نسیم حجازی اور بلوچستان
ظفر حجازی
نسیم حجازی کو آج کی نسل زیادہ تر ان کے ناولوں کے حوالے سے جانتی ہے اور تحریکِ پاکستان میں ان کے کردار اور صحافتی میدان میں ان کی جدوجہد سے انہیں پوری طرح آگاہی نہیں۔ چند قسطوں میں اس کا اختصار کے ساتھ ذکر کروں گا۔
نسیم حجازی بلوچستان کیسے پہنچے، ان کا میر جعفر خان جمالی سے تعلق کیسے قائم ہوا، یہ ایک علیحدہ داستان ہے اور اگر ضروری ہوا تو آگے چل کر کہیں اس کا ذکر بھی ہوگا۔
بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کی داستان دراصل دو سرداروں اور دو سر پھرے نوجوانوں کی تحریکِ پاکستان سے عشق کی کہانی ہے۔ نسیم حجازی پر تحقیقاتی مقالے لکھنے والے تمام اصحاب نے ان کی بلوچستان میں سرگرمیوں کا کافی حد تک احاطہ کیا ہے۔ تاہم میں اسے اختصار کے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محدود رکھوں گا۔
بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کا سہرا جن لوگوں کے سر ہے، ان میں دو سردار صاحبان تھے: ایک میر جعفر خان جمالی اور دوسرے نواب محمد خان جوگزئی، اور دو نوجوان تھے: ایک نسیم حجازی اور دوسرے کوئٹہ کے نوجوان مسلم مجسٹریٹ نواب جہانگیر شاہ جوگیزی۔
نسیم حجازی کہا کرتے تھے کہ اگر تحریکِ الحاق کے دوران ہمیں کوئٹہ کے نوجوان مجسٹریٹ جہانگیر شاہ جوگزئی کی مدد حاصل نہ ہوتی تو شاید بلوچستان پاکستان میں شامل نہ ہوتا، اور جہانگیر شاہ جوگزئی کہا کرتے تھے کہ خدا کی قسم اگر نسیم حجازی کوئٹہ میں نہ ہوتے تو بلوچستان کبھی پاکستان کا حصہ نہ بن پاتا۔
نوٹ: بلوچستان میں مسلم لیگ کی بنیاد قاضی عیسیٰ نے رکھی تھی اور ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا تاریخ سے ناانصافی ہوگی۔ وہ مسلم لیگ بلوچستان کے صدر تھے اور بلوچستان میں ہر محاذ پر کانگریس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ مگر انقلابی خیالات کے مالک ہونے کے باعث بلوچ سرداروں پر سخت تنقید کرتے تھے، جس کے باعث ان کے مراسم شاہی جرگہ کے ان سردار صاحبان سے، جنہوں نے بلوچستان کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا، بہت خراب ہو چکے تھے۔ جیسے جیسے الحاق کے فیصلے کا دن قریب آتا گیا، یہ اختلافات بڑھتے گئے، جس کا بہت نقصان ہو سکتا تھا، مگر اس صورتِ حال کو مذکورہ بالا سردار صاحبان اور دو نوجوانوں نے چابک دستی سے سنبھالا اور شاہی جرگہ سے الحاقِ پاکستان کا فیصلہ کروا لیا۔
بلوچستان میں مسلم لیگ کی سرگرمیوں کا آغاز 1938 سے ہو چکا تھا۔ قاضی محمد عیسیٰ، مولانا ظفر علی خان اور نواب مصطفیٰ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں تھے۔ نسیم حجازی بلوچستان میں میر جعفر خان جمالی کے اتالیق کے طور پر ابتدائی طور پر ڈیرہ مراد جمالی میں مقیم تھے، اور جب میر صاحب کوئٹہ آتے تو وہ ان کے ساتھ کوئٹہ آ کر بھی کئی کئی ہفتے قیام کرتے۔ میر صاحب اکثر کچھ دنوں کے لیے کراچی چلے جاتے تو تب بھی نسیم حجازی کوئٹہ آ جاتے۔
نسیم حجازی کہتے تھے کہ وہ دن میرے ہر وقت مطالعہ اور پھر اپنے زیرِ طبع ناولز پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے جغرافیے اور وہاں کے قبائل کی تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے کے دن تھے۔ میر جعفر خان جمالی مجھ سے اکثر ہندوستان میں ابھرتی تحریکِ پاکستان اور بلوچستان کے مستقبل کے متعلق گفتگو کرتے۔ وہ شروع سے ہی قائداعظم سے بہت متاثر تھے اور میری صحبت نے انہیں پاکستان کو اپنا مقصدِ حیات بنانے پر کمر بستہ کیا۔
میر صاحب اکثر کہتے، ’’نسیم! جس پاکستان کی ہم بات کر رہے ہیں، شاید اس پاکستان کو بنانے اور اس میں بلوچستان کو شامل کرنے کے لیے مجھے اور تمہیں ایک دن مستقل کوئٹہ منتقل ہونا پڑے گا‘‘۔ وہ کہتے کہ اگر ہم کوئٹہ سے ایک اخبار نکالیں اور اس کے ذریعے بلوچستان کے پانچ سو لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا لیں تو تب ہی ہم اپنا مقصد آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔
چنانچہ 1942 کے اوائل میں میر صاحب کی تحریک پر میں کوئٹہ منتقل ہو گیا اور میر صاحب نے بھی کوئٹہ میں اپنا قیام بڑھا دیا۔ میں نے اخبار کی اشاعت کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کر دیا۔
میر جعفر خان جمالی بلوچستان کے ممتاز قبائلی سردار تھے اور ان کی رہائش گاہ پر بیشتر سرداروں کی تقریباً ہر شام محفلیں جمتی تھیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ نسیم حجازی تیزی سے بلوچ سرداروں سے متعارف ہوتے گئے، اور دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ نسیم حجازی بلوچ سرداروں، بلوچ معاشرے کے مزاج اور سیاست کو بہت بہتر سمجھنے لگ گئے۔ بلوچ سردار تھوڑے ہی عرصے میں نسیم حجازی سے مانوس اور ان کی بصیرت اور ذہانت سے اتنے متاثر ہو گئے کہ 1942 میں میر جعفر خان جمالی اور دوسرے بلوچ زعما جب مسلم لیگ کے الٰہ آباد میں سالانہ اجلاس کے لیے گئے تو انہوں نے نسیم حجازی کو بھی ساتھ لے جانا ضروری سمجھا۔
