نے ایک منٹ کے اندر فیصلہ سنادیا جس کے مطابق حکم امتناعی واپس لے لیا گیا تھا۔روزنامہ‘‘ کوہستان ’’ایک مکمل اخبار تھا جیسا کے پہلے کہا گیا ہے کہ اس نے اردو صحافت میں نت نئے فنی صوری اور مصنوعی تجربات کئے جس سے دوسرے اخبارات میں بھی جدت پیدا ہوئی مختلف النوع ملی ایڈیشنز فلمی اور بچوں و خواتین کے ایڈیشن ٗبہترین فیچرز ٗ کالم ٗ خصوصی مقالہ جات ٗ کارٹونز ٗ تحقیقی خبریں اسے اس دور کے اخبارات سے ممتاز کرتی تھیں۔نسیم یعقوب قتل کیس اس دور کے اخبارات کا ایک اہم موضوع تھا جسے کوہستان کے فیچر رائٹر اور مشہور صحافی تاج دین حقیقت نے حل کیا۔راولپنڈی کی لیڈی لیکچرار نسیم یعقوب کے شوہر میجر یعقوب سرگودھا میں ‘‘ کوہستان ’’ کے ذیلی دفتر میں دو انچ کا ایک مختصر سا اشتہار لے کر آئے۔اشتہار اس مضمون پر مشتمل تھا کہ ان کی بیوی نسیم یعقوب جو راولپنڈی سے انہیں ملنے کیلئے سرگودھا آرہی تھی راستے میں کہیں غائب ہوگئی اس کا سراغ لگانے والے کو پانچ ہزار روپے انعام دیا جائے گا اشتہار چھپ گیا مگر تاج الدین حقیقت اس پہلو پر غور کرتے رہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی سے محبت وغیرہ کے سلسلے میں ان کے سامنے محض اداکاری کی ہے۔پولیس سے رابطہ قائم کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں میجر صاحب نے (پرچے کے بجائے محض)رپورٹ لکھوائی ہے۔بحیثیت صحافی مسٹر حقیقت کو اس بات کا پورا احساس تھا کہ ایسی خاتون کا یوں غائب ہوجانا بہت اہم خبر ہے۔انہوں نے میجر یعقوب سے گاہے بگاہے مسز نسیم کے متعلق دریافت کرنا شروع کیا کہ وہ ملیں یا نہیں؟انہوں نے نسیم یعقوب کی پراسرار گمشدگی سے متعلق خبر بھی‘‘ کوہستان ’’میں دے دی اس کے ساتھ ہی اپنی تفتیش بھی شروع کردی یہ کوشش کی کہ راولپنڈی سے سرگودھا آنے والی ٹرین میں وقوعہ کے روز جن لوگوں نے سفر کیا تھا ان میں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے رابطہ قائم کیا جائے۔ریلوے سے یہ معلوم ہوا کہ مسز نسیم نے اس روز فرسٹ کلاس میں سرگودھا پہنچنے کے بجائے لالہ موسیٰ تک کا سفر کیا تھا ۔اس کا ٹکٹ لالہ موسیٰ ریلوے سٹیشن سے مل گیا۔پھر لالہ موسیٰ کے ایک قلی سے معلوم ہوا کہ اس نے ایک روز ایک نوجوان خاتون کو یہاں سے ایک کار میں بیٹھ کر جاتے دیکھا ہے۔اس کے بعد دوسرے جن لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا ان سے انٹریو کیا گیا۔میجر یعقوب سے بھی انٹرویو کیا گیا۔مسز نسیم کی تصویر راولپنڈی سے اسکے ایک کالج کی دوست سے منگوائی۔میجر یعقوب نے مسٹر حقیقت کو گھروالوں اور اہل خاندان سے متعلق بہت سی باتیں بتائیں مسٹر حقیقت نے میجر یعقوب کے تعلقات،معاشقوں اور دوستوں کے متعلق معلومات حاصل کیں۔مسز نسیم امید سے تھیں جبکہ میجر یعقوب کی پہلی بیوی کے بچے جوان تھے ۔مسٹر حقیقت نے میجر یعقوب کو کہا پولیس کو یقین ہے قتل آپ ہی نے کیا ہے میجر یعقوب کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا۔پھر تحقیق کے بعد میجر یعقوب کے بھائی مسعود کی اس جرم میں وابستگی سامنے آئی تاج الدین حقیقت کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔رشوت پیش کی گئی مگر ان کے فیچر کے خطوط پر تفتیش سے جرم ثابت ہوا اور مجرموں کو سزا ہوئی۔ یوں ‘‘کوہستان’’ کے مذکورہ فیچر کے ذریعے ایک اندھے قتل کا سراغ ملا اور لوگوں کا اعتماد‘‘ کوہستان’’ کی بے باک صحافت پر اور بڑھ گیا۔‘‘کوہستان ’’میں شائع ہونے والے کارٹون بھی نہایت دلچسپ تھے جو حفیظ سرور بناتے تھے۔روزنامہ‘‘ کوہستان ’’کے کارٹون خصوصی اہمیت کے حامل تھے اور اس اخبار کے کارٹونوں نے دیگر اخبارات کی نسبت خاصا نام کمایا‘‘میر صاحب’’ کے عنوان چھپنے والے مستقل کارٹون نے وہ شہرت حاصل کی جو کسی اور کے حصے میں نہیں آئی ‘‘کوہستان ’’کے کارٹون سیاسی، معاشرتی، معاشی ،علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات پر ہوتے تھے جن میں طنز اور رہنمائی کا عنصر بھی نمایاں تھا اور ان کے کیپشن بھی اپنی مثال آپ تھے۔ایک کارٹون میں ایک نوجوان لڑکی اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا اور اسے پکارتے ہوئے ایک بزرگ کودکھایا گیا ہے کہ نوجوان بزرگ کی پکار پر دونوں جانب توجہ کئے ہوئے ہے اور نیچے یہ مصرع لکھا ہے۔‘‘کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسائ میرے Èگے’’ایک دوسرے کارٹون میں ایک خزاں رسیدہ درخت کے تنے سے ایک بکری بندھی اوپر درخت کی طرف دیکھ رہی ہے اور نیچے مصرع لکھا ہے:۔‘‘پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ’’ روزنامہ کوہستان کی کامیابیوں کا سفر جاری تھا۔نسیم حجازی کی سچائی حق گوئی ،بے باکی اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی روش حکمرانوں کو پسند نہ آئی ایوب خان نے نسیم حجازی کو اپنی راہ کا کانٹا سمجھنا شروع کردیا انہیں‘‘ کوہستان’’ کے خلاف بہکانے والوں کی تعداد بڑھتی رہی۔سازشوں کا وہ سلسلہ جو پہلے در پردہ جاری تھا اب روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا۔نواب آف کالا باغ ‘‘کوہستان’’ اور نسیم حجازی کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے تھے حکومتی عناصر اور نوکر شاہی کسی موقع کی تلاش میں تھی تاکہ وہ اپنی انا کی تسکین کرسکے بالآخر انہیں یہ موقع ہاتھ آگیا 6 نومبر 1963ئ کو‘‘ کوہستان ’’نے جمعیت طلبائ کے مظاہروں کے متعلق ایک خبر شائع کی جس میں تین طلبائ کے ہلاک ہونے کا ذکر تھا۔یہ خبر حقائق کے برعکس تھی اگلے روز پولیس نے وہ تینوں طلبائ ایک پریس کانفرنس میں پریس کے سامنے پیش کردیئے جن کی ہلاکت کی خبر‘‘ کوہستان’’ میں شائع ہوئی تھی۔یہ ‘‘کوہستان’’ کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی ۔نسیم حجازی کی جانب سے محتاط رہنے کے باوجود لاہور کے چیف رپورٹر حبیب الرحمان نے حکومتی کارندوں کا آلہ کار بن کر یہ خبر چھپوا دی نسیم حجازی کو گرفتار کرلیا گیا اور نواب آف کالا باغ نے ایک ہفتہ تک ان کی ضمانت نہ ہونے دی۔‘‘ کوہستان’’ کی اشاعت پر اس اشتعال انگیزی کے الزام میں دو ماہ کیلئے پابندی عائد کردی گئی مگر یہ پابندی 44 دن تک رہی۔امتیاز شاہد لکھتے ہیں۔ on november 7,1963 Nasim Hijazi was arrested and his newspaper kohistan(lahore and multan) was banned for three months ایک ایسا اخبار جو ایک روز کی بندش بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا جب 44 روز کی پابندی کے بعد دوبارہ جاری ہوا تو اس کی مالی حالت خاصی مخدوش ہوچکی تھی کیونکہ اخبار کی بندش کے باوجود کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی رہی دفاتر کے کرایے ادا کئے گئے اس پر طرہ یہ کہ نیوز ایجنٹوں اور اشتہاری کمپنیوں نے پیسوں کی ادائیگی سے انکار کردیا۔اخبار کی سرکولیشن متاثر ہوئی تنخواہوں کے مسائل پیدا ہوئے عنایت اللہ کے ‘‘کوہستان’’ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے اختلافات کے بعد مشرق کے اجرائ سے‘‘ کوہستان’’ کا آدھا عملہ مشرق میں چلا گیا ‘‘کوہستان’’ کی بندش سے باقی ملازمین بھی مایوسی سے دوچار ہوئے حکومت کی بھی یہ کوشش تھی کہ کوہستان پھر سر نہ اٹھا سکے کوہستان کا گھیرا تنگ کیا جاتا رہا 1966ئ میں ‘‘کوہستان’’ کے زوال کا آغازہوگیا۔ نسیم حجازی کو مجبور کردیا گیا کہ وہ اخبار فروخت کردیں چاروں طرف سے گھر جانے اور اخبار کی گرتی ہوئی ساکھ کو دیکھتے ہوئے نسیم حجازی زیادہ عرصہ تک ان مشکلات کا سامنا نہ کرسکے۔ایک روز نسیم حجازی کو ملک خدا بخش بچہ جو اس وقت وزیر اور صوبائی مسلم لیگ کے صدر تھے نے دھمکی دی کہ کوہستان کو نسل لیگ جو بعد ازاں کنونشن لیگ بن گئی کے حوالے کردیا جائے دوسرے روزگورنر امیر محمد خان عرف کالا باغ نے بھی نسیم حجازی کو دھمکی دی کہ اخبار حوالے کردیا جائے ورنہ ان کے خلاف بے شمار مقدمے درج کردیئے جائیں گے نسیم حجازی جیسے نڈر اور بے باک انسان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ان دھمکیوں سے پریشان اورخوفزدہ ہوئے ہوں گے بہرحال نہ جانے کیا مصلحت اور مجبوریاں تھیں کہ نسیم حجازی نے 31 اکتوبر 1966ئ کو‘‘ کوہستان’’ ساڑھے تین لاکھ میں کنونشن لیگ کو فروخت کردیا۔ممتاز عمر لکھتے ہیں ‘‘42 دن بعد’’ کوہستان’’ کو دوبارہ اجازت مل گئی اور پھر اخبار اپنی آزاد پالیسی پر رواں دواں رہا اور یہ انداز حکومت کیلئے ناقابل برداشت تھا سرکاری حلقوں نے مختلف ہتھکنڈے آزمائے مگر اخبار کو اپنی خواہشات کے مطابق چلوانے میں ناکام رہے لیکن سرکار پھر سرکار ہے کون کب تک جبر و استبداد کا مقابلہ کرسکتا ہے مجبوراً 1966 میں اس اخبار کو برسراقتدار جماعت کنونشن لیگ کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا اور یہیں سے اس اخبار کا زوال شروع ہوا۔ نسیم حجازی کی اہلیہ نجابت بیگم نے اپنے مضمون ‘‘کچھ یادیں کچھ باتیں’’ میں لکھا ہے ‘‘کوہستان’’ ضبط کرتے وقت حکومت نے ان کے تمام حقوق پامال کردیئے تھے اور انہیں چودہ سال محنت و جانفشانی کا کوئی معاوضہ نہیں دیا تھا ۔صرف کمپنی میں ان کے حصوں کی قیمت دے دی گئی تھی فیلڈ مارشل محمد ایوب مرحوم اور کنونشن لیگ نے یہ سمجھ کر روزنامہ‘‘ کوہستان’’ ہتھیا لیا تھا کہ سونے کی چڑیا ہے لیکن تین چار ماہ بعد انہیں معلوم ہوگیا تھا کہ سونے کی چڑیا نہ تھی ایک ایسا شجر میوہ دار تھا جس کی آبیاری میرے شوہر کے خون جگر سے ہوئی تھی۔