اقوال

نسیم حجازی کی تحریروں سے منتخب اقتباسات اور اقوال

ہمارا50 سالہ ماضی انسانیت کے ماضی کی تاریخ سےالگ نہیں ہے اور انسانیت کے ماضی کی تاریخ بارہا اس امر کی گوہی دیتی ہے کہ قانون قدرت میں اقوام کےعروج و زوال کے راستے متعین ہیں۔

خارجی اسباب یا اتفاقی حادثات قوموں کی تقدیر پر قادر نہیں۔ قومیں صرف اپنی اندرونی توانائی کے بل بوتے پر زندہ رہتی ہیں اور اندرونی کمزوری کے باعث ہلاک ہو جاتی پہں۔

اگر ہم ایک زندہ متحرک، تندرست و توانا قوم ہیں تو پاکستان ہمیں زندگی کی ہر وہ نعمت عطا کرسکتا ہے جو ایک سعادت مند، راست باز، غیور اور خوددار قوم اپنے وطن کی خاک سے حاصل کرسکتی ہے لیکن اگر ہم یقین اور عمل کی نعمتوں سے محروم ہو چکے ہیں تو ہماری مثال اس درخت کی سی ہے جس کی جڑوں میں دیمک لگ چکی ہے۔

ہم نےایک اسلامی ریاست کی تشکیل کا عہد کیا تھا اور قدرت ہمیں اس مقدس عہد کو پورا کرنے کا موقع دینا چاہتی تھی۔ پھر ایک عظیم نصب العین کے حصول کی جد و جہد کے ہر مرحلے پر تاِیید ربانی ہمارے ساتھ تھی۔ ہماری دعائیں مستجاب ہوئیں، ہماری قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا گیا۔ ہمیں غلامی کی لعنت سے نجات ملی اور ہم آزاد اقوام کی صف میں کھڑے ہو گئے۔

جن قوموں نے اپنی ناشکری یا بدعہدی کے باعث ذلت اور رسوائی کا راستہ اختیار کیا ان میں بنی اسرائیل سرفہرست ہے وہ برسوں سے مصریوں کے آہنی استبداد کی چکی میں پس رہے تھے لیکن غلامی کے بدترین ادوار میں بھی انہوں نے فراعنہ کا مذہب یا مصریوں کی تہذیب قبول نہیں کی۔ اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود وہ بت پرستی کی طرف مائل نہ ہوئے۔

قانون قدرت میں اقوام کے عروج و زوال کی راہیں متعین ہیں۔ یہ عزت ان کے لئے ہے جو فلاح و ترقی کے راستوں پر گامزن ہوتے ہیں اور جو پستی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور بالآخر ذلت کے گڑھوں میں گر جاتے ہیں۔ قانون قدرت میں کسی قوم کا احتجاجی عمل رائگاں نہیں جاتا۔