اب وقت آ گیا تھا کہ قیامِ پاکستان کی تحریک کو مہمیز دینے کے لیے کوئٹہ سے اس اخبار کی اشاعت بھی شروع کی جائے جس کا تصور بہت عرصے سے میر صاحب کے ذہن میں تھا۔ میر جعفر خان جمالی نے اس اخبار کے تمام اخراجات اپنے ذمے لے لیے اور نسیم حجازی کو پانچ سو افراد کی ایک فہرست بنا کر دی کہ انہیں اخبار مفت مہیا کیا جائے۔ اس اخبار نے کیا معرکے انجام دیے، اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔
یہ وہ وقت تھا جب کوئٹہ کا وہ نوجوان مجسٹریٹ بھی پاکستان کو اپنی منزل بنانے والے قافلے میں شامل ہو گیا، جس کے متعلق نسیم حجازی کہتے تھے کہ اگر ہمیں اس کی رفاقت میسر نہ آتی تو ہمارے لیے بہت سی مشکلات پر قابو پانا شاید ممکن نہ ہوتا۔اس نوجوان مجسٹریٹ کا نام تھا نواب جہانگیر شاہ جوگیزئی۔
بلوچستان کی پاکستان سے الحاق کی کہانی آگے بڑھانے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس معاملے کے تین فریق کانگریس، مسلم لیگ اور انگریزکیا چاہتے تھے۔
ظاہر ہے کانگریس کی کوشش تھی کہ بلوچستان ہندوستان سے الحاق کرے، مسلم لیگ سمجھتی تھی کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہوگا، مگر انگریز کیا چاہتے تھے، اس کو سمجھے بغیر اندازہ نہیں کیا جا سکتا کہ بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کی جدوجہد کرنے والوں نے کیسی چومکھی لڑائی لڑی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی بصیرت سے کانگریس کی ریشہ دوانیوں کو شکست دی تھی بلکہ فرنگی کی اس باریک چال کو بھی ناکام بنایا تھا جس پر اس کا مکمل انحصار تھا۔
انگریز ہندوستان چھوڑنے میں جلدی میں تھا، مگر اس کا بلوچستان چھوڑنے کا ارادہ کبھی بھی نہیں تھا۔ وہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے پیشِ نظر بلوچستان میں موجود رہ کر ایک طرف پاکستان اور ہندوستان کے سر پر بیٹھے رہنے اور دوسری طرف روس کے سر پر سوار ہونے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ بلوچستان میں کانگریس اور مسلم لیگ دونوں کی بھاگ دوڑ اس کے نزدیک محض ایک مذاق یا بچوں کے کھیل کی حیثیت رکھتی تھی، کیونکہ اس کے ذہن میں بلوچستان کے مستقبل کے متعلق اپنی مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے ایک مکمل پلان پہلے ہی موجود تھا۔
اس نے اس پلان کی، اپنی دانست میں، کسی کو بھنک نہیں لگنے دی تھی، مگر حقیقت یہ تھی کہ دو صاحبِ بصیرت نوجوانوں نے، جو بلوچستان کی پاکستان سے الحاق کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے تھے، بہت پہلے ہی انگریز کا ارادہ بھانپ لیا تھا اور میر جعفر خان جمالی، نواب محمد خان جوگیزئی اور چیدہ چیدہ سردار صاحبان کو اس خدشے سے آگاہ کرتے رہتے تھے کہ انگریز ہندوستان کو تو شاید چھوڑ دے، مگر اس کا بلوچستان کو چھوڑنا یقینی نہیں۔
جہانگیر شاہ جوگیزئی انگریز افسران کو اس بارے ٹٹولتے رہتے تھے اور آخرکار وہ انگریز کے منصوبے کی بھنک پانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ جہانگیر شاہ جوگیزئی بتاتے ہیں:
’’دس جنوری 1946 کو پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر فل کوئٹہ، پشین اور چمن کے دورے پر آئے۔ میں نے دورانِ سفر ان سے پوچھا کہ کیبنٹ مشن، جو بمبئی پہنچ چکا ہے، ہندوستان کے متعلق کیا فیصلہ کرنے والا ہے۔ مسٹر فل، جو بڑے بے تکلفانہ موڈ میں تھے، نے بتایا کہ تاجِ برطانیہ ہندوستان سے اپنی فوج نکالنے کا فیصلہ کر چکا ہے اور چاہتا ہے کہ بلوچستان کو اپنی فوج کا مسقر بنا لے تاکہ روس کی فوجی طاقت کا مقابلہ کر سکے۔ ہم سیلون اور برما کی طرز پر بلوچستان کو برٹش بلوچستان کا درجہ دینا چاہتے ہیں‘‘۔
انگریز نے اپنے اس منصوبے کو مکمل راز میں رکھا تھا، چونکہ وہ شاہی جرگہ سے اس بارے فیصلہ آسانی سے حاصل کر سکتا تھا، اسی لیے الحاقِ پاکستان کے لیے جہاں سلہٹ اور صوبہ سرحد کے بارے میں انگریز نے عوامی ریفرنڈم کا فیصلہ کیا، بلوچستان کے بارے فیصلہ کرنے کا اختیار شاہی جرگہ کو دے دیا گیا۔
انگریز کو یقین تھا کہ 3 جولائی 1947 کے شاہی جرگہ کے اجلاس میں وہ اپنی مرضی کا فیصلہ آسانی سے لے لے گا، مگر ان دو نوجوانوں اور سرکردہ سردار صاحبان نے، جنہیں پہلے ہی ادراک ہو چکا تھا کہ انگریز کیا چال چل رہا ہے، بلوچستان کی سیاسی شطرنج پر 29 جون کو وہ چال چلی کہ کانگریس اور انگریز چکرا کر رہ گئے، اور اب ان کے لیے کسی چال چلنے کی گنجائش ہی نہیں رہی تھی، کیونکہ اگلے روز پورے ہندوستان میں اس خبر کی گونج سنائی دے رہی تھی کہ بلوچستان نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ دے دیا ہے۔