فیلڈ مارشل نے اسے مکمل طور پر فتح کرکے کنونشن لیگ کی تحویل میں دے دیا اور محکمہ مال کے ایک کلرک نے جو زمانے کی غلط بخشیوں کی بدولت مختلف منازل طے کرکے سیکرٹری،وزیر اور صوبائی کنونشن لیگ کے صدر بن گئے تھے ‘‘کوہستان ’’کے مدار الہام بن گئے’’۔ تقریباً20 روز تک عنایت اللہ مرحوم‘‘کوہستان’’ کے معاملات چلاتے رہے اورپھر خدابخش بچہ نے نئے چیئرمین کے طورپر ‘‘کوہستان’’ کے اختیارات سنبھال لیے ان کی صدارت کے دوران‘‘کوہستان’’ کومزید ایک لاکھ روپے دیئے گئے جبکہ90ہزار روپے بطور زر ضمانت یونائیٹڈ بینک میں جمع کرائے گئے تاکہ ‘‘کوہستان’’ لمیٹڈ قرضہ لے سکے کنونشن لیگ نے اخبار کی آزاد اورغیرجانبدارانہ پالیسی کوختم کرکے اسے کنونشن لیگ کاترجمان بنادیا۔ اس دور کے اخبارات کی فائلوں کامطالعہ عکاسی کرتا ہے کہ اخبار کنونشن لیگ کی تقریبات ،لیڈروں کے بیانات اوران کے کارناموں کے مواد پرمبنی ہوتا تھا اخبار کی ہراشاعت میں ایوب خان کی ایک بڑی سی تصویر شائع کی جاتی اخبار کی سرخیاں،اداریے اورمضامین کنونشن لیگ کے پروپیگنڈے پرمشتمل ہوتے1966ئ سے1969ئ تک کوہستان لمیٹڈ کاایک نیابورڈ آف ڈائریکٹر تشکیل ہوا جس کے چیئرمین مغربی پاکستان مسلم لیگ کنونشن کے صدر احمد سعید کرمانی بنائے گئے صوبائی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سردار خضر حیات خان اس کے مینجنگ ڈائریکٹر ہوئے اور لیگ کے قائم مقام سیکرٹری جنرل ملک محمدقاسم اس کے واحد ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ اخبار میں کسی بھی مخالف جماعت کی خبر کی اشاعت سختی سے ممنوع تھی اگر ایڈیٹر اخبار کی غیرجانبداری کے تاثر کے تحت کسی جماعت کی خبر شائع کردیتاتو کنونشن لیگ کے نوابزادہ عبدالغفور خان ہوتی اخبار اٹھائے دفتر آدھمکتے اور باز پرس شروع کردیتے اخبار کاعملہ انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا کہ اس طرح اخبار ناکام ہوجائے گا مگر وہ جیب پرہاتھ مارکرکہتے کہ‘‘تنخواہیں لیتے جاؤ اورچپ چاپ ہماری پالیسی پرچلتے رہو’’ اس پالیسی کے نتیجے میں اخبار کی اشاعت 75 ہزار سے کم ہوکر20ہزار رہ گئی اوراخبار پرایک پارٹی کے اخبار کی چھاپ لگ گئی۔ ایوب خان کے زوال کے بعد نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے تنخواہوں کی ادائیگی اوراخبار کے اخراجات پورے کرنا وبال جان بن گیا اخبار کی خرید کے وقت کارکنوں کے سابقہ بقایاجات بھی تھے بورڈ آف ڈائریکٹر کایہ وتیرہ تھا کہ سابقہ تین ماہ کی تنخواہ دے دی جاتی اورچھ ماہ کی روک لی جاتی اس طرح واجبات کی ادائیگی کابوجھ بڑھتا گیا چنانچہ10 اگست 1969ئ کوکارکنوں نے علامتی ہڑتال کردی سیاسی رہنماؤں نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ان رہنماؤں میں مولانا مودودی،مولانا طفیل محمد،نیشنل عوامی پارٹی مغربی پاکستان کے صدر سی آر اسلم اورکونسل مسلم لیگ کے ممتاز دولتانہ شامل تھے جس پرانتظامیہ نے یہ موقف اختیار کیاکہ اس نے اپنے حصے کے حصص جن کی مالیت 4لاکھ روپے کی تھی‘‘مشرق’’ کے کارکن صحافی اشرف طاہر کومنتقل کردیئے ہیں لہٰذا وہ تنخواہیں اورواجبات اداکرنے کے پابند نہیں ہیں۔ اشرف طاہر پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے عہدیدار تھے ان کی اپنی نیت خراب ہوچکی تھی وہ سوچ رہے تھے کہ روزنامہ‘‘کوہستان’’ کے دن تھوڑے ہیں کیوں نہ ان چھ آفسٹ مشینوں پرقبضہ جمالیاجائے جونہایت قیمتی ہیں اس کاخیال تھا کہ کارکن مایوس ہوکرادارہ چھوڑ جائیں گے اوروہ مشینوں پرقبضہ کرلے گا۔ اس نے ملک قاسم سے بات کرکے کہاکہ اگر اسے کنونشن لیگ ایک لاکھ روپے دے دے تو وہ آسانی سے اخبار چلاسکتا ہے حالانکہ اس وقت کارکنوں کی تنخواہیں چھ لاکھ روپے تھیں جون1969ئ میں اشرف طاہرنئی انتظامیہ کاچیئرمین بن گیا تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرکارکنوں نے قلم چھوڑ ہڑتال کردی جوآٹھ روز تک جاری رہی اوراشرف طاہر کو‘‘کوہستان’’ لاہور اورملتان کے عملے کی جون اورجولائی کی تنخواہیں اداکرناپڑیں تین ماہ تک اخبار ٹھیک انداز میں چلتا رہا اس کی پالیسی بھی پھرسے آزاد اورغیرجانبدار ہوگئی۔ لیکن تین ماہ بعد تنخواہوں کے مسئلے نے دوبارہ سر اٹھایا اورنوبت پھرہڑتالوں تک جاپہنچی21نومبر کوہستان کے عملہ نے‘‘کوہستان’’ کے دفاتر میں تالے لگادیئے اس طرح‘‘ کوہستان ’’کی اشاعت تقریباً ساڑھے تین ماہ بند رہی ۔معاصر اخبارات نے بھی‘‘ کوہستان ’’کے عملے کی حمایت میں خبریں اور اداریے شائع کئے یونین کے رہنما طارق وارثی نے علامتی طور پر پکوڑوں کی ریڑھی لگائی۔اس صورتحال میں مسلم لیگ کنونشن کے سیکرٹری جنرل ملک قاسم نے اپنے بیان میں کہا 18اگست1969ئ کے بعد مسلم لیگ‘‘کوہستان’’ کی مالک نہیں اور اس نے اپنے تمام حصص اشرف طاہر کو منتقل کردئیے ہیں انہوں نے اشرف طاہر کو یہ مشورہ دیا کہ اگر وہ اخبار کو نہیں چلا سکتے تو یہ حصص ‘‘کوہستان’’ کے عملے کو ان کی خواہش کے مطابق منتقل کر دئیے جائیں حالانکہ اسوقت تک اخبار کنونشن لیگ کی ملکیت میں تھا اور لیگ اشرف طاہر کو حصص فروخت کرنے کا اعلان کر رہی تھی جبکہ پانچ سو سے زائد کارکن کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور تھے۔ پاکستان بھر کے لیڈروں اور وکلائ نے ان کی حمایت میں جلوس نکالے بھوک ہڑ تالیں کیں بیانات دیئے یہ یحییٰ خان کے مارشل لائ کا دور تھا مارشل لائ اتھارٹی نے احتجاج کا یہ سلسلہ روکنا چاہا حکومت نے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔کوہستان ورکرز یونین کے صدر جناب عبدالوحید خان اور پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے سینئر نائب صدر منہاج الدین نے واجبات کی فہرست مارشل لائ اتھارٹی کو پیش کی یہ واجبات سات لاکھ تین ہزار روپے تھے مارشل لائ اتھارٹی نے دسمبر 1969ئ میں فیصلہ دیا کہ اشرف طاہر اخبار کا مالک نہیں ہے لہذا کنونشن لیگ یہ رقم ادا کرے یوں رقم کی ادائیگی پر ہڑتالیں ختم کردی گئیں۔اور مارشل لائ اتھارٹی کی طرف سے میجر ابن حسن کو‘‘ کوہستان’’ کا ایڈمنسٹریٹر بنادیا گیا جس نے یونین کے عہدیداروں کو‘‘ کوہستان ’’کی فروخت کیلئے پارٹی تلاش کرنے کاکہا اس طرح جون 1970ئ میں جماعت اسلامی کے خازن اورصنعت کار رانا اللہ داد نے‘‘ کوہستان’’ کو ساڑے تین لاکھ میں خرید لیا مارشل لائ کے ضابطہ نمبر 63 کے تحت نئی انتظامیہ کا معاہدہ اتحاد پبلشرز سے ہوگیا نئی انتظامیہ نے آتے ہی 80 افراد کو نکال دیا لیکن ان کی یہ کوشش یونین نے ناکام بنادی دوسری بار کم تعداد میں چھانٹی کی گئی اور اخبار کی اشاعت محض دس ہزار رہ گئی۔