نوٹ: 29 جون کی چال کی کہانی بہت دلچسپ ہے، مگر اسے سننے سے پہلے آپ کو 29 جون سے پہلے کی سیاسی کشمکش کی چیدہ چیدہ داستان اس لیے سننی پڑے گی کہ اسے سنے بغیر آپ ان کئی عظیم ہستیوں سے متعارف نہیں ہو سکتے جنہوں نے بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کو مقصدِ حیات بنا لیا تھا۔ ان کا یہاں ذکر نہ کرنا ویسے بھی میرے نزدیک تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا۔
مئی 1947 تک بلوچستان کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کرنے والی کانگریس، تین جون کو بلوچستان میں استصوابِ رائے شاہی جرگہ کے ذریعے ہونے کا اعلان ہوتے ہی آزاد بلوچستان کا نعرہ لے کر میدان میں کود پڑی اور انگریز کی بلوچستان کو برٹش بلوچستان بنانے کی وہ سازش پوری طرح بے نقاب ہو گئی جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ اب اس جنگ میں، جس کا ایک فریق انگریز اور کانگریس اور دوسرا فریق شاہی جرگہ کے سردار صاحبان تھے، میدانِ پنجہ آزمائی کا سخت ترین مرحلہ آ چکا تھا۔
اپریل میں قاضی عیسیٰ کی صدارت میں مسلم لیگ کا جلسہ ہوا، جس میں قاضی عیسیٰ نے سرداروں کو انگریز کے بچے کہا تھا۔ ایک کباڑی اور ٹھیکیدار نے تقاریر کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب تجویز بھی پیش کی تھی کہ ایک سات رکنی کمیٹی قائم ہونی چاہیے جو انگریز کے جانے کے بعد کوئٹہ کی حد تک انتظامی معاملات سنبھالے۔ اس تجویز نے بلوچ سرداروں کے ذہنوں میں ابہام پیدا کر دیا کہ مسلم لیگ چاہتی کیا ہے۔ مخالفینِ پاکستان اب ان لوگوں کے پیچھے بھی صف آرا ہونے شروع ہو گئے تھے۔
انگریز اور اس کے حواریوں نے اس وقت ایک طرف جوگیزئی قبیلے میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور دوسری طرف جمالی قبیلے کے ایک شخص گل محمد خان کو ساتھ ملا کر اوستا محمد میں جلوس نکالا، جس میں جمالی جعفر خان جمالی اور دوسرے سرداروں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ اس پر ایک شخص رستم جمالی نے گل محمد کو گولی مار دی۔ اگلی صبح شہر بھر میں ٹھیکیداروں کی جیپوں پر لگے لاؤڈ اسپیکروں پر میر جعفر خان جمالی کے خلاف نعرے لگائے جا رہے تھے۔ شہر میں سخت اشتعال کا عالم تھا، دکانیں بند کروا دی گئیں اور میکموہن پارک میں لوگوں کا سیلاب امڈ آیا، جس میں قاضی عیسیٰ نے بڑی اشتعال انگیز تقریر کی اور میر جعفر خان جمالی پر گل محمد خان کے قتل کا الزام لگا کر ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
نسیم حجازی نے بھانپ لیا کہ اب انگریز میر جعفر خان جمالی کو گرفتار کر لیں گے، جس کے نتائج تحریکِ پاکستان کے لیے تباہ کن ہو سکتے تھے۔ انہوں نے عبدالخالق کو ساتھ لیا اور فوری طور پر قلات گئے اور خان آف قلات سے صورتِ حال سنبھالنے کی درخواست کی۔ خان آف قلات کی مداخلت سے میر صاحب گرفتاری سے بچ گئے۔
ان دنوں کانگریس شاہی جرگہ کے ممبران کو ایک طرف اس خطرے سے ڈرا رہی تھی کہ پاکستان بننے کے بعد تمہاری سرداریاں ختم ہو جائیں گی، دوسری طرف یہ پراپیگنڈا کر رہی تھی کہ خان آف قلات کے قائداعظم سے گہرے مراسم ہیں اور تمام اختیارات خان آف قلات کے پاس چلے جائیں گے جو پٹھان سرداروں کو کچل دے گا۔ یہ پراپیگنڈا تو بہت عام تھا ہی کہ پاکستان بلوچستان کا مالی بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ پٹھان ووٹر کو کانگریس آزاد بلوچستان کی اور بلوچ ووٹروں کو بلوچوں کی آزاد مملکت کی برکات سمجھا رہی تھی۔
غرض یہ کہ ایک عجیب غدر کا عالم تھا۔ وہ سردار جو اب تک میر جعفر خان جمالی اور نواب محمد خان جوگیزئی کی قیادت میں الحاقِ پاکستان پر یکسو تھے، سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ ان کے لیے اچھا کیا ہے، برا کیا۔ سرداروں کو اب بلوچستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے مستقبل کی فکر پڑ گئی تھی، جس کے متعلق قاضی عیسیٰ کا سخت موقف بہت واضح تھا۔
نسیم حجازی کہتے تھے کہ اس مرحلے پر انڈین سول سروس کا ایک نوجوان ہمارے ترکش کا بہترین تیر، پاکستان کے مورچے کی مضبوط دیوار اور ہماری ڈگمگاتی کشتی کے لیے روشنی کا مینار اور بادبان ثابت ہوا، جو ان دنوں کوئٹہ آیا ہوا تھا۔ اس نوجوان کا نام مسعودکھدر پوش تھا۔ اس نے آگے چل کر ہمیں بہترین مشورے دیے اور رہنمائی کی۔
مسعودکھدر پوش نے مشورہ دیا کہ سردار صاحبان کو مطمئن کرنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے کہ قائداعظم براہِ راست کوئی بیان جاری کریں۔ کوئٹہ کے پوسٹ ماسٹر ابراہیم علی خان کی ذاتی کوششوں سے قائداعظم سے فون پر بات ممکن بنائی گئی، مگر دہلی میں بیٹھا کوئی شخص اس کال کو بار بار ڈراپ کر رہا تھا۔ اس پر نسیم حجازی نے قائداعظم کو تار بھیجا کہ براہِ کرم میر جعفر خان جمالی کے نمبر پر اولین فرصت میں بات کریں، نواب محمد خان جوگیزئی ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں۔