اس دور میں نسیم حجازی نے ایک بار پھر اخبار کی فروخت کے چار سال بعد‘‘ کوہستان ’’کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اوراتحاد و پبلشر نے نسیم حجازی کی ادارت کے حوالے سے بڑے بڑے اشتہارات شائع کئے۔یہ بات نسیم حجازی کیلئے کس قدر افسوس اور دکھ کا باعث ہوگی کہ وہ جس اخبار کے مالک رہے اسی اخبار میں انہیں مدیر کی حیثیت سے ملازمت کرنا پڑی لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہ ادارت کی ذمہ داریوں سے اس لئے سبکدوش ہوگئے کہ جماعت اسلامی نے اسے اپنی مرضی سے چلانے کی سعی کی اور تنخواہوں کے ضمن میں کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس دوران انہوں نے مشرقی پاکستان کے حالات پرجاندار اداریے لکھ کراپنا قبلہ درست کرنے پر زور دیا لیکن کسی نے ان کی آواز پر کان نہ دھرے اور ملک ٹوٹ گیا۔جماعت اسلامی کے ہاتھوں اس اخبار کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوگئی۔اس کے قارئین کا حلقہ محدود ہوگیا اور یہ کنونشن لیگ کی طرح جماعت اسلامی کا اخبار بن گیا۔ ملازمین کی چھانٹی کی مخالفت میں پیپلزپارٹی کے مولانا کوثر نیازی ،شیخ رشید ڈاکٹر محمود عباس بخاری اور عبدالحفیظ کاردار نے بیانات دیئے اور اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مارشل لائ کے ضابطہ نمبر 63 کے تحت اس اخبار کو چلانے کیلئے اتحاد پبلشرز کے ساتھ معاہدہ اس لئے کیا گیا تھا کہ اخبار کی اقتصادی حالت بہتر ہو لیکن انتظامیہ کارکنوں کو برطرف کررہی ہے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ۔جماعت اسلامی کے رہنما مولانا مودودی نے ریذیڈنٹ ایڈیٹر ‘‘کوہستان ’’ناصر بخاری کے خط کے جواب میں 1970ئ میں یہ وضاحت کی کہ روزنامہ‘‘ کوہستان ’’سے جماعت اسلامی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘‘آپ کا عنایت نامہ ملا،اتحاد پبلیکشنز سے میرا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے نہ اس کے انتظام میں میرا کوئی دخل ہے اس لئے میں آپ کے معاملہ میں مداخلت تو نہیں کرسکتا البتہ اس کے منتظمین کو توجہ دلا سکتا ہوں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی بے انصافی ہوئی ہے تو اس کی تلافی کردیں: خاکسار ابوالاعلیٰ مودودی۔بالآخر 1971ئ میں اتحاد پبلشرز اور رانا اللہ داد نے‘‘ کوہستان ’’کو بند کردیا۔مگر ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 2 مئی 1972ئ کو روزنامہ ‘‘کوہستان ’’کے متاثرہ کارکنوں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے واجبات کی ادائیگی کیلئے بھوک ہڑتال کردی اور اس امر پر زور دیا کہ واجبات ادا نہ کئے گئے تو ہڑتال جاری رہے گی اس دوران واجبات کی ادائیگی کیلئے حکومت نے 28مارچ 1972ئ کو ایوارڈ کا اعلان کیا لیکن ایک ماہ گزرنے پر بھی اس پر عمل نہ کیا گیا جس پر کارکنوں نے 23مئی 1972ئ کو 20دن کی بھوک ہڑتال کی جس کی قیادت شاکر حسین کررہے تھے اخبار کے کارکن واجبات کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے تھے اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب ملک معراج خالد پنجاب یونین آف جرنلسٹ اور پاکستان خوش نویس یونین کی یقین دہانی پر بھوک ہڑتال ختم کی جس کے کافی عرصے بعد انہیں ادائیگی کردی گئی۔