اگلے روز بلوچستان کے پندرہ بااثر سردار میر جعفر خان جمالی کی رہائش گاہ پر فون کے گرد بیٹھے قائداعظم کی کال کا انتظار کر رہے تھے۔ کئی بار قائداعظم کا فون آیا مگر بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ نسیم حجازی نے قائداعظم کو کسی کو یہ کہتے سنا کہ کل دوپہر پھر کوشش کریں گے۔ اگلے روز قائداعظم کا تین بجے فون آیا، مگر پہلے کی طرح پھر کوئی سلسلہ گفتگو منقطع کر رہا تھا۔ پھر کسی نے درمیان میں آ کر کہا کہ آپ قائداعظم کو جو پیغام دینا چاہتے ہیں، مجھے لکھوا دیں، میں پندرہ منٹ میں قائداعظم کا جواب آپ تک پہنچا دوں گا۔
:نسیم حجازی نے فون پر قائدِاعظم کے لیے پیغام لکھوایا
میں نواب محمد خان جوگیزئی کا سیکرٹری بول رہا ہوں، اس وقت نواب صاحب، سردار داؤد، ڈوڈا خان مری، سردار جمال خان بگٹی، سردار غلام محمد خان ترین اور ۔۔۔۔۔۔ میرے ساتھ ہیں اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان شائ اللہ بلوچستان کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوگا۔ یہاں مخالفین افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد بلوچستان کے قبائل کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ان افواہوں کے تدارک کے لیے آپ جلد کوئی بیان جاری کریں‘‘۔
کوئی پندرہ منٹ بعد کوئی صاحب قائدِاعظم کا جواب سنا رہے تھے
مجھے نواب صاحب کے پیغام سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ میں ممبرانِ شاہی جرگہ کا ممنون ہوں اور ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔ میں رائٹر اور دوسری ایجنسیوں کو بیان جاری کر رہا ہوں۔ آج ہی آپ ریڈیو پر یہ بیان سن لیں گے‘‘۔
پھر ریڈیو پر قائدِاعظم کا دوٹوک بیان نشر ہوا کہ میں قبائل کے حقوق اور مفادات کا پورا خیال رکھوں گا۔ اب سردار صاحبان کو اطمینان حاصل ہو گیا تھا، مگر عشق کے ابھی کئی امتحان باقی تھے۔
شاہی جرگے کے اجلاس کی صدارت ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کرتا تھا۔ کانگریس بھی اب آزاد بلوچستان کا نعرہ لگا چکی تھی اور اس نے سردار صاحبان کی وفاداریاں خریدنے کے لیے اپنی تجوریاں کھول دی تھیں، انگریز کانگریس کو استعمال کر رہے تھے۔ ریفرنڈم کے لیے 29 جون کی تاریخ طے ہو چکی تھی۔ انگریز اور کانگریس کے اتحاد نے جون کے دوسرے ہفتے کے اختتام تک پھر ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ پاکستان کے حق میں ایک بار پھر فیصلہ ہونا غیر یقینی لگ رہا تھا۔
سولہ جون کو نسیم حجازی نے تنظیم میں مرکزی قیادت کو بلوچستان میں لمح? فکریہ کے عنوان سے زوردار اداریہ لکھا۔ میر جعفر خان جمالی سترہ جون کو ایک بار پھر بلوچ سرداروں کو نواب محمد خان جوگیزئی، جو شاہی جرگہ کے نائب صدر تھے، کے گرد جمع کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہو گئے۔ محسوس یہ کیا گیا کہ اس وقت قائدِاعظم کی طرف سے بلوچستان کے لیے ایک بار پھر پالیسی بیان بہت ضروری ہے۔
اسی شام نسیم حجازی مسعود کھدر پوش سے ملے اور انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا تو انہوں نے قائدِاعظم کو صورتِ حال سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ انہوں نے میر غلام علی تالپور سے فون پر رابطہ کر کے انہیں قائدِاعظم کو صورتِ حال سے آگاہ کرنے کو کہا۔ میر غلام علی تالپور نے رات نو بجے تک قائدِاعظم سے رابطہ کر کے واپس فون کرنے کا یقین دلایا۔
انہی کے مشورے پر رات نو بجے اہم سرداروں کو پھر جمع کیا گیا تاکہ ان کی موجودگی میں قائدِاعظم کا بیان سنا جائے۔ ٹھیک نو بجے تالپور صاحب نے ٹیلیفون پر بتایا کہ ان کی قائدِاعظم سے بات ہو گئی ہے، لہٰذا اب آپ انہیں خود فون کر لیں۔ رات گیارہ بجے تک قائدِاعظم سے فون پر بات کرنے کی کوششیں ناکام ہوتی رہیں، پھر ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ مسعود کھدر پوش نے فون اٹینڈ کیا، قائدِاعظم دو الفاظ بولتے پھر ٹیلیفون کٹ جاتا۔ جب مسعود کھدر پوش قائدِاعظم، قائدِاعظم کہتے کہتے تھک جاتے تو جہانگیر شاہ فون پکڑ لیتے اور جب وہ تھک جاتے تو نسیم حجازی فون پکڑ لیتے۔ انہیں صرف چند الفاظ سننے میں کامیابی ہوئی۔ اگرچہ گفتگو مکمل نہ ہو سکی تھی مگر حاضرین کو یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ قائدِاعظم اپنے پہلے دیے گئے بیان کا اعادہ کر رہے ہیں۔
اگلے روز سرکاری اخبار "بلوچستان” نے بلوچستان کی سالانہ آمدنی و اخراجات کے اعداد و شمار شائع کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان چھوٹا ملک ہونے کے ناطے بلوچستان کے اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ سرکاری اخبار میں یہ پراپیگنڈا اس بات کا ثبوت تھا کہ اب انگریز نقاب اتار کر میدان میں اتر آیا ہے۔
اتفاق سے انہی دنوں مشہور ماہرِ مالیات زاہد حسین، جو بعد میں اسٹیٹ بینک کے گورنر مقرر ہوئے، کوئٹہ آئے ہوئے تھے۔ نواب محمد خان جوگیزئی نے ایک جلسہ منعقد کروا کر ان سے پاکستان کے مالی طور پر مضبوط ملک ہونے پر تقریر کروائی اور ان سے پمفلٹ "پاکستان اور اقتصادیاتِ بلوچستان” لکھوا کر کوئٹہ میں تقسیم کروایا۔
(دلچسپ بات یہ ہے کہ اجلاس میں ایک سردار نے زاہد حسین سے پوچھا کہ کیا پاکستان کے پاس نوٹ چھاپنے کی اپنی مشین ہوگی، جس کا انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس پر اس سردار نے باقی سرداروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب پاکستان کے پاس نوٹ چھاپنے کی اپنی مشین ہوگی تو پھر کانگریس کا یہ پراپیگنڈا بالکل غلط ہے کہ پاکستان بلوچستان کو ضرورت کے مطابق پیسے نہیں دے سکے گا۔ یوں سردار صاحب نے بلوچستان کو پیسے کی کمی کا جھگڑا ہی ختم کر دیا)۔
اکیس جون کو نسیم حجازی کے مشورے پر نواب محمد خان جوگیزئی نے ٹاؤن ہال میں سرداروں کی ایک غیر رسمی میٹنگ بلائی، اور پروگرام یہ تھا کہ سرداروں کے مشورے پر نواب صاحب بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کریں گے، مگر کانگریس کو اس پروگرام کی بھنک پڑ گئی۔ جب میٹنگ شروع ہوئی تو وہاں اکھنڈ بھارت کے حامیوں کی تعداد پاکستان کے مجاہدوں سے زیادہ تھی۔ اس ماحول میں ابتدا میں نیشنل پارٹی اور کانگریس کے حامیوں نے تندو تیز تقریریں کیں، جن کا جواب میر جعفر خان جمالی نے بھی اسی تندو تیز لہجے میں دیا۔ اس اثنا میں مسلم لیگ کے رضاکار بھی جلسے میں پہنچ گئے۔ ماحول میں تناؤ بڑھتا دیکھ کر نسیم حجازی نے اٹھ کر تقریر کا آغاز کیا اور ماحول کو قدرے ٹھنڈا کیا۔
فیصلہ یہ ہوا کہ ایک تو نواب صاحب اور میر صاحب الحاقِ پاکستان کے بیان پر بااثر سرداروں کے دستخط کرائیں گے، جسے مناسب موقع پر شائع کیا جائے گا، اور دوسرے نواب صاحب لوکل ایسوسی ایشن، جس کے ارکان کی تعداد بارہ تھی اور جس میں اکثریت واضح طور پر الحاقِ پاکستان کی حامی تھی، کے اجلاس میں پاکستان کے حق میں قرارداد پاس کرائیں گے۔
23 جون کو نواب صاحب نے یہ قرارداد پیش کی تو بالکل غیر متوقع طور پر ایسوسی ایشن کی کمیٹی نے نواب صاحب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کر دی۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ انگریز خاموشی سے 29 جون کے روز پاکستان کے حامیوں کو شکست دینے کے لیے کام کر رہا تھا۔
(نسیم حجازی نے مجھے ایک بار بتایا کہ لوکل ایسوسی ایشن کے اجلاس میں پیش آنے والی صورتِ حال کے بعد ہماری حالت ایک بوکھلائے ہوئے لشکر کی تھی، مگر پھر ہم نے اپنے حواس پر قابو پایا اور جوابی اقدامات پر غور کرنا شروع کیا۔ ایک طرف مسعود کھدرپوش نے قائدِ اعظم کو خط لکھ کر ایک بار پھر سترہ جون والی فون پر کی گئی درخواست کے حوالے سے بلوچستان کے بارے میں تازہ بیان جاری کرنے کی استدعا کی، اور دوسری طرف میں، مسعودکھدر پوش اور جہانگیر شاہ جوگیزئی نے نواب جوگیزئی اور جمالی صاحب سے اصرار کیا کہ صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے فوری طور پر الحاقِ پاکستان کے حق میں بیان جاری کریں)۔
نواب جوگیزئی بیان دینے کے لیے تو تیار ہو گئے، مگر ان کا اصرار تھا کہ یہ بیان اسی وقت شائع کیا جائے جب شاہی جرگہ کے دیگر ارکان بھی اس پر دستخط کر دیں۔ میں نے مختصر بیان لکھا اور نواب صاحب اور جمالی صاحب نے اس پر دستخط کر دیے۔ نواب صاحب کو ہم نے یہی تاثر دیا تھا کہ یہ بیان اسی وقت شائع ہوگا جب وہ شاہی جرگہ کے ارکان کی تائید حاصل کر لیں گے، مگر چونکہ وقت بہت تیزی سے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا، میں نے اخبار کے عملے کو بیان شائع کرنے کے لیے ضمیمے کی تیاری کی ہدایت کی، اور میں اور مسعودکھدر پوش رات گئے نواب صاحب کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ انہیں بیان کی فوری اشاعت پر قائل کرنے کی ایک اور کوشش کریں۔
میر جعفر خان جمالی، جو اس روز کراچی کے لیے روانہ ہو گئے تھے، کی بیان کی فوری اجرأ پر رضامندی ہم پہلے ہی حاصل کر چکے تھے۔ نواب صاحب سو رہے تھے۔ جہانگیر شاہ باہر تشریف لائے؛ وہ پہلے ہی اس خیال کے حامی تھے کہ اگر بیان فوری شائع نہ ہوا تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ جہانگیر شاہ نے اپنی ذمہ داری پر بیان شائع کرنے کی اجازت دے دی۔
اگلا روز نواب محمد خان جوگیزئی کے لیے سخت برہمی کا دن تھا اور بہت خوشی کا بھی۔ برہم اس لیے کہ نوجوانوں نے ان کی اجازت کے بغیر بیان شائع کر کے ان کی حکم عدولی کی تھی، جس پر کئی سردار، جو پاکستان کے حامی تھے، ان سے ناراض بھی ہو رہے تھے کہ بیان میں ان کا نام شامل کیوں نہیں کیا گیا۔ اخبار کا ضمیمہ شہر میں تقسیم ہو چکا تھا اور شہر بھر میں ہر طرف نواب صاحب اور جمالی صاحب کے بیان کا چرچا تھا۔