روزنامہ ‘‘کوہستان ’’اپنی موت آپ مرگیا اگرچہ یہ 1971 ہی میں بند ہوگیا تھا لیکن کارکنوں نے اسکے نام کو واجبات کی ادائیگی کیلئے مزید ایک سال تک زندہ رکھا۔‘‘کوہستان ’’مجموعی طور پر 18 سال تک شائع ہوتا رہا اس کا پہلا دور 1953ئ سے 1966ئ نسیم حجازی کی سرپرستی میں گزرا۔دوسرے دور میں 1966ئ سے 1969ئ تک 3 سال یہ کنونشن مسلم لیگ کی ملکیت رہا،تیسرے دور میں اشرف طاہر نے جون 1969ئ سے 1970ئ تک اسے ایک سال چلایا اور چوتھے دور میں یہ جماعت اسلامی کے رانا اللہ داد کے پاس 1970ئ سے 1971ئ تک تقریباً 9 ماہ رہا۔ پارلیمانی دور حکومت میں شائع ہونے والا یہ اخبار مارشل لائ کے دو ادوار دیکھ کر بند ہوگیا۔روزنامہ کوہستان کنونشن لیگ کی تحویل میں دیئے جانے کے کچھ عرصے بعد ایوب خان نے نسیم حجازی کو ایک بار پھر یہ اخبار واپس کرنے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کردیا بیان کرتے ہیں۔ ‘‘بعض کرم فرماؤں کو ہمارے عادات و اطوار ناگوار گزرے اور ایک روز ہمیں غیر مسلح کردیا گیا دراصل بات یہ ہے کہ جب ڈاکو گھر میں گھس آئے تو انسان کواپنے تحفظ کیلئے جو کچھ ملتا ہے اٹھا لیتا ہے۔میرے ہاتھ میں قلم تھا لہذا میں اس سے اپنا دفاع کرتا رہا۔گوکے بعد میں ایک مرتبہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے مجھے‘‘ کوہستان ’’دینے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن میں نے ان سے کہا‘‘جناب یہ بھلا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ پالیسی آپ کی ہو اور قلم میرا ہو’’ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت تھی کہ اس نے میرے حق میں جو کچھ بھی کیا بہتر کیا میں نے جب بھی انگارہ پکڑا اس نے اس انگارے کوپھول بنادیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے روزنامہ‘‘ کوہستان ’’کے زوال کی داستان کچھ اس طرح بیان کی ہے ‘‘ پہلے اسے پاکستان مسلم لیگ نے خریدا جس کی وجہ سے اخبار اپنی انفرادیت کھو بیٹھا اس کے بعد لیگ نے ہاتھ اٹھالیا تو جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے خرید لیا وہ نہ چلا سکے تو اسے کارکنوں کے حوالے کردیا اور چند مہینے چل سکنے کے بعد اخبار بند ہوگیا۔ علم صحافت کے مصنف محمد اسلم ڈوگر‘‘کوہستان ’’کی بندش کا تذکرہ یوں کرتے ہیں ‘‘کوہستان ’’کے بیشتر حصص برسراقتدار جماعت کنونشن مسلم لیگ نے خرید لئے یوں تین سال تک یہ اخبار حکمران پارٹی کی ملکیت رہا 1968 میں جب اس پارٹی کی حکومت ختم ہوگئی تو لیگ نے‘‘ کوہستان’’ کی ملکیت روزنامہ مشرق کے ایک سب ایڈیٹر اشرف طاہر کے سپرد کردی اخبار کے کارکنوں نے اسے پراسرار سودے بازی قرار دیتے ہوئے ہڑتال کی۔یہ ہڑتال ختم ہوگئی مگرا نتظامیہ اورکارکنوں کے مابین کشمکش جاری رہی پھر چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے ‘‘ کوہستان ’’کے احیائ کیلئے مارشل لائ کا ضابطہ 63 جاری کیا۔میجر ابن الحسن‘‘ کوہستان ’’کے ایڈمنسٹریٹرمقرر ہوئے اور15 مئی 1970 کو روزنامہ ‘‘کوہستان’’ نے دوبارہ اشاعت کا آغاز کیا مگر زیادہ عرصہ تک اس کی اشاعت جاری نہ رہ سکی’’۔