پھر وہ دن نواب صاحب کے لیے خوشی کے دن میں اس وقت ڈھل گیا کہ جب وہ اسی برہمی کی کیفیت میں بازار کی طرف نکلے تو نسیم حجازی اور عبدالغفور درانی کی قیادت میں مسلم لیگ کے بہت سارے کارکن انہیں پھولوں سے سجی ہوئی کار میں سوار کر کے شہر میں جلوس نکالنے کے لیے لے گئے۔ انہوں نے بضد نواب صاحب کو گاڑی میں سوار کیا اور جلوس کو سارے شہر میں گھمایا گیا۔ اس دن شہر کی فضا بالکل بدلی نظر آئی اور جہاں سے جلوس گزرتا، لوگ پاکستان زندہ باد، نواب جوگیزئی زندہ باد اور میر جعفر خان جمالی کے نعرے لگاتے۔
نوجوانوں کی بیان شائع کرنے والی حکم عدولی نے کمال کر دیا تھا، مگر نواب صاحب کو وقفہ وقفہ سے اپنی حکم عدولی اور سرداروں کی ناراضگی یاد آ رہی تھی۔ آخرکار جلوس کے اختتام پر حکم عدولی کے مرکزی مجرم نسیم حجازی مسعود کھدر پوش کے ساتھ نواب صاحب کے پاس حکم عدولی کی سزا سننے کے لیے پیش ہو گئے۔
نواب صاحب نے مسعود کھدر پوش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان(نسیم حجازی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) نوجوانوں کے ہاتھ جو معاملہ آ جاتا ہے، اسے بگاڑ دیتے ہیں۔ اب کئی سردار مجھ سے اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے نام کیوں نہیں شائع ہوئے۔ مسعود کھدر پوش نے بیان جلد شائع کرنے کی اہمیت پر دلائل دینا چاہے تو نواب صاحب نے نسیم حجازی کی طرف اشارہ کر کے بات کاٹ دی کہ لیکن یہ مجھ سے وعدہ کر کے گیا تھا کہ ابھی یہ اعلان شائع نہیں ہوگا۔ مسعود کھدر پوش نے کہا، نواب صاحب آپ قوم کے لیڈر ہیں اور نسیم حجازی ایک جانباز سپاہی ہے۔ اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ نسیم حجازی نے بُری نیت سے حکم عدولی کی ہے تو ڈنڈا اٹھائیے، اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس نے یہ کام نیک نیتی سے کیا ہے اور اس کے نتائج بھی جو آج آپ نے دیکھ لیے ہیں، اچھے نکلے ہیں تو حکم عدولی پر اسے داد دیجیے۔
ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ جہانگیر شاہ جوگیزئی آ گئے اور انہوں نے نواب صاحب سے کہا کہ نسیم حجازی رات گئے آپ کی اجازت لینے آئے تھے مگر آپ سو چکے تھے۔ میں نے آپ کو بے آرام کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنی ذمہ داری پر یہ اجازت میں نے دی تھی، چونکہ میرا بھی یہی خیال تھا کہ بیان آج ہی شائع ہو جانا چاہیے۔ آپ کا مجرم نسیم حجازی نہیں، میں بھی ہوں۔
’’تم سب بڑے نالائق ہو‘‘، نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ پھر انہوں نے بیان کی ایک اور نقل، جس پر کئی دوسرے سرداروں کے دستخط تھے، نسیم حجازی کو دیتے ہوئے کہا کہ تم تھوڑا اور انتظار کر لیتے تو اچھا ہوتا۔ اب جلد ایک اور ضمیمہ نکالو، ورنہ یہ سارے سردار مجھ سے ناراض رہیں گے۔
پچیس جون کو باقی سردار صاحبان کے الحاقِ پاکستان کے اعلان کے متعلق روزنامہ تنظیم کا ضمیمہ شہر میں تقسیم ہو چکا تو کانگریس کے ایک ہمنوا اخبار نے بھی ایک ضمیمہ شائع کر دیا کہ گزشتہ روز نواب محمد خان جوگیزئی کا بیان ان کی مرضی کے بغیر شائع کیا گیا تھا۔ اس سے ایک بار پھر سرداروں میں کنفیوژن پھیل گئی۔ اس پر مسعود کھدر پوش نے نواب صاحب کی طرف سے ایک زوردار بیان تحریر کیا جس میں نواب صاحب نے کانگریس کو کھل کر لتاڑا اور اشارہ دیا کہ کانگریس سرداروں کی وفاداریاں پیسے کے زور پر خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسی روز قائداعظم کا بلوچستان کے متعلق ایک طویل بیان بھی آ گیا جو ریڈیو پر بھی نشر ہوا، جس کا بلوچستان میں پاکستان کے مجاہدوں کو کئی دنوں سے شدت سے انتظار تھا۔ یہ بیان کافی طویل تھا، جس میں قائداعظم نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سیاسی، جغرافیائی اور اقتصادی نقط نگاہ سے بلوچستانی عوام کا مفاد اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ پاکستانی دستور ساز اسمبلی میں شامل ہوں، کیونکہ ان کی تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کے لیے صرف پاکستان ہی بلوچستان کا مددگار و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بلوچستان کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان میں تمام طبقوں اور مفادات سے انصاف ہوگا، اور مجھے امید ہے کہ ہمارے دشمنوں نے جو گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے وہ بلوچستان میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
اس بیان کو مشتہر کرنے کے لیے روزنامہ تنظیم نے ایک اور ضمیمہ شائع کیا اور مسلم لیگ کے رضاکار رات گئے تک یہ ضمیمہ شہر میں لوگوں میں تقسیم کرتے رہے۔
مگر پھر رات کو مسعود کھدر پوش اور جہانگیر شاہ جوگیزئی اپنے اپنے ذرائع سے دو اہم اور تشویشناک خبریں لائے۔ مسعود کھدر پوش یہ خبر لائے کہ اے اے جی مسٹر جعفری 29 جون کو وائسرائے کا تین جون والا اعلان سرداروں کو سنا کر اجلاس 3 جولائی تک ملتوی کر دیں گے، جبکہ جہانگیر شاہ یہ خبر لائے کہ دو جولائی کو ایک بہت بڑی رقم دہلی سے کوئٹہ پہنچنے والی ہے جو کانگریس کی طرف سے سردار صاحبان میں تقسیم کر کے ان کی وفاداریاں خریدی جائیں گی تاکہ شاہی جرگہ میں رائے شماری کے نتائج آزاد بلوچستان کے حق میں آئیں۔ ان دو خبروں نے ان خدشات کو تقویت دی کہ 29 جون سے تین جولائی کے درمیان انگریز اور کانگریس مل کر الحاقِ پاکستان کی تحریک کو پیسے کے زور پر شکست دینے کا مکمل منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔
نسیم حجازی نے یہ خبریں سن کر کہا "یہ انگریز ہمارے ساتھ اتنے ڈرامے کر چکے ہیں کہ ہم تھک گئے ہیں، اب بلوچستان کی اسٹیج پر آخری ڈرامہ ہماری طرف سے ہوگا”۔
اب انتظار اس بات کا تھا کہ جعفر خان جمالی کراچی سے واپس کوئٹہ پہنچ جائیں تاکہ ان کی منظوری سے اس ڈرامے کے اسکرپٹ کو حتمی شکل دی جائے، جس کا خاکہ نسیم حجازی کے ذہن میں تھا۔ اگلے روز مسعود کھدر پوش، جہانگیر شاہ جوگیزئی اور نسیم حجازی مکمل رازداری سے اس ڈرامے کے اسکرپٹ پر غور و خوض کرتے رہے اور نواب صاحب کو بھی بھنک نہ لگنے دی کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔
ستائیس جون کو میر جعفر خان جمالی بھی کراچی سے کوئٹہ پہنچ گئے۔ باہمی مشاورت سے طے پایا کہ پہلے نسیم حجازی نواب محمد خان جوگیزئی سے بات کریں گے، نواب صاحب کے ردِعمل کی روشنی میں اس کے بعد جہانگیر شاہ جوگیزئی بات کریں گے اور اگر اس کے بعد بھی ضرورت پڑے گی تو مسعود کھدر پوش اور میر جعفر خان جمالی نواب صاحب کو اس منصوبے پر عمل کرنے پر قائل کریں گے، جس پر عمل کرنا انگریز اور کانگریس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہو گیا تھا۔
نسیم حجازی نواب محمد خان جوگیزی کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ ان کے پاس مصدقہ خبر ہے کہ مسٹر جیفرے 29 جون کو شاہی جرگہ میں رائے شماری نہیں کروائیں گے بلکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا تین جون والا بیان پڑھ کر سردار صاحبان کو معاملے پر غور کرنے کے لیے وقت دینے کے بہانے چند روز کے لیے اجلاس ملتوی کر دیں گے، اور اس دوران سرداروں میں بھاری رقوم جو دہلی سے پہنچنے والی ہیں، تقسیم کر کے انہیں خریدنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سازش کو ناکام صرف اسی طرح بنایا جا سکتا ہے کہ مسٹر جیفرے کی 29 جون کو اجلاس ملتوی کرنے کی کوشش ناکام بنا دی جائے اور نواب صاحب اٹل انداز میں مسٹر جیفرے کو کہیں کہ فیصلہ آج ہی ہوگا۔ چند اور سردار اس مطالبے کی پرزور تائید کریں، کسی صورت میں 29 جون کے اجلاس کو ملتوی نہ ہونے دیا جائے۔ ٹاؤن ہال کے باہر زیادہ سے زیادہ مسلم لیگ کے رضاکاروں کو جمع کیا جائے تاکہ اجلاس میں جانے والے سرداروں کو دیکھ کر ان کے لیے زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا کر ماحول کو گرمائیں، اور دورانِ اجلاس بھی مسلسل نعرہ بازی کرتے رہیں تاکہ اندر مسٹر جیفرے کو عوامی دباؤ کا بھی احساس ہو۔
نواب صاحب نے سارے منصوبے کی تفصیلات غور سے سنیں اور کہا کہ تم درست کہتے ہو، اس کے علاوہ اب کوئی چارہ ہی نہیں، مگر اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ اجلاس شروع ہونے تک کسی کو بھنک نہ پڑے کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔
نسیم حجازی خوشی خوشی واپس پہنچے اور باقی ساتھیوں کو بتایا کہ جس بات کو ہم نواب صاحب کو سمجھانا بہت مشکل سمجھ رہے تھے، وہ معاملہ نواب صاحب ہم سے کہیں بہتر سمجھتے ہیں۔
اس کے بعد میر جعفر خان جمالی اور نواب محمد خان جوگیزئی نے اپنے بااعتماد سردار ساتھیوں سے ایک ایک کر کے ملاقاتیں شروع کر دیں اور اس تاکید کے ساتھ کہ وہ منصوبے کو راز میں رکھیں گے، انہیں بتایا کہ انہوں نے اس روز کیا کرنا ہے۔ جن لوگوں کو پہلے مرحلے میں اعتماد میں لیا گیا، ان میں سردار محمد خان ترین، عبدالغفور درانی، سردار دودا خان اور سردار عثمان خان جوگیزئی شامل تھے۔ پھر رازداری قائم رکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ دن بھر آہستہ آہستہ یہ دائرہ پھیلایا جاتا رہا۔ 28 جون اور 29 جون کی درمیانی رات، نصف شب تک، بڑی تعداد میں سردار صاحبان کو اعتماد میں لیا جا چکا تھا۔
29 جون کی صبح نسیم حجازی اور عبدالغفور درانی کی کوششوں کے باعث ٹاؤن ہال کے باہر مسلم لیگ کے کارکنوں کا جمِ غفیر جمع تھا۔ کانگریس کے حامی تعداد میں کم تھے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اس اجلاس میں صرف لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا فرمان پڑھ کر اجلاس ملتوی ہو جائے گا اور اصل کھیل بعد میں ہوگا۔ مسلم لیگ کے کارکن ہر سردار کی آمد پر اس کے لیے زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