ہفت روزہ‘‘ ملت پاک’’
کوہستان’’ نسیم حجازی کی صحافتی زندگی کانکتہ عروج تھا۔ انہوں نے اس اخبار کواپنے خون جگر سے سینچا تھا ایوب حکومت کی طرف سے اس اخبار پرقبضہ کرکے کنونشن لیگ کی تحویل میں دیئے جانے کے بعد1966ئ میں نسیم حجازی کی صحافتی زندگی کااہم باب ختم ہوگیاتھا اورانہوں نے اپنی توجہ پھرسے ناول نگاری کی طرف مرکوز کردی تھی‘‘کوہستان’’ ہاتھ سے چلے جانے کادکھ نسیم حجازی کیلئے ناقابل برداشت تھا وہ‘‘صحافت’’ سے مایوس ہوچکے تھے اوریہ امید نہیں تھی کہ وہ دوبارہ اس میدان میں قدم رکھیں گے البتہ انہوں نے وقتاً فوقتاً مختلف اخبارات وجرائد کیلئے لکھناجاری رکھا وہ آٹھ سال تک اس شعبے سے دور رہے تاہم1974ئ میں انہیں پھر سے اخبار نکالنے کاخیال آیا اورانہوں نے ہفت روزہ‘‘ملت پاک’’ کااجرائ کیا شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سابق چیئرمین مرحوم ڈاکٹر مسکین علی حجازی اپنے ایک غیرمطبوعہ مضمون میں لکھتے ہیں۔ ‘‘جب ‘‘کوہستان’’ گردش دوراں کی نذر ہوگیااورقوم پرسقوط مشرقی پاکستان کاسانحہ گزرگیا تو نسیم حجازی کی حالت مرغ بسمل کی سی تھی۔ نئے اخبار کااجرائ اب بہت زیادہ سرمائے کامتقاضی تھا اوران کے قویٰ بھی مضمحل ہورہے تھے انہوں نے اپنی بساط کے مطابق کچھ سرمایہ جمع کیا اورہفت روزہ‘‘ملت پاک’’ جاری کردیا ۔یہ1974ئ کی بات ہے۔ میں کئی سال پہلے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت(موجودہ ابلاغیات) میں جاچکاتھا ایک دن پیغام ملا کہ‘‘آپ مصروف ہیں تو میں آجاؤں’’ میں نے کہا‘‘ میں ابھی حاضرہوتاہوں’’ ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ‘‘ مسلمانوں کے جوعلاقے کمیونزم سے نکلے ہیں ان میں مسلمانوں کی لازوال شجاعت اورسرفروشی کی کئی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔کاکیشیائ میں داغستان اورچیچنیا کے مسلمانوں نے زاروں کے استبداد کے خلاف جوجہاد کیا اس کی کہانی تم لکھو’’ میں نے ان سے رہنمائی لی، کچھ مطبوعہ معلومات انہی سے مل گئیں، لائبریریاں کھنگالیں بالآخر یہ داستان‘‘اللہ کے سپاہی’’ کے عنوان سے‘‘ملت پاک’’ میں قسط وار لکھنی شروع کی‘‘ملت پاک’’ حالات کی ناسازگاری کے باعث جلد ہی بندہوگیا’’ ہفت روزہ ‘‘ملت پاک’’ میں نسیم حجازی اداریہ خود لکھتے اوربسااوقات کسی اہم موضوع پر ان کی اہم تحریر بھی شامل ہوتی ۔ نسیم حجازی اپنی مصروفیت کے باعث اس ہفت روزہ کوبھی زیادہ وقت نہ دے سکے تاہم مالی پریشانیوں کے باوجود یہ اخبار سات آٹھ ماہ تک باقاعدگی سے نکلتا رہا لیکن یہ صحافت میں اپناکوئی مقام بنانے سے قاصر رہا۔ اس کی سرکولیشن بھی انتہائی محدود تھی یوں اس کاآغاز1974ئ میں ہوا اور حالات کی نامساعدت کے باعث اسی سال بندہوگیا۔