ٹھیک دس بجے مسٹر جیفرے اجلاس کی صدارت کے لیے ٹاؤن ہال پہنچے۔ مسٹر جیفرے نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا تین جون والا بیان پڑھنا شروع کیا۔ ابھی وہ اعلان مکمل پڑھ نہ پائے تھے کہ نواب محمد خان جوگیزی اٹھے، تن کر کھڑے ہو کر مسٹر جیفرے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں، ہمیں فیصلہ کرنے کے لیے مزید وقت نہیں چاہیے، چونکہ شاہی جرگہ کے ارکان فیصلہ کر چکے ہیں کہ بلوچستان کا نمائندہ پاکستان کی مجلسِ دستور ساز میں بیٹھے گا۔ پھر نواب صاحب نے ہال میں بیٹھے سردار صاحبان سے مخاطب ہو کر کہا کہ جو سردار اس فیصلے کے خلاف ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں۔
اس پر فوراً سردار دودا خان اٹھے اور پاکستان کے حق میں جذباتی انداز میں تقریر شروع کر دی۔ پھر باقی سردار ایک ایک کر کے اٹھنا شروع ہو گئے اور دونوں ہاتھ لہرا لہرا کر نواب صاحب کی بات کی تائید کرنے لگے۔ صرف چار سردار صاحبان تھے جنہوں نے پوچھا کہ کیا یہ قلات اور بلوچستان کا سوال ہے۔ مسٹر جیفرے نے جواب دیا کہ اس کا قلات سے کوئی تعلق نہیں، یہ پاکستان اور ہندوستان کا معاملہ ہے۔ چاروں سرداروں نے کہا کہ ہمارا عہد خان آف قلات سے اس کا ساتھ دینے کا تھا، اور اگر اس فیصلے کا قلات سے کوئی تعلق نہیں تو ہم بھی اپنا ووٹ پاکستان کو دیتے ہیں۔
یوں مکمل اتفاقِ رائے سے اراکینِ شاہی جرگہ نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا اور انگریز اور کانگریس کی اجلاس ملتوی کرنے کی سازش کی مکمل بیخ کنی کر دی۔
مسٹر جیفرے کے لیے سب کچھ انتہائی غیر متوقع اور پریشان کن تھا۔ اس نے شکست خوردہ انداز میں کہا کہ اچھا، ہم وائسرائے کو تار بھیج دیں گے کہ شاہی جرگہ نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ نسیم حجازی ہال سے بھاگتے ہوئے باہر آئے اور پاکستان زندہ باد، قائدِ اعظم زندہ باد کے نعرے لگا کر باہر کھڑے ہجوم کو شاہی جرگہ کے پاکستان کے حق میں فیصلے کی خوشخبری سنائی۔ ہجوم نے بھی پاکستان زندہ باد، قائدِ اعظم زندہ باد اور سردار صاحبان کے نام لے لے کر زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اس روز کوئٹہ میں ہر طرف ایسے ہی نعروں کی آواز گونج رہی تھی۔
اس رات سوا گیارہ بجے ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے اخبارات کے دفاتر میں نصب ٹیلی پرنٹرز حرکت میں آئے اور شاہی جرگہ کے فیصلے Baluchistan votes for Pakistan: بارے تاریخی خبر ان الفاظ کے ساتھ فلیش کی
Repeat itروزنامہ انجام دہلی کے مدیر اقبال احمد صدیقی نے فون پر قائدِ اعظم کو خبر سنائی تو قائدِ اعظم نے پہلے تو بے یقینی کے عالم میں کہا، چونکہ دہلی میں بھی یہ خبر عام ہو چکی تھی کہ شاہی جرگہ انتیس جون کو نہیں بلکہ تین جولائی کو فیصلہ کرے گا) اور دوبارہ خبر سن کر کہا،Weldone Baluchistan جس کا اردو ترجمہ انجام کے مدیر نے ’’شاباش بلوچستان‘‘ کیا اور اسی شہ سرخی سے خبر شائع کی۔
اب سارے ہندوستان میں بلوچستان کے فیصلے کی گونج پھیل چکی تھی۔ بلوچستان کے چند بیدار مغز نوجوانوں اور سردار صاحبان نے انگریز اور کانگریس کو آخری لمحات میں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ اب ان کی کسی مزید سازش کی نہ گنجائش رہی تھی اور نہ ہی وقت۔ بلوچستان پاکستان کا حصہ بن چکا تھا۔
میں نے اختصار کے تقاضوں کے پیش نظر بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی داستان کو بہت مختصر اور کانٹ چھانٹ کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بہت سارے دلکش واقعیات ایسے ہیں جنہیں لکھنے کے لیے بہت صفحات چاہیں۔ ان میں سے چند کا کہیں آگے چل کر شاید مختصراً ذکر کرنا بھی پڑے گا۔
اس داستان سے آپ کو یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ:
١۔ بلوچستان کے سردار صاحبان ہمیشہ اس شک و شبہ کا شکار رہے کہ پاکستان میں شامل ہونے کے بعد ان کا صدیوں پرانا قبائلی اور سماجی نظام، جس میں سرداروں کو خاص اہمیت و مرتبہ حاصل تھا، خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
٢۔ انہوں نے الحاق پاکستان کا فیصلہ صرف اور صرف قائداعظم کی ذات پر اعتماد کرتے ہوئے اور ان کی یقین دہانیوں پر کہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا، کیا تھا۔
٣۔ الحاق پاکستان کے فیصلے میں سوائے اس کے کہ مسلم لیگ کے کارکن و رضاکار مئی جون 1947 میں سردار صاحبان کے گرد جمع ہوتے نظر آتے ہیں، بلوچستان مسلم لیگ کی مقامی تنظیم کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔
اس فیصلے کی بڑی اہمیت اور خصوصیت یہ تھی کہ غیر متوقع طور پر شاہی جرگہ نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا، جس کے باعث بعد میں خاران اور قلات کے پاکستان سے الحاق کی راہ ہموار ہوئی۔
